اسلامی پردہ اور جدید سائنس

0
20

انجینئر شاہ عظمت اللہ ابوسعید
ڈائرکٹر: سیو انوارنمنٹ آف انڈیا
اسلام مکمل ضابطہ¿ حیات ہے، اس کے جملہ قوانین فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں اورانہیں قوانین کی پاسداری میں انسانیت کی فلاح و صلاح کے راز پوشیدہ ہیں۔ ہر مردو عورت کے لئے انفرادی طور پر قوانین مقرر فرمایا اور اسی کو مشعل راہ بنا کر زندگی گزارنے کا درس دیا ہے۔
اسلام کی نظر میں عورت قابل احترام چیز ہے، وہ عورت جو دورِ جاہلیت میں بے وقعت تھی، نہ شوہر کی نگاہ میں اس کی کوئی حیثیت تھی، نہ سماج و معاشرہ میں اس کی کوئی عزت و وقار تھا، وہ سجا سنوار کر بازاروں میں دکھائی جاتی تھی اور فروخت کی جاتی تھی،نہ اس کی عزت کا کوئی محافظ تھا نہ اس کی عصمت کا کوئی پاسدار۔
اسلام آیا اس کے لئے ضابطہ¿ حیات لایا حقوق دیئے اور معاشرے میں عزت کا مقام دیا اور گھر کی زینت قرار دیا۔ دورِ جاہلیت کی تمام ظالمانہ رسموں کا خاتمہ کیا اور شرعی اصول ضوابط کی روشنی دے کر زندگی گزارنے کا سلیقہ دیا، انھیں اصولوں میں سے ایک اصول اسلامی پردہ ہے جو عورت کی عزت و آبرو کا محافظ کو نگہبان ہے۔اگر عورتیں ان قانون پر عمل کرلیں تو ذلت و پستی اور رسوائی و بے حیائی کی عمیق تاریکی سے نکل کرعزت و احترام کی مالکہ بن جائیں۔ چنانچہ خدا وند قدوس پردہ کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
و قرن فی بیوتکن ولا یخرجن بشرج الجاہلیہ الاولیٰ
اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو، اور بے پردہ نہ ہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔
اگلی جاہلیت س مراد قبل اسلام کا زمانہ ہے، اس زمانے میں عورتیں اتراتی ،نکلتی تھیں، اپنی زینت و محاسن کا اظہار کرتی تھیں کہ غیر مرد دیکھیں، لباس ایسا پہنتی تھیں جس سے جسم کے اعضاءاچھی طرح نہ ڈھکیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہم عورتوں پر احسان فرمایا کہ ہمیں پردے کا حکم دیا اور اس کی متعدد طریقے سے تاکید کی ہے اور اس کے فوائد اور نقصانات کو ذکر کیا ہے۔ بلاشبہ وہ حکیم مطلق ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ لہٰذا ہم ہم عورتوں کو چاہئے کہ بلاشک و شبہ اور بلا چوں و چراں پردے کو لازم پکڑلیں اور اپنی عزت و عظمت کو بچالیں۔
اسلامی بہنو! جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہم کو پردے کا حکم دیا اسی طرح ہمارے میٹھے مدنی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہم کو اس پر کاربند رہنے کا حکم دیا ہے اور فوائد و منافع کو سمجھایا ہے ۔ آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے، عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے، جس وقت وہ بے پردہ ہوکر نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانک جھانک کر دیکھتا ہے۔یعنی عورت جب بے پردہ ہوتی ہے تو شیطان کی نگاح اسے بھلی کر دیتا ہے وہ خواہ مخواہ تکتے ہیں۔ مثل مشہور ہے کہ پرائی عورت اور اپنی اولاد اچھی معلوم ہوتی ہے اور پرایا مال اور اپنی عقل زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔اور یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ بعض لوگ اپنی خوبصور ت بیویوں سے متنفر اور دوسری بدصورت عورتوں پر فریفتہ ہوجاتے ہیں۔ ایک اور مقام پر اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ لعنت کرے دیکھنے والے اور اس پر جو دیکھی جائے۔
میری بہنو! غور کا مقام ہے کہ جب عورتیں بے پردہ ہو کر نکلتی ہیں، اپنا آپ اپنے کو دکھاتی ہیں بلکہ ان کا شوق ہوتا ہے کہ مرد انہیں دیکھیں، اس پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے اور جس پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے وہ اللہ کی بارگاہ کا دھتکارا ہوتا ہے۔ جبکہ مومنہ کی شان تو یہ نہیں ہونی چاہئے اسے کوئی بھی مرد دیکھے۔ سچی کنیز فاطمہؓ بننے کی ضرورت ہے۔
حضرت عمران بن حصین ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ میری بیٹی فاطمہ ؓ بیمار ہے کیا تم عیادت کے لئے میرے ساتھ نہ چلو گے؟عرض کیا یا رسول اللہ، یہ تو بڑی سعادت کی بات ہے آپ مجھ کو ساتھ لے جا رہے ہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ میں سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کاشانہ¿ اقدس پر پہنچے، آپﷺ نے دستک دی اور سلام بھی فرمایا۔ اندر سے سلام کا جواب آیا،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی اندر تشریف لایئے۔ ارشاد فرمایا میرے ساتھ ایک اور صحابی بھی ہیں، تم اچھی طرح پردہ کرلو، عرض کی میرے پاس ایک ہی چادر ہے اس سے مکمل طور پر جسم ڈھانپ نہیں سکتی ہوں، آپ نے ارشاد فرمایا اس کو اس طرح سے ڈھانپ لو، آپ نے عرض کیا یا رسول اللہ، میں نے ہر طرح سے ڈھانپ لیا، میرا سر کھلا رہ جاتا ہے تب سرکار علیہ السلام نے ایک چادر مبارک اندر ڈال دی اور فرمایا، دو چادروں سے اچھی طرح ڈھانپ لو، جب آپ نے مکمل اپنے جسم کو ڈھانپ لیا تو پھر سرکار اندر تشریف لے گئے۔ اور عیادت فرمائی اور جس طرح حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا پردہ کا اہتمام کرتی تھیں، اسی طرح دیگر صحابیات بھی غایت درجہ کا اہتمام کرتی تھیں اور انھیں کے نقش قدم پر چل کر صالحات بھی پردہ کو لازم پکڑتی تھیں۔
چنانچہ ایک مرتبہ خشک سالی ہوگئی لوگوں نے بہت دعائیں کیں، مگر بارش نہ ہوئی، پھر حضرت شیخ نظام الدین اولیاءرحمة اللہ علیہ نے اپنی والدہ محترمہ کے پاکیزہ دامن کا دھاگہ اپنے ہاتھ میں لیکر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی یا اللہ عز و جل ، یہ اس خاتون کے دامن کا دھاگہ ہے جس پر کسی نا محرم کی نظر نہ پڑی، اس کے طفیل بارانِ رحمت عطا فرما۔ ابھی آپ نے یہ جملہ کہا ہی تھاکہ بارش ہونے لگی! ان آیات واقعات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پردہ ایک عورت کے لئے کس قدر لازم وضروری ہے۔، اس کے بغیر نہ اس کی عزت و شرافت محفوظ رہ سکتی ہے اور نہ ہی اس کو سماج و معاشرے میں کوئی باعزت مقام مل سکتا ہے۔

سے جلد کو بچانا ضروری ہے اس لئے اسکارف یا ایسے کپڑے لئے جائیں جو خواتین اپنے چہروں پر باآسانی لٹکا لیں۔ یہ اسکارف یا کپڑے سن بلاک کا کام دیں گے، ان سے مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوں گے۔
(۱) سورج کی تیز گرم شعائیں چہرے پر نہیں پڑیں گی۔
(۲) چہرے کی رنگت دھوپ وغیرہ سے جل کر خراب نہ ہوگی۔
(۳) دھول ، مٹی وغیرہ کے ذرّات جو چہرے کی جلد خراب کرتے ہیں ان سے حفاظت ہو جائے گی۔
تنگ لباس، سنت نبوی اور جدید سائنس! اسلام پردے ، حیا اور وقار کا مذہب ہے۔ اس لئے اسلامی لباس کھلا ہوا دار ہوتا ہے۔ لیکن یہی لباس اگر تنگ ہو تو اس کے کیسے نقصانات ہیں ملاحظہ فرمائیں! تنگ لباس اور فزیالوجی، چست یا تنگ لباس سے لوکل مسلز مردہ اور کمزور ہو جاتے ہیں کیونکہ باہر کے مسلز میں جیسے حرکت ہوتی ہے ایسے ہی اندرونی باریک مسلز میں بھی حرکت ہوتی ہے۔ جیسا کہ سوئی اگر جلد کے اندر چلی جائے تو وہ باریک باریک مسلز کی وجہ سے کہاں سے کہاں چلی جاتی ہے تو جب تک تنگ لباس پہنا جائے تو ان باریک مسلز کو بہت نقصان پہنچتا ہے، ان کی حرکات کم ہوجاتی ہیں۔ ذہنی دباو¿، اعصابی تناو¿ اور کھنچاو¿ جیسے امراض پیدا ہو تے ہیں۔
بہرحال محترم بہنو! ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم پردہ کو لازم پکڑلیں، مغربیت اور جدیدیت کے فریب میں نہ آئیں اور کسی طرح دور حاضر کے ماحول میں اپنے کو نہ ڈھالیں تاکہ ہماری زندگی خراب نہ ہو۔ ہماری عزت وعظمت اور عصمت محفوظ رہے اور ذلت و رسوائی سے بچ جائیں۔اور معاشرے میں عزت کا مقام حاصل ہو جائے اور ہماری آغوش میں جو اولاد پرورش پائے وہ بھی شرم و حیا کا پیکر بنے اور اسلام تہذیب اور اسلامی تمدن میں ڈھل جائے۔
٭٭٭