آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Politics

بابائے قوم کے نظریات کا قتل کبھی ممکن نہیں:نتیش

02
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ 11 اکتوبر (تاثیر بیورو):وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کہا ہے کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کو بھلے ہی قتل کردیا گیا ہو لیکن ان کے نظریات کا قتل کبھی بھی ممکن نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ بدھ کو پٹنہ کے گیان بھون سمراٹ اشوک کنونشن سنٹر میں گاندھی کتھا واچن اور باپو آپ کے دوار پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد حاضرین سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج لوک نائک جئے پرکاش نارائن کا بھی یوم پیدائش ہے ، ہم لوگ چمپارن ستیاگرہ کی صد سالہ تقریب منارہے ہیں۔ بابائے قوم 10 اپریل 1917 کو پٹنہ آئے تھے اس وقت ہمارا ملک غلام تھا۔ 1750 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا تجارت کیلئے ملک میں داخلہ ہوا اور دھیرے دھیرے اس کمپنی نے نفع کمانا اور پورے ملک میں اپنے جال پھیلانا شروع کردیا۔ پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی پالیسی کو عمل میں لاکر وہ راج کرنے لگے۔ انگریزی حکومت نے 1857 کی بغاوت کے بعد باقاعدہ اپنے قبضے میں انتظامیہ کو لیا اور 200 سال تک ہندستانیوں کو غلام بنائے رکھا۔ آزادی کیلئے کئی مجاہدین آزادی نے طویل جدوجہد کی۔ لیکن آخر کار باپو کی قیادت میں عدم تشدد اور ستیاگرہ کی بدولت انگریزوں کوملک چھوڑنا پڑا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ گاندھی جی کیسے اپنی سادا زندگی سے سبق لیتے ہوئے سچائی کے راستے کو اپنایا ۔ اسکولی زندگی میں ایک بار محکمہ تعلیم کے انسپکٹر اسکول میں جانچ کیلئے آئے تھے۔ سبھی بچوں نے صحیح لکھا ،صرف گاندھی جی کے الفاظ میں غلطی تھی۔ ان کے اسکول کے ٹیچر نے انہیں صحیح کرنے کیلئے نقل کا اشارہ کیا۔ باپو نے ٹیچرکا احترام کرنے کے باوجود نقل کرنے کے مشورے پرعمل نہیں کیا۔ انہوں نے چھوٹی عمر میں بھی غلط کام نہیں کیا۔ پڑھنے لکھنے کے بعد گاندھی جی انگلینڈ گئے اور بیرسٹر بن کر لوٹے۔ ممبئی کے کورٹ میں حاضر ہوئے ۔ لیکن ٹھیک سے بحث نہیں کرپائے، وہاں سے نکل کر راج کوٹ چلے گئے۔ ان کے ہی علاقے کے کچھ لوگ جنوبی افریقہ میں رہ رہے تھے، ان کا مقدمہ چل رہا تھا۔ گاندھی جی ایک سال کے کنٹریکٹ پر جنوبی افریقہ وکالت کیلئے گئے ۔لیکن وہاں جانے کے بعد ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی آئی۔ کورٹ میں پگڑی پہن کر پہنچے تو انہیں پگڑی اتار نے کیلئے کہا گیا لیکن انہوں نے انکار کردیا اور باہر نکل گئے۔ بعد میں گاندھی جی جنوبی افریقہ میں اچھے وکیل کے طور پر مشہور ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جنوبی افریقہ میں کالے گورے کا بہت بھید بھاﺅ تھا۔ ہندستانیوں کو لوگ قلی سمجھتے تھے۔ ٹرین کے فرسٹ کلاس کے ٹکٹ پرایک بار گاندھی جی سفر کررہے تھے تو ایک سفید فام نے شکایت اور ٹی ٹی ای نے انہیں باہر جانے کیلئے کہا اور جب انہوں نے باہر جانے سے انکار کیا تو انہیں اور ان کے سامان کو ٹرین سے باہر پھینک دیا گیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی ،وزیر تعلیم کرشن نندن پرساد ورما، آئی ٹی ایم یونیورسٹی گوالیئر کے پی وی سی راما شنکر سنگھ سمیت کئی دیگر لوگوں نے بھی خطاب کیا۔

About the author

Taasir Newspaper