آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Bihar News

جہیزاور کم عمری کی شادی کے خلاف مہیلا وکاس مورچہ نے لیا حلف

sonbarsa sitamarhi-2
Written by Taasir Newspaper
Taasir Urdu News | Uploaded on 03-OCTOBER-2017

سیتا مڑھی / سونبرسا ،3 اکتوبر( نمائندہ ) سونبرسا بلاک دفترو سرکل آفس کے نزدیک مہیلا بی ڈی او بشمول سی او کامنی دیوی کی صدارت میں دیگر انتظامی افسران ، سبھی شعبوں کے ملازمین و دیگرلوگوں نے بھی جہیز کی رسم و کم عمری کی شادی کے خلاف حلف لیا۔ سبھی نے ان رسموں کو سماج پر کلنک کہا اور سماج کو اس رسم کو ختم کرنے میں اہم کردار نبھانے پر زور دیا۔ سبھی سرکاری ، غیر سرکار ی اسکولوں میں بھی حلف لیا گیا۔ ٹیچر راج کشورراوت ، سرکل سکریٹری ہری نارائن رائے سمیت درجنوں ٹیچروں و اسکولی بچوں نے بھی جہیز ، نشہ وبچپن شادی کے خلاف حلف لیا۔ ’میں حلف لیتی ہوں کہ سماج سے جہیز کی رسم کا خاتمہ کرکے رہوں گی‘۔ مہاتما گاندھی و آنجہانی لال بہادرشاستری کو گواہ مان کر میں حلف لیتی ہوں کہ سماج میں شراب سمیت سبھی قسم کے نشہ کو ختم کرکے رہوںگی ۔ میں حلف لیتی ہوں کہ بچپن کی شادی کی روایت کو ختم کر کے رہوں گی ۔ہرروز خواتین کنواری لڑکیاںجہیز کی بلی چڑھ رہی ہیں۔ تونشہ کرنے والے خواتین کی توہین کرنے سے نہیں باز آتے ۔ بچپن کی شادی بیٹیوں کے لئے لعنت بن چکی ہے ۔اس لئے خواتین کی شکل کے ساتھ ہورہے مظالم کو روکنے کے لئے ایسے لوگوں کو اچھی سمجھ دیں۔ جو جہیز و نشہ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ تبھی جاکر سماج کے گھروں میں بیٹی کے پیدائش پر بیٹا کے پیدائش کی طرح ہی جشن ہوگا ۔مذکورہ باتیں مہا تماگاندھی و لال بہادر شاستری کے یوم پیدائش پر سونبرسا بلاک کے اراضی موہن پور میں مہیلا وکاس مورچہ و درجنوں خواتین نے سموار 2 اکتوبر کو مہاتما گاندھی و لال بہادر شاستری کی تصویروں کو گواہ مان کر تصویر کے سامنے جہیز و سبھی طرح کے نشہ کا خاتمہ کرنے کے لئے حلف لیتی ہوئی بولیں ۔مہیلا وکاس مورچہ کی صدر ریکھا رانی کی صدارت میں باپو و شاستری کی یوم پیدائش پر جہیز و نشہ مخالف پروگرام کا انعقاد کیاگیا تھا۔ سماج کو ایسی برائیوں کو چھوڑنا چاہئے تبھی ہمارے آنگن کی ننھے ننھے پھول بڑے ہوکر کھلی ہوا میں خوبصورت زندگی پائیں گے۔ موقع پر نائب صدر اوشاد یوی ، سکریٹری رینا دیوی ،نائب سکریٹری نرملا دیوی ، سمندری دیوی ، سندر دیوی ، کرن دیوی ، سشیلا دیوی ، نجمن خاتون، شیل دیوی ، پرمیلادیوی، شوبھادیوی ،مینا خاتون ، بسمتیا دیوی ، نورجہاں خاتون سمیت درجنوں خواتین موجود تھیں۔

About the author

Taasir Newspaper