پولس نے پہلے مزدوروں کو پلائی شراب ، پھر بانس میںباندھ کر اٹھوائی لاش

0
9
Taasir Urdu News | Uploaded on 14-OCTOBER-2017

نوادہ ،14 اکتوبر( نمائندہ ) نوادہ میں انسانیت شرمسار ہوئی ہے۔ پولس کا غیر حساس چہرہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ پولس نے ریلوے ٹریک سے ایک خاتون کی لاش اٹھانے کے لئے مزدوروں کو شراب مہیا کرائی۔ یہ ایسے وقت میں کیا گیا جبکہ ریاست میں مکمل طور پر شراب بندی نافذ ہے۔ اس کے بعد مزدوروں نے خاتون کی لاش مویشی کی طرح بانس پر ٹانگ کر اسپتال پہنچایا ۔ پولس تماشائی بنی رہی ہے۔ ادھر اس معاملے پر پٹنہ پولس ہیڈ کوارٹر سے کوئک ایکشن بھی ہوگیا۔ ملزم پولس ملازمین کو معطل کردیا گیا۔ بتایاجارہا ہے کہ ضلع قادر گنج اوپی علاقہ کے نتھن پورہ گاو¿ں کے نزدیک ریلوٹریک پر جمعہ کی صبح خاتون کی لاش پڑے ہونے کی خبر پولس کو ملی ۔لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے صدر اسپتال بھیجنا تھا۔ پولس اپنے ساتھ مزدوروں کو لے گئی۔ لاش اٹھانے سے پہلے مزدوروں کو شراب مہیا کرائی گئی۔ اس کے بعد نشے میں جھومتے مزدوروں نے لاش کو بانس میں باندھ کر کندھے میں اٹھالیااور اسپتال پہنچایا۔ اس معاملے میں مزدوروں کا بیان چوکانے والا ہے۔ مزدوروں نے کہا کہ پولس نے ہی تین پاو¿چ شراب مہیا کرائی تھی۔ نشے میں جھومتے مزدوروں نے لاش کو مویشی کی طرح باندھ کر بانس پر لٹکایا۔ وہاں سے چل کر تھوڑی دور پر کھڑے رکشے پر رکھا۔ مزدوروں سے میڈیا کارکنان نے بات کی تو جواب تھا کہ لاش سے بد بو نکل رہی تھی ، ایسے میں اسے اٹھانا مشکل ہورہا تھا ۔ تب پولس نے شراب مہیا کرائی۔ حالانکہ قادر گنج اوپی انچارج رنوجے کمار نے اس سے صاف انکار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مزدوروں نے پولس کے سامنے شراب نہیں پی ۔ واقعہ سے پہلے شراب پیتے مزدور ۔ واضح ہوکہ جمعہ کو صبح نکھل پور ہ کے کچھ لوگوں کی نظر خاتون کی لاش پر پڑی ۔ خاتون کے گلے میں گمچھا بندھا تھا اور سر پر چوٹ لگی تھی۔ گاو¿ں کے لوگوں نے اطلاع مکھیا کو دی۔ اس کے بعد مکھیا نے قادر گنج تھانہ صدر کو مطلع کیا۔ اس کی پہچان ٹاو¿ن کے پرانے جیل روڈ محلہ باشندہ رنجیت ڈوم کی بیوی گڑیا دیوی کی شکل میں کی گئی ۔ اس معاملے میں ریاست کے ایڈیشنل پولس جنرل ڈائریکٹر سنجیو کمار سنگھل نے بتایا کہ معاملے میں قادر گنج اوپی انچارج رنوجے کمار اور داروغہ رام ونئے شرما کو معطل کردیاگیا ہے۔ خبر دینے والے دو چوکیداروں کو معطل کرنے کی سفارش نوادہ کے ضلع مجسٹریٹ سے کی گئی۔ ان دو چوکیداروں میں بگل پاسوان اور کشن پاسوان شامل ہیں۔ دونوں جائے وقوع پر موجود تھے ۔ انہوں نے آگے کہا کہ یہ واقعہ غیر انسانی ہے۔ اسے مہذب سماج میں کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ جانچ میں جوبھی قصوروار پایا جائے گا اسے بخشا نہیں جائے گا۔