مخلص مسلمان کسے کہتے ہیں؟

0
85

عبدالعزیز
سورہ مجادلہ میں آیت 14سے آخر تک مسلم معاشرہ کے لوگوں کو جن میں مخلص مسلمان اور منافقین اور تذبذبین سب ملے جلے تھے بالکل صاف صاف طریقے سے بتایا گیا ہے کہ دین میں آدمی کے مخلص ہونے کا معیار کیا ہے۔ ایک قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اسلام کے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں، اپنے مفاد کی خاطر اس دین سے غداری کرنے میں کوئی تامّل نہیں کرتے جس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اسلام کے خلاف طرح طرح کے شبہات اور وسوسے پھیلا کر اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ پر آنے سے روکتے ہیں مگر چونکہ وہ مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہیں، اس لئے ان کا جھوٹا اقرار ایمان ان کیلئے ڈھال کا کام دیتا ہے۔ دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اللہ کے دین کے معاملہ میں کسی اور لحاظ تو درکنار، خود اپنے باپ، بھائی، اولاد اور خاندان تک کی پرواہ نہیں کرتے۔ ان کا حال یہ ہے کہ جو خدا اور رسول اور اس کے دین کا دشمن ہے اس کیلئے ان کے دل میں کوئی محبت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں صاف فرما دیا ہے کہ پہلی قسم کے لوگ چاہے کتنی ہی قسمیں کھا کھا کر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلائیں، در حقیقت وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں اور اللہ کی پارٹی میں شامل ہونے کا شرف صرف دوسری قسم کے مسلمانوں کو حاصل ہے۔ وہی سچے مومن ہیں۔ انہی سے اللہ راضی ہے۔ فلاح وہی پانے والے ہیں۔
سورہ مجادلہ کی آخری آیت کی تشریح کرتے ہوئے صاحب تفہیم القرآن حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:
”اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک بات اصولی ہے اور دوسری امر واقعی کا بیان۔ اصولی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دین حق پر ایمان اور اعدائے دین کی محبت، دو بالکل متضاد چیزیں ہیں جن کا ایک جگہ اجتماع کسی طرح قابل تصور نہیں ہے۔ یہ بات قطعی ناممکن ہے کہ ایمان اور دشمنانِ خدا و رسول کی محبت ایک دل میں جمع ہوجائیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک آدمی کے دل میں اپنی ذات کی محبت اور اپنے دشمن کی محبت بیک وقت جمع نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ ایمان کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس نے ایسے لوگوں سے محبت کا رشتہ بھی جوڑ رکھا ہے جو اسلام کے مخالف ہیں تو یہ غلط فہمی تمہیں ہر گز لاحق نہ ہونی چاہئے کہ شاید وہ اپنی اس روش کے باوجود ایمان کے دعوے میں سچا ہو۔ اسی طرح جن لوگوں نے اسلام اور مخالفین اسلام سے بیک وقت رشتہ جوڑ رکھا ہے وہ خود بھی اپنی پوزیشن پر اچھی طرح غور کرلیں کہ وہ فی الواقع کیا ہیں، مومن ہیں یا منافق؟ اور فی الواقع کیا ہونا چاہتے ہیں ، مومن بن کر رہنا چاہتے ہیں یا منافق؟ اگر ان کے اندر کچھ بھی راست بازی موجود ہے اور وہ کچھ بھی یہ احساس اپنے اندر رکھتے ہیں کہ اخلاقی حیثیت سے منافقت انسان کیلئے ذلیل ترین رویہ ہے تو انھیں بیک وقت دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش چھوڑ دینی چاہئے۔ ایمان تو ان سے دو ٹوک فیصلہ چاہتا ہے۔ مومن رہنا چاہتے ہیں تو ہر اس رشتے اور تعلق کو قربان کردیں جو اسلام کے ساتھ ان کے تعلق سے متصادم ہوتا ہو۔ اسلام کے رشتے سے کسی اور رشتے کو عزیز تر رکھتے ہیں تو بہتر ہے کہ ایمان کا جھوٹا دعویٰ چھوڑ دیں۔
یہ تو ہے اصولی بات؛ مگر اللہ تعالیٰ نے یہاں صرف اصول بیان کرنے پر اکتفا نہیں فرمایا ہے بلکہ اس امر واقعی کو بھی مدعیانِ ایمان کے سامنے نمونے کے طور پر پیش فرما دیا ہے کہ جو لوگ سچے مومن تھے انھوںنے فی الواقع سب کی آنکھوں کے سامنے تمام ان رشتوں کو کاٹ پھینکا جو اللہ کے دین کے ساتھ ان کے تعلق میں حائل ہوئے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جو بدر و اُحُد کے معرکوں میں سارا عرب دیکھ چکا تھا۔ مکہ سے جو صحابہ¿ کرام ہجرت کرکے آئے تھے وہ صرف خدا اور اس کے دین کی خاطر خود اپنے قبیلے اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں سے لڑگئے تھے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنے باپ عبداللہ بن جراح کو قتل کیا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔ حضرت ابوبکر اپنے بیٹے عبدالرحمن سے لڑنے کیلئے تیار ہوگئے۔ حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن الحارث نے عُتبہ، شَیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا جو ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔ حضرت عمرؓ نے اسیرانِ جنگ بدر کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے اور ہم میں سے ہر ایک اپنے رشتہ دار کو قتل کرے۔ اسی جنگ بدر میں حضرت مصعب بن عمیرؓ کے سگے بھائی ابو عزیز بن عمیر کو ایک انصاری پکڑ کر باندھ رہا تھا۔ حضرت مصعب نے جواب دیا ”اس وقت تم میرے بھائی نہیں ہو بلکہ یہ انصاری میرا بھائی ہے جو تمہیں گرفتار کر رہا ہے“۔ اسی جنگ بدر میں خود نبی صلی اللہ علیہ کے داماد ابوالعاص گرفتار ہوکر آئے اور ان کے ساتھ رسول کی دامادی کی بنا پر قطعاً کوئی امتیازی سلوک نہ کیا گیا جو دوسرے قیدیوں سے کچھ بھی مختلف ہوتا۔ اس طرح عالم واقعہ میں دنیا کو یہ دکھایا جاچکا تھا کہ مخلص مسلمان کیسے ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے دین کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوا کرتا ہے۔
دَی±لَمی نے حضرت معاذ کی روایت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا نقل کی ہے کہ اللہم لاتجعل لفاجر (وفی روایةٍ لفاسق)علی یداً ولانعمة فیودہ¾ قلبی فانی وجدت فیما اوحیت الی لا تجد قوماً یّومنون باللہ والیوم الاٰخر یوآدون من حآدّاللہ و رسولہ¾۔ ”خدایا؛ کسی فاجر (اور ایک روایت میں فاسق) کا میرے اوپر کوئی احسان نہ ہونے دے کہ میرے دل اس کیلئے کوئی محبت پیدا ہو، کیونکہ تیری نازل کردہ وحی میں یہ بات بھی میں نے پائی ہے کہ اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھنے والوں کو تم اللہ اور رسول کے مخالفوں سے محبت کرتے نہ پاو¿گے“۔
آیت 22سے پہلے اللہ تعالیٰ نے شیطانوں کی پارٹی کا ذکر کیا ہے۔
”کیا تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنھوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ ان کے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ نے ان کیلئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں، اس پر ان کیلئے ذلت کا عذاب ہے۔ اللہ سے بچانے کیلئے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد۔ وہ دوزخ کے یار ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا، وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا۔ خوب جان لو، وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ شیطان ان پر مسلط ہوچکا ہے اور اس نے خدا کی یاد ان کے دل سے بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار ہو، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں“۔
ہر مسلمان مردو اور عورت کو اپنا جائزہ ہر وقت اور ہر گھڑی لینا چاہئے کہ وہ اللہ کی پارٹی میں ہے یا شیطان کی پارٹی میں ہے۔ سورہ مجادلہ کی آیتوں کی روشنی میں یہ جاننا بالکل آسان ہے کہ کون کس کی پارٹی کا فرد یا کیڈر ہے؟
موبائل: 9831439068
azizabdul03@gmail.com