Uncategorized

ایران نیوکلیائی معاہدہ پرسپرپاور امریکہ الگ تھلگ

لندن/اقوا م متحدہ، 14 اکتوبر(یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران نیوکلیائی معاہدہ کو ختم کرنے کی بات پر مصر رہنے کے درمیان دنیا کی دیگر اہم طاقتوں نے کہا ہے کہ ایران نیوکلیائی معاہدہ پر ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔ اقو ام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے بھی اس معاہدہ کے برقرار رہنے کی انتہائی امید ظاہر کی ہے ۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ان کی مشترکہ قومی مفادات کے عین مطابق ہے ۔ یوروپی یونین نے بھی کہا ہے کہ کسی ایک ملک کی وجہ سے یہ معاہدہ ختم نہیں ہونا چاہئے ۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ الگ تھلگ پڑ چکا ہے ۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ کیا کوئی صدر کسی بین الاقوامی معاہدہ کو اپنی مرضی سے ختم کرسھکتا ہے ۔ غالباً وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان باہمی معاہدہ نہیں ہے ۔ اس معاہدہ پر 2015 میں ایران اور دنیا کے چھ اہم ملکوں برطانیہ، امریکہ، روس، فرانس ، جرمنی اور چین نے دستخط کئے تھے ۔ اس معاہدہ سے ایران کے نیوکلیائی پروگرام پر پابندی لگ گئی تھی اور اس کے بدلے میں اس پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کردی گئی تھیں۔ مسٹر ٹرمپ نے جمعہ کے روز اپنی تقریر میں ایران کو مذہبی مملکت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے ۔ انہوں نے ایران پر دہشت گردی کی اعانت کرنے کا الزام لگایا اور اس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی پیش کش کی۔بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اس معاہدہ پر مکمل عمل درآمد کررہا ہے ۔ روس کی وزارت خارجہ نے مسٹر ٹرمپ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ اس دوران اقو ام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ برقرار رہے گا۔

About the author

Taasir Newspaper