آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Around the World

جرمن حکومت نے ایک لاکھ فیملی ری یونین ویزے جاری کیے

2
Written by Taasir Newspaper

برلن11اکتوبر(آئی این ایس انڈیا) جرمن وزارت داخلہ کے مطابق قریب ستر ہزار عراقی اور شامی شہریوں نے جرمنی میں اپنے خاندانوں سے فیملی ری یونین کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ برلن حکومت کا کہنا ہے کہ سن 2015 سے لے کر اب تک ایسے ایک لاکھ ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔جرمنی میں گزشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابا ت کے بعد سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جما عت سی ڈی یو اور اس کی ہم خیال جماعت کرسچین سوشل یونین کے درمیان مخلوط حکومت بنانے کے را ستے میں مہاجرین کا معاملہ سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔تارکین وطن ہی کے حوالے سے چانسلر میرکل کی پالیسی کے سبب ان کی جماعت سی ڈی یو کے حمایتیوں کے ایک دھڑے کا جھکاو¿ مہاجرت مخالف اور دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی یا متبادل برائے جرمنی کی طرف ہوا۔ جر من وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق جرمن حکومت نے سن 2015 سے سن 2017 کے وسط تک ایک لاکھ دو ہزار ایسے شامی اور عراقی شہریوں کو ویزے دیے جو جرمنی میں اپنے خاندانو ں سے ملاپ کے خواہشمند تھے۔برلن میں ملکی وزارت خارجہ کو توقع ہے کہ اس تعداد میں سن 2018 تک ایک لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان مزید افراد کو فیملی ری یونین ویزے دیے جائیں گے۔ایسے تارکین وطن جنہیں جرمنی میں پناہ گزین کی حیثیت دی جا چکی ہے، اپنے شریک حیا ت اور نابالغ بچوں کو جرمنی بلانے کے مجاز ہیں۔ اسی طرح پناہ گزین قرار دیے جانے والے نابالغ بچے بھی اپنے والدین کو جرمنی بلا نے کے لیے درخوا ست دے سکتے ہیں۔خیال ر ہے کہ حالیہ انتخا با ت میں مہاجرت مخالف جماعت اے ایف ڈی کی ریکا رڈ کارکردگی اور قدامت پسند اتحاد کو بھاری نقصان کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے حکو مت سازی کے لیے دو جماعتوں کے ساتھ مشکل مذاکرات کے آغاز سے قبل ملک میں مہا جرین کے داخلے کی حد دو لاکھ مقرر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے ۔میرکل کی دو دیگر ممکنہ اتحادی جماعتوں گرین پارٹی اور فری ڈیمو کر یٹک پارٹی نے تاہم اس تجویز کو مسترد کیا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper