5 4

ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینیجر پر روسی مداخلت سے متعلق فردِ جرم عائد

واشنگٹن31اکتوبر(آئی این ایس انڈیا) پال مینافرٹ نے، جو سن 2016 میں کچھ عر صے کے لیے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سربراہ رہ چکے ہیں، خود کو صدارتی انتخابا ت میں مبینہ روسی مداخلت سے متعلق فوجدا ری مقدمے کی تحقیقات کے لیے پیر کے روز حکام کے حوالے کر دیا۔جمعے کے روز ایک گر ینڈ فیڈرل جیوری نے مقدمے میں عائد کیے جانے والے الزامات کی منظوری دی تھی۔ اس مقدمے کی پیروی خصو صی کونسلر رابرٹ ملر کر رہے ہیں۔ملر نے مئی میں مقد مے کا کنڑ ول اپنے ہاتھ میں لیا تھا جس کے بعد تحقیقات تیزی سے آگے بڑھیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ مینافرٹ کے خلاف الزاما ت عائد کیے گئے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی انتخابی مہم کے روس کے ساتھ تعلق کا الزام جھوٹ اور بے بنیاد ہے جسے ڈیموکریٹ اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ملر کو جو ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر بھی ہیں، واشنگٹن کے حلقوں میں ایک غیر سیاسی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔مینافرٹ کو، جو پچھلے سال جون سے اگست کے دوران ٹرمپ کی صدا رتی انتخابی مہم کے منیجر تھے، جولائی کے آخر میں بتا دیا گیا تھا کہ انہیں مقد مے میں نامزد کیا جا سکتا ہے۔صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روسی مداخلت کے ممکنہ تعلق پر ملر کی تحقیقات کے علاوہ کانگریس کی جانب سے بھی الگ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔انٹیلی جنیس کے امریکی حلقے 2017 کےاوائل میں اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے امریکی جمہور یت کی اہمیت کو متاثر کرنے اور ٹرمپ کی جیت میں مدد دینے کے لیے ذاتی طور پر ایک خصوصی مہم کی ہدایت کی تھی۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے متعدد ٹو یٹس میں یہ اصرار کیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ڈیموکریٹس اور ان کی صدارتی حریف ہلری کلنٹن قصور وار ہیں۔ اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ڈیمو کر یٹس بری سیاست کے لیے یہ خطرناک چیز استعمال کر رہے ہیں اور یہ ہمارے ملک کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کے ایک رکن ٹائی کاب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے تبصروں کا ملر کی تحقیقات کی پیش رفت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ ملر، قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن سے بھی تحقیقات کر رہے ہیں، جنہیں صدر ٹرمپ نے اپنا عہدے سنبھالنے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ الزام لگا کر اپنے عہدے سے برطرف کر دیا تھا کہ انہوں نے نائب صدر مائک پنس اور دوسرے عہدے داروں سے واشنگٹن میں روسی سفیر سے رابطوں کے حوالے سے غلط بیانی کی تھی۔اس کے علاوہ ملر اس بارے میں بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا صدر ٹرمپ نے مئی میں اس وقت کے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو برطرف کرتے وقت انصاف کے تقاضے پورے کیے تھے جو ملر کے چارج سنبھالنے سے پہلے روس سے متعلق مقدمے کی تحقیقات کر رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں