آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Deen

جمعہ کے مسنون اعمال اور اسکے آداب

kids-learn-to-read-al-quran-their-parent-vector-set-children-father-drawn-cartoon-style-vector-very-good-30400823
Written by Taasir Newspaper

شرف الدین عبدالرحمن
رابطہ نمبر7352623849…………………………….
دین اسلام میں جمعہ المبارک کو خاص فضلیت اور اہمیت حاصل ہے.جمعہ کا دن انتہاءعظیم الشان،بابرکت اور مقدس دن ہے.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کو عید کا دن قرار دیا ہے.جمعہ کا دن و مقدس دن ہے جسے تمام دنوں پر فضیلت اور فوقیت دی ہے.اسی دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اور اسی دن آپ کو جنت میں بیجا گیا اور اسی دن جنت سے باہر تشریف لائے.اور یہی وہ عظیم الشان دن ہے جس دن قیامت بی قائم کی جائے گی.اس دن کی عظمت و فضیلت کا انداز ہم اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ قرآن پاک میں جمعہ کے نام سے مستقل طور پر ایک سورت سورہ”جمعہ”موجود ہے.چنانچہ جمعہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر مذ?ب اسلام نے اس کے لئے کچھ آداب اور مسنون اعمال مقرر کئے ہیں جن کی بجاوری ہر ایک شخص کے اوپر ضروری ہے وہ مسنون اعمال اور آداب درجہ ذیل ہیں:-
۔1. جو جمعہ میں شریک ہوں وہ نہا لیں، اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم”جمعہ کے دن ہر مسلمان (بالغ) پر غسل واجب ہے۔”
(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
۔2. اچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنیں اور خوشبو استعمال کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
” تمام مسلمان جمعہ کے دن غسل کریں اور اچھے کپڑے پہنیں اور اگر خوشبو ہے تو استعمال کریں۔”
(مسند احمد و سنن ابی داوﺅد)
۔3. نماز اور خطبہ کے وقت سے پہلے مسجد میں آنا بہتر ہے ، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
“جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرے اور پہلے وقت میں ہی چل پڑے تو گویا اس نے اللہ کے تقرب میں اونٹ دیا اور جو دوسرے وقت یں جائے، گویا اس نے گائے تقرب کیلئے دی اور جو تیسرے وقت میں جائے تو گویا اس نے سینگ والا مینڈھا دیا اور چوتھے وقت میں جائے، وہ ایسا ہے جیسے اس نے مرغی کی قربانی دی اور جو پانچویں وقت میں جائے، گایا اس نے مرغی کا انڈا قربانی میں دیا اور جب امام خطبہ کے لیے آتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کیلئے حاضر ہو جاتے ہیں۔”
(موطا مالک)
۔4. مسجد میں داخل ہونے کے بعد جتنے نوافل آسانی سے پڑھ سکے، پڑھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
” جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے اور استطاعت کے مطابق اچھی طرح وضو کرتا ہے اور تیل یا خوشبو لگاتا ہے اور پھر مسجد میں پہنچ جاتا ہے اور دو آدمیوں میں تفریق نہیں کرتا اور جو اس کے لیے مقدر ہے نماز پڑھتا ہے، پھر امام کے خطبہ میں خاموش رہتا ہے تو اگلے جمعہ تک کے اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، بشرطیکہ بڑے گناہوں کا ارتکاب نہ کرے۔”(صحیح البخاری)
۔5. امام کے آنے پر گفتگو ترک کر دے اور کنکر وغیرہ سے مسغولیت منقطع کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کا فرمان ہے:
” اگر جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو اور تو اپنے ساتھی کو کہے “خاموش ہو جا” تو تو نے لغو کام کیا”
(صحیح مسلم)
نیز فرمایا:
” جو کنکریوں کو ہاتھ لگائے، اس کے لغو کام کیا اور جو لغو کام کرے، اس کا جمعہ نہیں ہے۔”
(سنن ابی داوﺅد)
۔6. اگو کوئی شخص مسجد میں اس وقت آتا ہے، جب امام خطبہ دے رہاہو تو پہلے تحیة المسجد کے طور پر دو ہلکی رکعتیں پڑھ لے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
” جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اس وقت آئے جم امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھ لے اور ان میں تخفیف سے کام لے”
(صحیح مسلم)
۔7. مسجد میں بیٹھنے والوں کی گردنیں نہ پھلانگے اور نہ ان کے درمیان تفریق کرے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لوگوں کی گردنوں پر سے گزرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا”
“بیٹھ جا تو نے ایذا دی ہے”۔
(سنن ابی داﺅد)
نیز فرمایا:
” اور وہ (اکٹھے بیٹھنے والے) دو آدمیوں میں تفریق نہ کرے۔”
(صحیح البخاری)
۔8. جمعہ کی اذان کے بعد خریدوفروخت حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
” جمعہ کے دن جب نماز کی اذان ہو جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلد نکلو اور تجارت چھوڑ دو۔”
(سورة الجمعہ:62، آیت نمبر:9)
۔9. جمعہ کی رات یا دن میں سورة الکھف کی تلاوت مستحب ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ
” جو شخص جمعہ کے دن “سورہ کھف” پڑھتا ہے تو دو جمعہ کے درمیان اس کے لیے نور چمکتا رہتا ہے۔”
(مستدرک حاکم و صححہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وسلم پر جمعہ کے دن کثرت سے درودوسلام پڑھنا چاہئے۔ اس لیے کہ آپ کا ارشاد ہے:
“جمعہ کے دن اور رات کثرت سے مجھے پر درود پڑھا کرو، جو اس کی تعمیل کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا۔”
(رواہ البیھقی)
۔11. جمعہ کے دن کثرت سے دعا کرنا بہتر ہے، اس لیے کہ اس دن میں ایک ساعت دعا کی قبولیت کی ہے، جو اس وقت میں دعا کرتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالٰی اسے قبول کرتا ہے اور جو مانگے دیتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کا فرمان ہے:
“جمعہ کے دن میں ایک ایسا وقت ہے کہ جب کوئی مسلمان اللہ کابندہ اس میں اللہ عزوجل سے اچھائی کا سوال کرے تو وہ یقینا اس کو دیتا ہے۔”
(صحیح مسلم)اللہ تعالی ہم سب کوجمعہ کی فضلیت کوسمجھنے اور اسکے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے.آمین

About the author

Taasir Newspaper