صوفیائے کرام نے امن اور محبت کی تعلیم دی :سیدسیف اللہ ابوالعلائی

0
21

آگرہ30اکتوبر(پریس ریلز) ہندوستان کی معروف شخصیت سرتاج ِ آگرہ کے 378 وا ںعرس ابوالعلا میں حضرت سید شاہ سیف اللہ ابوالعلائی سجادہ نشیں خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ داناپور،پٹنہ نے آگرہ میں کہا کہ صوفیائے کرام کا تاریخی کارنامہ تھا انسانیت کا پیغام تھا کہ جو سر تلواروں کے آگے نہیں جھکے وہ ان صوفیا ئے کرام کے آستانوں پرجھک گئے صوفیائے کرام کا پیغام مساوات آج بھی ساری انسانیت کے لئے ہے مشعل ِ راہ ہے،مزید کہا کہ حضرت سیدنا سرکار امیر ابوالعلا آگرہ کا فیضان تقریباً 400 برس سے جاری و ساری ہے اور ساری مخلوق فیضیاب ہورہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ سلاطین نے زمین و ملک تو فتح کر لئے مگر وہ لوگ انسانوں کے دل فتح نہیں کر پائے یہ خدا کا انعام و اکرام ہے کہ اس نے انسانیت کا پر چم بلند رکھنے اور انسانوں کے دلوں سے بغض و عداوت نکالنے کے لئے اس سر زمین پر صوفیائے کرام کی ہی دَ ین ہے کہ ہم اس ملک میں بھائی چارہ کے سا تھ رہتے آرہے ہیں، شاہ صاحب نے یہ بھی کہا کہ دنیا سے بادشاہوں ،نوابوںاور راجاو¿ں کا وجود مٹ گیا اور ان کے محلات کھنڈر میں تبدیل ہو گئے لیکن یہ صوفیا ئے کرام کی کرامت ہے کہ ان کا جھنڈا آج بھی پور ی شان و شوکت سے لہر رہا ہے ،جو تلواروں سے نہیں جھکے وہ صوفیائے کرام کے آستانوں پر اخلا ق کی بنا پرجھک گئے یہی وہ آستانہ ہے جنہوں نے انسانوں کو یہ سبق دیا کہ انسانی خون کو پانی کی طرح نہ بہایا جائے بچوں کو یتیم نہ کیا جائے ماو¿ں کی گود کو نہ اجاڑا جائے یہ سبق انسانوں کو طاقت بخشتاہے انہوں نے مزید کہا کہ آج کچھ لوگ مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر سیدنا سرکا ر کا پیغام انسانوں کو ہا رنہیں ماننے دیگا وہ پیغام انسانوں کو شہید نہیں ہونے دیگاشاہ نے کہا کہ سیدنا سرکار کاپیغام ہمیشہ زندہ جاوید رہے گا،عرس جاری جسمیں حیدرآباد،را جستھا ن ، دہلی، داناپو ر پٹنہ،لکھنو¿ وغیرہ کے علاوہ دیگر مما لک سے زائر ین کی آمد ہورہی ہے،عرس میں سیدعنایت علی ابوالعلائی ( سجادہ نشیں:درگاہ آگر ہ)،شاہ محمد صباحت حسن(سجادہ نشیں:درگاہ داد میا ں لکھنو¿) ،شاہ محمد جاوید حسنی(سجادہ نشیں: درگا ہ بھینسوڑی، رام پور )،شاہ محمد قاسم آغائی( سجادہ نشیں: حیدرآبا د) وغیرہ شامل ہیں۔