قوم کے رہنماو کی خدمت میں چند گزارشات

0
21
Indian Muslims offer last Friday pray of the holy month of Ramadan, in Kolkata, India, Friday, Aug. 2, 2013. Muslims throughout the world are marking the month of Ramadan, the holiest month in Islamic calendar during which devotees fast from dawn till dusk. (AP Photo/Bikas Das)

ہاشمی رضا مصباحی
اسلامک ریسرچ اسکالر، البرکات، علی گڑھ، یوپی
آج ہندوستان میں ہمارے رہنماو¿ں اور قائدین ملت کی ناعقبت اندیشی اور خود غرضی کے سبب مسلمانوں کی حیثیت کم ہوتی جارہی ہے ۔امت مسلمہ کے سامنے آئے دن نت نئے مسائل دانستہ طور پر کھڑے کیے جارہے ہیں ۔ اور اسلام کا وسیع دائرہ روز بروز محدود کرنے کے لیے منصوبہ بند سازشیں رچی جارہی ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ہماری طرف سے غفلت و بے اعتنائی کا سلسلہ برابر جاری ہے ۔ ملت کے اس درد کا مداوا کرنے کے لیے راقم الحروف بلا کسی تفرق کے قوم کے رہنماو¿ں ، مسلم طلبہ اور علمائے کرام کی خدمت میں چند مشورے اور گزارشیں کرنے کی جسارت کر رہا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ تمام ہمدردان ملت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوکر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں ، قوم کی خاطر کچھ کر گزرنے کے لیے خود کو تمام تر تیاریوں سے لیس کر یں ، اپنی غفلت و بے حسی سے باز آکر منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ مسلمانوں کے جماعتی اور ملی مسائل کے حل کی راہیں تلاش کریں ؛کیوں کہ اس عظیم معرکہ کو سر کرنے کے لیے اجتماعی جد و جہد ناگزیر ہے ، انفرادی کوششیں خاطر خواہ مو¿ثر اور نتیجہ خیز نہیں ہو سکتیں ۔ قوم کے رہ نما اور قائد ہونے کے ناطے علمائے کرام پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،اور ناسازگار حالات کا پامردی سے مقابلہ کرنے کے لیے جن تیاریوں سے انہیں لیس ہونا ہے ،وہ ذیل کے سطور میں اختصار کے ساتھ درج کیے جارہے ہیں ۔
علمائے کرام بحسن و خوبی واقف ہیں کہ وہ قوم و ملت کے رہ نما ہوتے ہیں ،لہذا وہ حضرات سب سے پہلے اپنی قدر و ملت کو سمجھ کر اعلی اوصاف و کردار اور بلند افکار و خیالات کے حامل بنیں ۔دین کی دعوت و تبلیغ مو¿ثر انداز میں کر نے کے لیے منتخب مسائل کی صحیح معلومات پوری تیاری کے ساتھ پیش کریں، جن میں عام اور سادہ زبان و بیان کا استعمال ہو، حالات اور تقاضوں کا بھر پور خیال رکھا جائے ، علاقوں میں ماہ دو ماہ پر ایسی مجالس کا انعقاد کریں جن میںکسی دین دار متقی عالم دین کا اصلاحی خطاب ہو ۔ علما حضرات اپنے ملنے والوں ، قرب و جوار کی آفسوںاور دکانوں میں ملازمت پیشہ لوگوںسے نجی طور پر مل کر دین اسلام کو سمجھائیں ، دین کی باتیں بتائیں اور انہیں نرمی اور نہایت ملائمت کے ساتھ برے کاموں سے باز رہنے کی تلقین کریں ۔ ہفتہ میں ایک مرتبہ چند افراد کے ہمراہ اپنے محلے کے مسلمانوں کے گھروں میں جاجا کر دین کی تعلیمات سے انہیں آراستہ کریں ۔ پرھے لکھے طبقہ تک اہل سنت کا اصلاحی لٹریچر حسب ضرورت مختلف زبانوں میں پہچانے کی کوشش کریں ، اسکولو ں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو دین سے قریب کرنے کے لیے ان کی تعطیلات کے موقعوں پر تربیتی کیمپ کا انعقاد کریں ۔ علمائے کرام آپس میں اتحاد و اتفاق سے رہیں ، علاقائی ،مشربی اور ہر طرح کی آپسی اختلافات سے باز رہیں ،جمعہ کے خطبات کو قوم کی اصلاح و فلاح کے لیے مو¿ثر بنائیں ، موضوعات کے انتخابات میں عوام کی ضروریات ، دور حاضر کے سلگتے مسائل اور حالات کے تقاضوں کا بھر پور خیال رکھا جائے ،اسلامی احکامات کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل، سیاسی سازشوں سے محفوظ رہنے کی تدابیر اور اخلاقی اقدار پر بھی گفتگو کی جائے، سیرت نبوی کے حوالے سے زندگی کے مختلف مراحل میں درپیش مسائل کا حل بتایا جائے ، علمائے کرام نماز کے اوقات، خاص طور پر نماز جمعہ میں اوقات کا خاص خیال رکھیں ، مقررہ وقت کی پابندی بہر حال ضروری ہے۔نہ آگے ہو نہ پیچھے ہو پائے۔ اس کے علاوہ ہرکام میں وقت کی پابند ی کریں، دل و دماغ میں ملک و ملت کی ترقی و تعمیر ہر وقت جاگزیں رکھیں ،
اگر علما پیشئہ معلمی کے فرائض انجام دے رہے ہوں تو ان کے لیے امام غزالی کے بتائے ہوئے سات فرائض و وظائف کو پیش نظر رکھنا ناگزیر ہے ۔ ان کے بغیر شاگردوں کے واسطے سے ان کا فیض عام و تام نہیں ہو پائے گا۔ وہ فرائض یہ ہیں :(۱ )طلبہ پر انکی شفقت ایسی ہو جیسی اولاد پر ہوتی ہے (۲)تعلیم کا مقصد محض قرب الہی اور خوشنودئی ربانی ہو ، طلبہ پر اپنا کوئی احسان نہ سمجھیں (۳) طالب علم کی خیر خواہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔(۴)غلطی پر تنبیہ مناسب انداز میں کریں ۔(۵) کسی فن کی اہمیت نہ گھٹائیں ۔(۶) طالم علم کو اس کی عقل و فہم کے معیار پر تعلیم دیں ۔(۷) مدرسین خود صاحب عمل ہوں ۔
یہ چند معروضات علمائے ذوی الاحترام کی خدمت میں تھے ۔ سر دست چند مشورے اور گزارشیں طالبان علوم نبویہ کی بارگاہ میں بھی پیش ہیں ۔ مستقبل کے ان علم برداروں سے عرض ہے کہ سب سے پہلے اپنا ہدف اور نصب العین متعین کریں ، منصوبہ بند طریقے سے اس کے حصول کے لیے سرگرداں ہوں ، پورے نظم و نسق کے ساتھ اپنا تعلیمی سال گزاریں، اپنے مقصد اولیں یعنی عمدہ تعلیم و تربیت سے اپنی شخصیت میں حتی الوسع نکھار پیدا کرنے کی کوشش کریں ، درس گاہوں سے غیر حاضری، نصابی کتب سے بے اعتنائی ، اور اوقات درس و مطالعہ میں غیر ضروری مصروفیات سے حتی الامکان گریز کریں ۔
تعلیمی سال کو بہتر و بامقصد بنانے کے لیے ہر طالب علم اپنے معمومات کا ایک شیڈیول بنالے جس میں شب و روز کی مصروفیات کے اوقات کی تعیین ہو، پھر اس پر سختی سے عمل کرے ۔
طلبہ اپنے اوقات کا بیشتر حصہ درسی کتابوں کے مطالعہ میں صرف کریں ، ہر روز کا سبق اسی دن حل کرکے ذہن نشیں کرلیں ، طلبہ کو چاہئے کہ اپنے اندر وسعت مطالعہ پیدا کرنے کے لیے نصابی کتابوں کے علاوہ دیگر ضروری موضوعات کی مفید کتابوں کا مطالعہ لازمی طور پر کریں ، خارجی کتابوں کا مطالیہ ضروری طور جپر کریں ، انگریزی زبان اور اور کمپیوٹر کے حوالہ سے بنیادی اور ضروری معلومات حاصل کرنا بھی ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ جن کتابوں کا بھی مطالعہ کریں ، ان کے لیے یاد داشت کی نوٹ بک بھی تیار کرتے چلے جائیں ، اسی طرح زمانہ کے حالات و مقتضیات سے آشنا رہنے کے لیے طالب علمی کے زمانہ سے مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات و رسائل کے مطالعہ کی عادت ڈالیں ، اور گہرے مطالعہ کے بعد ابھرتے مسائل پر اپنا موقف قائم کریں ،۔یونہی تحریر و قلم میں پختہ شعور پیدا کرنے کے لیے تجربہ کی مشق و ممارست پر خصوصی توجہ دیں ، برابر لکھتے رہنے کی عادت ڈالیں اور اسے ایک اضافی کام نہ سمجھ کر اپنی ذمہ داریوں کا ایک لازمی جز سمجھیں ۔ان تمام چیزوں کے ساتھ یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ طلبہ کے لیے جہاں مدارس کی فضا میں رہ کر زیور علم سے آراستہ ہونا ضروری ہے ، وہیں کردار و عمل کی اصلاح بھی لازمی ہے ، اور اپنی شخصیت کو نکھار نے اور اور اس کو با وقار بنانے پر توجہ دینا بھی نا گزیر ہے۔ ورنہ ساری محنتیں اور کاوشیں لغو ہیں ۔
مدارس میں تعطیلات بھی ہوتی ہیں ۔اور کبھی کبھاڑطلبہ ذاتی کاموں کے تحت یونہی رخصت لے کر گھر جاتے ہیں ۔ تو طلبہ تعطیل کے ایام میں خواہ گھر پر ہوں یاکسی اور شہر میں ، رخصت کا فائدہ اٹھا کر ان ایام میں دعوت تبلیغ کے کام انجام دیں ، محلے اور پڑوس کے مسلمانوں سے مل کر اسلام کے بنیادی عقائد بتائیں ، شریعت کے مسائل بتائیں ، عوام کو دین سے آگاہ کریں ، انہیں اسلامی احکام اور بالخصوص نماز کی اہمیت کا احساس دلائیں ، وضو ، غسل اور نماز کا صحیح طریقہ بتائیں، روز مرہ پیش آنے والے دیگر ضروری مسائل کی تعلیم دیں ، اسلامی اخلاق و آداب سکھائیں ، عشر و اور صدقات وغیرہ کے تعلق سے جو کوتاہیاں ہو رہی ہیں ان پر تنبیہ کریں ، اتحاد و اتفاق کی برکتوں سے آشنا کریں ، رمضان اور عید کے مسائل سکھائیں ۔ان کے اندر یتیموں پر شفقت اور غربا پروری کے جذبات بیدار کریں۔ دعا ہے اللہ عز وجل ہمیں اور ہمارے قائدین کو اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور اس فتنہ انگیز دور میں امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔