آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Uttar Pradesh

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گھٹتی ہوئی کمائی کو دیکھ کر آدھار کارڈ نہیں بلکہ ادھار کارڈ کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے: حاجی فہیم صدیقی

4
Written by Taasir Newspaper

لکھنو(15 اکتوبر)۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بدعنوانی اور غنڈہ راج، سماجی دنگوں سے آزاد حکومت کی بات کرنے والے بی جے پی نیتاو¿ں کو جھوٹ کھل کر سماج کے سامنے آ گیا ہے۔ آج عام معاشرہ کہنے پر مجبور ہے کہ ہمارے وہی پرانے دن برے دن ہی بہتر تھے، انہیں ہی لوٹا دو۔ مہنگائی سے پریشان عوام کی آواز حکومت تک پہنچانے کےلئے تمام سیاسی و سماجی تنظیموں نے متحدہ طور پر مخالفت کرتے ہوئے لکشمن میدان پر دن میں دو بجے سماجک کاریہ کرتا سنگٹھن کے صدر محمد آفاق کی قیادت میں پتلہ نذر آتش کیا۔ جس میں خصوصی طور پر راشٹریہ بھاگی داری انجمن کے صدر پی سی کریل، انڈین نیشنل لیگ کے قومی نائب صدر حاجی فہیم صدیقی، مسلم فورم کے صوبائی صدر ڈاکٹر آفتاب، جن ایکتا منچ کے ڈی کے یادو، مسلم سماج پریشد کے صدر محمد شعیب، نریندر یادو، ڈاکٹر عامل اشرفی، محمد سالم، محمد انس، ڈاکٹر شکیل وغیرہ موجود تھے۔ اس موقع پر سبھی رہنماو¿ں میں مہنگائی کو لے کر کافی ناراضگی دکھائی دی۔ پی سی کریل و فہیم صدیقی نے مشترکہ طور پر کہا کہ جب سے مرکز میں انتہاءپسند ذہنیت والے لوگ حکومت میں آئے ہیں تب سے مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ حکومت خود چاہتی بھی یہی ہے کہ غریب عوام کو مہنگائی، بدعنوانی، مذہبی دنگوں، قبرستان و شمشان، گھر واپسی، مذہب تبدیلی، تین طلاق، مدرسوں میں جن گن من پڑھنا، بس اسی میں ملک کی عوام کو الجھا کر رکھو اور حکومت لوٹ کھسوٹ کرتی رہے کیونکہ کوئی حکومت کی طرف نہ دیکھے، نہ ان سے ان کے چھوٹ پر کوئی سوال کرے، نہ وعدے پورے کرنے کا کوئی دباو¿ بنائے۔ سال-2013 میں جب گیس سلینڈر 455 روپئے کا تھا تو انہیں بھاجپائیوں کو بہت مہنگا لگ رہا تھا، ارہر کی دال 80 روپئے کلو تھی تو سشما سواراج نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ کانگریس پی پی اے حکومت نے آج غریبوں کی تھالی سے دال بھی چھین لی ہے۔ مرکزی حکومت نے جی ایس ٹی ساری چیزوں پر لگایا، لیکن پٹرول اور شراب کو اس سے الگ کیوں رکھا؟ وہ اس لئے کہ حکومت اپنا اور سرمایہ کاروں کا خزانہ بھر سکے۔ جبکہ کچے تیل کی قیمت عالمی بازار میں آدھے سے بھی کم ہوگئی ہے۔ اگر حکومت عوام کو فائدہ پہنچانا چاہے تو اس وقت زیادہ زیادہ پٹرو ل 40 روپئے لیٹر بکنے لگے گا۔ پٹرول سستا ہوگا تو کرایہ بھی کم لگے گا، اس سے اناج، سبزی وغیرہ ساری چیزیں سستی ہو سکیں گی۔محمد آفاق نے سخت لہجے میں کہا کہ اگر نریندر مودی اینڈ کمپنی سے حکومت نہیں چل رہی ہے تو وہ کرسی چھوٹ دیں اور آر ایس ایس کی ہی تشہیر کریں۔ ہندوستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دال 200 روپئے کلو، ٹماٹر 160 سے 200 روپئے کلو کے بیچ تک بکا ہو۔ آج پیاز 50 روپئے کلو تک اور دیگر سبزیوں کی قیمتیں بھی اپنے عروج پر ہےں، مرکزی حکومت فوراً اس پر قابو کریں تاکہ غریب دال، سبزی کھا سکے۔ پتلہ نذر آتش میں محمد شاویز، محمد نسیم، شاہ رخ خاں، جواہر لعل یادو، کیدار ناتھ وغیرہ شامل تھے۔ پتلہ نذر آتش میں سبھی نے مرکزی و ریاستی حکومت کے خلا ف نعرے بازی کی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کم کرو، گیس سلینڈر کے دام کم کرو، ہمارے پرانے دن واپس کرو۔

About the author

Taasir Newspaper