محسن انسانیتﷺ بحیثےت معلم

0
21

محسن انسانیتﷺ بحیثےت معلم
ڈاکٹر ساجد خاکوانی
ایک بار محسن انسانیت ﷺ مسجد نبوی شرےف میں تشرےف لائے اور دیکھا کہ مسلمانوں کے دو گروہ وہاں پر الگ الگ بیٹھے ہیں،ایک گروہ ذکر اذکار میں مشغول تھا جب کہ دوسرا گروہ تعلیم و تعلم کا شغف کر رہا تھا،آپ ﷺ نے دونوں کو پسند یدگی کی نگاہ سے دیکھا اور پھر تعلیم و تعلم والے گروہ کے ساتھ شریک ہو گئے اور ارشاد فرماےا کہ ”بعثت معلماََ“لہ مجھے معلم بناکر بھیجا گےاہے۔انسانوں کے قبیلے میں بہت سے کردارہواکرتے ہیں لیکن اﷲ تعالی نے تخلیق آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے اپنے لےے معلم کاکردار پسند کیااور حضرت آدم علیہ السلام کو خود سے تعلیم دی اور انسانوں کے لےے رشدوہداےت کا جو سلسلہ جاری فرماےا ان کو بھی معلمین انسانیت بناکر بھیجا اور تعلیمی کلچر کے فروغ کے لےے ان معلمین انسانیت کے ہاتھوں میں اپنی کتب تھما دیں تاکہ جب کبھی یہ معلمین نہ بھی ہوں تو بھی کتاب کی صورت میںتعلیمات انسانوں کے ہاتھوں میں موجود رہیں۔آنجناب ﷺ انسانیت کے آخری معلم اس لحاظ سے ہیں کہ آپ نے معلمانہ اخلاقےات کی تکمیل کر دی ہے ،دیگر معلمین تو قےامت تک آتے رہیں گے لیکن وہ اس میدان میں کسی بھی طرح کااضافہ نہ کر پائیں گے اورعمل تدریس کے لےے آپ ﷺ کے طرےقوں کی پیروی سے ہی انسانوں کے ذہنوں میں کوئی بات ڈالی جاسکی گی اور وہی طرےقے ہی موثر رہیں گے جو خاتم المعلمین ﷺنے اختےار کےے۔
آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ کسی نامعلوم بات پر خیال و گمان اور ظن و تخمین سے رائے نہیں دےا کرتے تھے بلکہ وحی کا انتظار کرتے تھے۔حیات مبارکہ میں متعدد ایسے مواقع آئے جب آپ ﷺ سے کوئی سوال پوچھاگےا تو آپ ﷺ کا جواب تھا کہ وحی آنے کے بعد جواب د دوں گا۔ایک بار ایک یہودی عالم مکہ میں آےا تو مکہ والوں نے اس سے کہا کہ ہمارے ہاں ایک شخص نے نبوت کا دعوی کیا ہے ،تم پرانی کتابوںکے جاننے والے ہو بتاو¿تو ہم کیسے اسکا امتحان لیں؟؟اس یہودی عالم نے کہا کہ اس سے حضرت یوسف علیہ السلام کی بابت پوچھو۔جب آپ ﷺ سے پوچھا گےاتوآپ نے ارشاد فرماےا کہ میں وحی آنے کے بعد بتاو¿ں گا چنانچہ حضرت جبریل نے اس سوال کے جواب میں سورة ےوسف نازل کی ۔اس سورةمیں حضرت یوسف علیہ السلام سمیت اس وقت کے جملہ حالات اور دیگرواقعات کا بھی تفصیل سے ذکر ہے اور ان واقعات کی ایک ایک سطر میں کتنے ہی اسباق رشدوہدایت پوشیدہ ہیں۔
آپ ﷺ کامبارک طریقہ تھا کہ بات کو ذہن نشین کراتے ہوئے مثالیں دےاکرتے تھے اس طرح مدرسہ نبوی ﷺ کے طلبہ جلدی سے بات سمجھ لیتے،نیکی کاحکم اور برائی سے روکنے کے بارے میں آپ نے مثال دےتے ہوئے فرماےا کہ ایک بحری جہاز میں کچھ لوگ سفر کر رہے ہوں اور نیچے کی منزل والوں کو پانی کے حصول کے لےے اوپر آنا پڑے جس سے اوپر والوں کو بھی دقت ہو اور نیچے والے اس دقت و تکلیف کا حل یہ ڈھونڈیں کہ جہاز کے فرش میں سوراخ کر دےاجائے تاکہ نیچے سے آنے والے پانی کو استعمال کر یں،اب اگر اوپری منزل کے لوگ نیچے والوں کو اس عمل سے روکیں گے تو خود بچیں گے اور نیچے والوں کو بھی بچائیں گے اور نہیں روکیں گے تو خود بھی ڈوبیں گے اور نیچے والوں کو بھی ڈبوئیں گے۔اسی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے کہ دین کاعلم رکھنے والے نیکی کاحکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے تو خود بھی اﷲ تعالی کے عذاب سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے۔آپ ﷺ نے اﷲ تعالی کے راستے میں مال دے کر پھر واپس لے لینے والے کی مثال دی کہ جیسے کتا قے کر کے چاٹناشروع کر دے۔ایک بار ایک مسلمان نے دریافت کیاکہ میرے والد مرحوم نے حج نہ کیاتھا تو کیامیں ان کی جگہ اس فرض کی ادائگی کر سکتاہوں؟؟آپ ﷺ نے مثال دے کر سمجھایا کہ تمہارے والدمرحوم نے کسی کا قرض اداکرناہوتا تو کیا وہ قرض بھی تم ادا کرتے؟؟جواب ہاں میں تھاچنانچہ آپ نے اجازت مرحمت فرمائی کہ والدمرحوم کی جگہ حج بھی اداکیاجاسکتاہے۔
آپ ﷺ کسی اہم بات کو ذہن نشین کراتے ہوئے تےن بار دہرایاکرتے تھے۔جیسے کہ آپ ﷺ نے ایک بار ارشاد فرماےا مذاق میں جھوٹ بولنے والے پر لعنت ہے،لعنت ہے لعنت ہے۔ایک مسلمان نے آپ ﷺ سے درےافت کیا کہ مجھ پر سب سے زےادہ حقوق کس کے ہیں ؟؟آپ ﷺ نے ارشاد فرماےا تےری ماں کے،اس نے پوچھا اس کے بعد کس کے ہیں ؟؟آپ ﷺ نے مکررارشاد فرماےا تےری ماں کے اس نے پھر اس نے پوچھا اس کے بعد کس کے ہیں ؟؟آپ ﷺ نے تےسری بار بھی یہی جواب دےا کہ تےری ماں کے جب اس مسلمان نے چوتھی بار استفسار کیا کہ اس کے بعد کس کے ہیں ؟؟تو چوتھی بار آپ نے جواب دےا کہ تےرے باپ کے۔ایک بار آپ ﷺنے اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ”تقوی یہاں ہوتاہے،تقوی یہاں ہوتاہے،تقوی یہاں ہوتاہے“،اس ارشاد مبارک کاایک مطلب یہ بھی ہے کہ تقوی کااصل مقام دل ہوتاہے نہ کہ کسی طرح کالبادہ یاحلیہ وغیرہ۔
کبھی کبھی آپ ﷺ اپنے طالب علموں سے امتحان کی غرض سے سوال بھی پوچھاکرتے تھے تاکہ اس طرح بھی کوئی بات ذہن نشین ہوجائے۔ایک بار جب آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل کو گورنر بناکر ےمن کی طرف روانہ کر رہے تھے اور حضرت معاذ گھوڑے پر بیٹھ چکے تھے توآپ ﷺ نے ارشاد فرماےا معاذاب تم جب مدینہ آو¿تو شاید مجھ سے ملاقات نہ ہوسکے ۔پس مجھے بتاو¿ کہ مسائل کو کس طرح حل کرو گے؟؟حضرت معاذ بن جبل نے جواب دےا کہ کتاب اﷲ کے مطابق،آپ ﷺ نے دوسراسو؛ل کیا کہ اگر کتاب اﷲ میں نہ پاو¿ تو؟؟حضرت معاذ بن جبل نے جواب دےا کہ تب سنت رسول اﷲ ﷺ کے مطابق حل کروں گا،اس پر آپ ﷺ نے تےسراسوال پوچھا کہ اگر کسی مسئلے کا حل کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ ﷺ میں بھی نہ پاو¿ تو کیا کرو گے؟؟تو حضرت معاذ بن جبل نے جواب دےا کہ کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ ﷺ کے مطابق اپنی عقل سے فیصلہ کروں گا۔آپ ﷺ اس جواب پر بے حد خوش ہوئے اور اپنا داےاں ہاتھ حضرت معاذ بن جبل کے سینے پر مارتے ہوئے انہیں شاباش بھی دی اور اﷲ تعالی کا بھی شکر اداکیا جس نے اس طرح کے لائق طالب علم عطا کےے۔حدیث جبریل کے موقع پرآپ ﷺ نے حضرت عمر ؓسے استفسار فرمایا،عمرجانتے ہویہ کون تھا؟؟،حضرت عمرؓنے عرض کی اﷲتعالی اور اس کارسولﷺہی بہتر جانتے ہیں،ارشادفرمایا یہ جبریل علیہ السلام تھے جو تمہیں تمہارادین سکھانے آئے تھے۔
آپ ﷺ کی عادت تدریس تھی کہ خاص لوگوں کو خاص مسائل بتاتے تھے اور ہر کسی کو نہ بتاتے تھے۔ایک بارحضرت عمر ؓنے دیکھا کہ حضرت ابوہریرؓہ خوشی کے مارے بھاگتے ہوئے جا رہے ہیں،پوچھنے پر حضرت ابوہریرہ ؓنے جواب دےا کہ میں ابھی ابھی آپ ﷺ سے سن کر آ رہا ہوں کہ من قال لاالہ الا اﷲ فدخل الجنة جس نے کہ دےا کہ اﷲ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہو گےا۔حضرت ابو ہریرہ ؓبھاگتے ہوئے جا رہے تھے کہ مسلمانوں کو اس حدیث نبوی ﷺ سے آگاہ کریں ،حضرت عمرؓنے کہا کہ آئیں میرے ساتھ چلیں دونوں اصحاب رسول جب خدمت اقدس ﷺ میں پہنچے تو حضرت عمر نے عرض کی کہ یہ حدیث سن کر مسلمان بے عملی کاشکار ہو جائیں گے،آپ ﷺ خاموش رہے جس کا مطلب حضرت عمرؓکے موقف سے اتفاق تھا۔چنانچہ حضرت ابوہریرہؓنے اپنی زندگی کے آخری اےام میں یہ حدیث رواےت کی تاکہ نبی ﷺ کی کوئی بات چھپانے کے مرتکب نہ ہوں۔آپ ﷺ جنگ سے پہلے بھی عسکری قسم کی مشاورت بعض اوقات مخصوص لوگوں سے ہی کرتے تھے اور رازداری برتتے تھے ،جیسے فتح مکہ کے لےے روانہ ہوتے وقت کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ لشکر کدھرجارہاہے۔محسن انسانیت ﷺ خواتےن کی تعلیم و تدریس کے لےے الگ وقت نکالتے تھے،شروع میں سوموارکا دن مخصوص تھابعد میں ایک اوردن کااضافہ بھی کردےا،خواتےن چونکہ مردوں کے ساتھ مسجد نبوی میں نماز پڑھا کرتی تھیںاس لےے نماز کے بعد کے ارشادات نبویﷺ میں شریک ہوتی تھیں۔آپ ﷺ کی کثرت ازدواج کی ایک مصلحت خواتےن کی تعلیم و تربیت بھی تھی کیونکہ جو مسائل براہ راست نبی ﷺ سے نہیں پوچھے جاسکتے تھے وہ مسائل امہات المومنین کے توسط سے پوچھ لےے جاتے تھے۔آپ ﷺ خواتےن کے ساتھ سلام میں پہل کیاکرتے تھے۔
،ایک بار ایک بندمحلے میں تشریف لے گئے تو مرد حضرات سب کے سب اپنے اپنے مشغولات پر گئے تھے،اور صرف خواتےن ہی موجود تھیںآپ نے بآواز بلند سلام کیا،کوئی جواب نہ آیا،پھر سلام کیا کوئی جواب نہ آیا،پھر تیسری بار سلام کیا تو بھی کوئی جواب نہ آےا،تب آپ واپس لوٹنے لگے تو ہر گھر سے وعلیکم السلام یاایھاالنبی کی صدائیں بلند ہو گئیں ۔آپ ﷺ نے پوچھا کہ پہلے کیوں جواب نہ دےا تھا؟؟تو خواتےن نے عرض کی کہ ہم چاہتی تھیں کہ زبان نبوت سے زےادہ سے زےادہ سلامتےاں ہم پر بھیجی جائیں تاکہ ہم رحمت خداوندی کی حق دار ٹہریں۔
آپ ﷺ کے ارشادات بہت مختصر ہوا کرتے تھے،تدریس و تعلیم کے وقت لمبے لمبے خطابات سے احتراز فرماتے تھے اصحاب رسول فرماتے ہیں آپﷺ قرآن کی آےات پڑھ کر ہمیں نصیحتےں کیاکرتے تھے۔آپ ﷺ کی زبان نہاےت شستہ اور دلنشین ہوتی تھی،بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر اشعار آپ سے منسوب ہیں بہت زےارہ زور خطابت آپ ﷺ نے کبھی نہ فرماےا تھا۔خود آپ ﷺ کا قول مبارک ہے کہ خےرالکلام ما قل و دل کہ بہترین بات وہ ہے مختصر ہو اور مدلل ہو ۔ آپ ﷺ کا طویل طرین خطبہ ،خطبہ حجة الوادع ہے ،اسے پڑھنے لگیں تو یہ نصف گھنٹے سے کم مدت میں ختم ہوجاتا ہے اور بیان میں تو ظاہر ہے کہ اس سے بھی کم مدت لگی ہو گی۔
حسن خلق آپ کی تدریس کا سب سے عمدہ پہلو ہے آپ کے طلبہ آپ کے حسن خلق کی وجہ سے کھنچتے چلے آتے،خود اﷲ تعالی نے بھی قرآن میں آپ ﷺ کے حسن خلق کی تعرےف کی ہے۔آپ ﷺ اپنے طلاب علموں کے لےے کثرت سے دعائیں بھی کرتے تھے۔قےامت تک کی انسانیت آپ کی طالب علم ہے اور آپ ﷺ کی امت تو خاص طور پر آپ کی طالب علم ہے آُ ﷺ نے اپنی امت کے لےے خاص طور پر اور کل انسانیت کے لےے عام طور پر بے حد دعائیں کی ہیں،یہ نبی علیہ السلام کی دعاو¿ں کا ہی نتےجہ ہے کہ گزشتہ اقوام کی سب خرابیاںموجودہونے کے باوجود امت مسلمہ اور کل انسانیت تباہ نہیں کی گئی۔محسن انسانیت ﷺ روز محشر بھی اپنے طالب علموں کو ےاد رکھیں گے اور آپ نے اپنے صحابہ کو فرماےا قےامت کے دن حوض کوثرپر آجانا میں وہاں
موجود ہوں گا،تب آپ ﷺ اپنے طالب عملوں کی شفاعت فرمائیں گے۔اﷲ تعالی ہمیں آپ ﷺ کا سچا طالب علم بنائے ،آمین۔(ےو اےن اےن)