दुल्हन-ही-दहेज के पथ पर चलने का आहवान 4

’ دلہن ہی جہیز ہے ‘ ، لڑکیوں کو برابری کا درجہ دیں

مہاراج گنج / سیوان ، 16 اکتوبر ( راجیش کمار ) ٹاو¿ن سب ڈویزن واقع ایک نجی کوچنگ انسٹی چیوٹ سی وائی پی ایم میں جہیز کی رسم پر سیمینار کا انعقاد انسٹی چیوٹ کے ڈاریکٹر ویویک کمار موریا نے کیا ۔ سیمینار میں حصہ لینے کے لئےطلبا اور طالبات کے والدین کے علاوہ کچھ اسکول کے منتظمین بھی پہنچے تھے جہاں انہوں نے اپنے خیالات کو پیش کئے ۔ جہیز موجودہ معاشرتی ماحول میں ایک لعنت ہے۔ سیمینار میں پہنچے ایک نجی اسکول آچاریہ سدرشن پبلک اسکول کے منتظمین ڈاکٹر کیپٹن بی کے سنگھ نے کہا کہ موجودہ ماحول میں جن کے گھر لڑکے کی شادی کرنی ہوتی ہے وہ لوگ ویسے کنیا پارٹی کو ڈھونڈتے ہیں جو زیادہ جہیز دے ذہنیت ایسی بنی ہوئی ہے لڑکی کی پڑھائی لکھائی پر خصوصی توجہ نہ دے کر لوگ جہیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جس کا خمیازہ سننے کو مل رہا ہے ۔ جہیز مکمل طور پر ختم ہو جائے جہیز کی شکل میں لوگ بہو کو ہی مانیں ۔ معاشرے کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی لوگ لڑکے کی شادی میں کنیا ڈھونڈے جہیز دینے والا رشتہ نہڈھونڈے ۔ ڈیجیٹل انڈیا کمپیوٹر کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے آپریٹر رنجیت کمار نے کہا کہ جہیز سے ضروری دلہن ہے، رنجیت کمار نے کہا میں جب شادی کروںگا ، جہیز نہیں لوں گا۔ پہلے ٹرکوں کے پچھے، بسوں کے بمپھر پر “دلہن ہی جہیز ہے” لکھا جاتا تھالیکن اس شلوگن کو لوگوں نے اہم شکل نہیں دیا۔ حقیقت میں اگر “دلہن ہی جہیز ہے” صرف مان لیا جاتا تو نہ تو حکومت کو پہل کرنے کی ضرورت ہوتی نہ تو اس کے لئے قانون بنانے پڑتے ۔ جہیز کی بڑھتی ہوئی ذہنیت سے سماج کو نکالنے کی ضرورت آ پڑی ہے ۔ جہیز رواج ہٹتے ہی صرف بیٹیوں کے گھر میں خوشحالی آسکتی ہے۔ قدیم دور کے کتابوں میں ایسا پڑھنے کو ملتا ہے کہ بادشاہ مہاراجہ اور دولت مند لوگ اپنے بیٹیوں کے شادی میں ہیرے، جواہرات، سونا، چاندی بھرپور مقدارمیں دیا کرتے تھے۔ لیکن وقت گزتا گیا لوگوں کی یہ ذہنیت جہیز میں بڑھتاگیا۔ لیکن قدیم زمانے کی کنیا کے مرضی مطابق تھا۔ جہیز رواج اس کی ایک اور بھی وجہ ہے ہندوستانی سماج کہے یا ہم لوگوں کے سماج میں عورت کو مرد کے توقع سمجھا جا رہا ہے ۔ حالانکہ اب آہستہ آہستہ لڑکیوں کو برابر ی کا درجہ دیا جا رہا ہے ۔ لیکن کب جہیز لین دین کے بعد۔ برابر کا درجہ دیا جاتا جب کنیا شادی کے وقت سے کی یہ برابری کا ہے اس سے کچھ نہیں مانگنا ہے،صرف شادی کرنی ہے تب ۔ جہیز رواج کو روکنے کے لئے معاشرے اور حکومت دونوں کا اشتراک کرنے کی ضرورت ہے، صرف ایک کو کہنے سے قانون بنانے سے نہیں ہوگا ۔ سماج کے لوگ صرف دلہن کو ہی جہیز مانے، ساتھ ہی ساتھ قانو ن بھی اس رسم کی حقیقت اور سختی کے ساتھ عمل کرے تو کامیابی مل سکتی ہے۔ اس رسم کو نیست و نابود کرنے کے لئے مہم چلانا ہوگا جس کا نعرہ ہونا چاہئے “دلہن ہی جہیز ہے” تبھی ہم معاشرے سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹاو¿ن سب ڈویزن واقع ڈیجیٹل انڈیا کمپیوٹر سینٹر کے ڈائریکٹر رنجیت کمار نے بتایا کہ جہیز کی رسم نے موجودہ وقت میں کلنک کی شکل لے لیا ہے۔ جن کے گھر میں بیٹی پیدا ہو جا رہی ہے بیٹی پیدا ہوتے ہی جہیز کا ایک بہت بڑا خاکہ تیار ہونا شروع ہو جاتا ہے جبکہ بیٹے ہوتے ہی جہیز لینے کی پلاننگ شروع ہوتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں