میانمار میں فوج کے حق میں بڑا مظاہرہ

0
14

میانمار31اکتوبر(آئی این ایس انڈیا ) امر یکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرس نے گزشتہ ہفتے میانمار کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف، سینیر جنرل من اونگ ہلنگ سے انسانی ہمدردی کے اس بحران کے بارے میں ٹیلی فون پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔اتوار کے روز کی سڑکوں پر کئی ہزار لوگ فوج کے ساتھ حمایت کےاظہار کے لیے نکل آئے۔جب کہ دوسری جانب میانمار میں فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کارروائی پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سلسلہ جارہی ہے۔اگست کے مہینے میں میانمر کی پو لیس پر روہنگیا کے عسکریت پسندوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی انتقامی کارروائیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں میانمار کی شمالی ریاست راکھین سے چھ لاکھ روہنگیا باشندوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ کر بنگلہ دیش جانا پڑا جن میں سے بیشتر نے وہاں کے کاکس بازار میں پناہ لے رکھی ہے ۔پناہ گزینوں کی لگ بھگ ساٹھ فیصد تعداد بچوں پر مشتمل ہے۔اس کے باوجود اتوار کے روز مظاہر ین ، نے جن میں فوج کے حمایتی، بودھ قوم پرست اور بھکشو شامل تھے، فوجی نغمے گائے ا ور ان کی حمایت میں بینر لہرائے۔ جلوس میں شامل ایک گلوکار لی لی نائنگ کیاو¿ کا کہنا تھا کہ میانمر کی فوج قومی استحکام کے لیے موجودہ حکومت کے اقتدار کا تحفظ کر رہی ہے ۔ اس لیے میں میانمار کی فوج کے اتحاد کا احترام کرتا ہوں اس پر فخر کرتا ہوں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرس نے گزشتہ ہفتے میانمار کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف، سینیر جنرل من اونگ ہلنگ سے انسانی ہمدرد ی کے اس بحران کے بارے میں ٹیلی فون پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ گریٹا وین سسٹرین کو ایک انٹر ویو میں سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ متعدد ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک قانون سازوں نے اس ہفتے میانمار کے سفیر سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ امریکہ کے سا تھ ان کے ملک کے تعلقات کا انحصار اس پر ہے کہ وہ اس بحران پر کس طرح رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ سینیٹر ڈربن نے کہا کہ قانون ساز چاہتے ہیں کہ میانمار کے حکام متنازع علاقوں میں بیرونی مبصر ین کو جانے کی اجازت دیں، ظلم وستم کے مرتکب فوجیوں کو ذمہ دار ٹھہرائیں، اور روہنگیا سے نقل مکانی کرنے والوں کی از سر نو آباد کاری کے لیے پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے ساتھ مل کر کام کریں۔