آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Politics

بی ایچ یو پہنچنے سے قبل راج ببر گرفتار

raj babbar
Written by Taasir Newspaper

وارانسی 24 ستمبر (ایجنسی): بنارس ہندو یونیورسٹی میں سنیچر کی آدھی رات کے بعد طالبات پر لاٹھی چارج اور طلبا کے پرتشدد مظاہرہ کی وجہ سے یہاں کا سیاسی ماحول پوری طرح گرم رہا۔ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے بی ایچ یو احاطہ کو پولس چھاﺅنی میںتبدیل کردیا گیا۔ اتوار کی صبح سے ہی برلا ہاسٹل کے سامنے دھرنا پربیٹھے طلبا میں سے 16کوپولس نے شام تقریباََ 5 بجے گرفتار کرلیا۔ دوسری طرف یونیورسٹی میں دو اکتوبر تک چھٹی کااعلان ہونے کے بعد انتظامیہ نے ہاسٹل خالی کرانا شروع کردیا ہے۔ شام تک کئی ہاسٹلوں سے طلبا اپنے اپنے گھروں کیلئے روانہ ہوچکے تھے۔ وہیں طلبا تحریک کی حمایت میں وہاں پہنچے ریاستی کانگریس صدر راج ببر بی ایچ یو جاتے وقت گرفتار کرلئے گئے۔ اس دوران کانگریس حامیوں اور پولس کے درمیان جم کر دھکا مکی ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے ریاستی صدر راج ببر کے پہنچنے کی اطلاع پر انتظامی اہلکار انہیں روکنے لگ گئے۔ راج ببر جیٹ ایئرویز کے طیارہ سے بابت پور ہوائی اڈہ پہنچے تو انہیں وہیں پر روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس کو لے کر کانگریس کے کارکنان اور پولس کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ پولس کی کوششوں کو ناکام کرتے ہوئے کانگریس کارکنان راج ببر اور پی ایل پنیا کو لے کر بی ایچ یو کی طرف بڑھے۔ انہیں شہر میں داخل ہونے سے پہلے گلٹ بازار میں پولس فورس نے روک لیا ۔اس کے احتجاج میں کانگریس کارکنان اور طلبا نے وہیں چکہ جام کردیا۔ کچھ دیر بعد کانگریس کارکنان دباﺅ بناتے ہوئے راج ببر کو لے کر بی ایچ یو کی جانب بڑھ گئے۔ مگر پولس نے راج ببر کو بی ایچ یو پہنچنے کے پہلے ہی گرفتار کرلیا۔ واضح ہوکہ سنیچر کی رات تقریباََ ایک بجے ویمنس کالج کی طالبات پر دوبارہ ہوئے لاٹھی چارج کے بعد طلبا تحریک کے زیادہ مشتعل ہوجانے کی اطلاع کے بعد معاملے کوسنجیدگی سے لیتے ہوئے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ڈویژنل کمشنر نتن رمیش گوکرن کو بات چیت کیلئے بی ایچ یو بھیجا۔ انہوں نے ویمنس ہاسٹل میں تین وارڈن سے معاملے کے سلسلے میں تفصیلی جانکاری لی اور ان کے بیان درج کئے۔ اس سے قبل کمشنر اور آئی جی علی الصبح احاطہ کا دورہ کرچکے تھے۔ اتوار کو تقریباََ ڈیڑھ بجے وہ بی ایچ یو پہنچے اور وائس چانسلر پروفیسر گریش چندر ترپاٹھی کی موجودگی میں طالبات سے بات چیت کی۔ ادھر اتوار کی صبح سے ہی برلااور بروچا ہاسٹلوں کے سامنے طلبا امن مارچ نکال کر ویمنس کالج تک جانے کی اجازت مانگ رہے تھے۔ دہشت ، آگ زنی اور خوف وہراس بھری رات بیتنے کے بعد طلبا کا ہجوم پرامن اور جمہوری طریقے سے اپنی باتیں رکھنا چاہتا تھا۔ موقع پر موجود پولس افسران سے وہ امن مارچ میں ساتھ دینے کی اپیل کررہے تھے۔ شام ہوتے ہوتے طلبا کی تعداد بڑھتی ہوئی دیکھ کر پولس نے دھرنا کو ختم کراکر تمام طلبا کو ہاسٹل میں جانے کیلئے کہا۔ مگر طلبا نے ان کی بات نہیں مانی ۔ پولس کی اپیل کی کھلی مخالفت کرنے والے 16طلبا کو گرفتار کرلیا گیاہے اور بی ایچ یومیں سیکوریٹی فورس کو مزید بڑھادیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر کاشی ودیاپیٹھ اور سمپرنانند سنسکرت یونیورسٹی سمیت ضلع کے سبھی کالجوں کوبھی دو اکتوبر تک بند کردیا ہے۔ سنیچر کو پوری رات آگ زنی ، پتھراﺅ اور سیکوریٹی دستوں کے ذریعہ لاٹھی چارج کا سلسلہ جاری رہا۔ رات دو بجے برلا ہاسٹل کے سامنے طلبا کو پولس نے اندر بھگایا اس کے بعد سیکوریٹی دستوں نے پوری رات مختلف ہاسٹلوں میں سرچ آپریشن چلایا۔

About the author

Taasir Newspaper