بہار

بھگوان گنیش دیںگے بی کام کا امتحان ، آگیا ہے داخلہ کارڈ

Written by Taasir Newspaper
Taasir Urdu News | Uploaded on 05-OCTOBER-2017

دربھنگہ 5 اکتوبر (عاشق رحمانی ) بہارمیں ایک سے بڑھ کر ایک معاملہ سامنے آتا ہے محکمہ تعلیم میں۔ کبھی فرضی ٹاپر ، تو کبھی پرچہ لیک ۔ اب ایک اور حیران کردینے والا معاملہ محکمہ کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ دراصل للت نارائن متھلا یونیورسیٹیمیں 9 اکتوبر سے بی کام پارٹ – 1 کا امتحان شروع ہونے والا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے اس امتحان میں بھگوان گنیش بھی بیٹھنے والے ہیں ۔ یہ بات سننے میں ضرور کچھ اٹ پٹی لگ رہی ہے ، مگر سچ یہ ہے کہ متھلا یونیور سٹی کو لگتا ہے کہ بھگوان گنیش اس امتحان میں بیٹھیں گے۔ معاملہ یوں ہے کہ 9 اکتوبر سے شروع ہونے والے امتحان کے لئے بدھ سے امتحان دہندگان کے داخلہ کارڈ کے تقسیم کا کام شروع ہوا۔ دربھنگہ کے رہنے والے کرشن کمار رائے نام کے ایک امتحان دہند ہ بھی اپنا ایڈمٹ کارڈ حاصل کرنے کے لئے متھلا یونیورسٹی کے دفتر پہنچے ، مگر انہیں اس وقت انتہائی شدید جھٹکا لگا ، جب داخلہ کارڈ میں اس کی تصویر کی جگہ پر دستخط سمیت بھگوان گنیش کی تصویر چھپی ہوئی تھی او ر اس کے دستخط کے بدلے بھگوان گنیش کا دستخط بھی موجود تھا ۔غلطی صرف یہیں تک محدود نہیں تھی ، اس داخلہ کارڈ میں کرشن کمار رائے کے گھر کا پتہ بھی غلط لکھا ہوا تھا۔ یعنی کے پورا کا پورا کارڈ بھگوان بھروسے بنایاگیا تھا۔ ایڈمٹ کارڈ میں گڑ بڑی کو لے کر کرشن کمار رائے نے کہا کہ اس نے امتحان کے لئے فارم بھرنے کے دوران اپنا نام ، پتہ اور دستخط سمیت اپنا فوٹو چسپاں کیاتھا۔ مگرجاری کئے ہوئے داخلہ کارڈ سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھگوان گنیش بی کا م کے امتحان میں بیٹھیں گے؟ کرشن کمار نے کہا کہ اس غلطی کو سدھارنے کے لئے اس نے یونیورسیٹی کے افسران سے بات چیت کی ۔پر کسی نے اس کی مدد نہیں کی ۔کر شن کمار نے کہا کہ اس کے داخلہ کارڈ میں غلطی پورے طریقے سے یونیورسیٹی کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ وہیں دوسری طرف جب یونیورسیٹی کے اعلیٰ افسران کو اس غلطی کی بھنک ملی تو انہوں نے سارا قصور اس سائبر کیفے پر ڈال دیا، جہان امتحان دہندگان کے داخلہ کارڈ کو تیار کیاگیا تھا۔ کلا نند یادو ،متھلا یونیورسٹی کے کنٹرولر آف اکزامنیشن نے کہا کہ داخلہ کارڈ میں ہوئی اس غلطی کی وجہ کی جانچ کروائیںگے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ کرشن کمار کو امتحان دینے میں کسی قسم کی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

About the author

Taasir Newspaper