آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Uttar Pradesh

صوفیائے کرام کے اوصاف ہر فتنہ کے خاتمہ کا ذریعہ:سید احتشام علی

Untitled-1 copy
Written by Taasir Newspaper

سہارنپور28اکتوبر ( احمد رضا ) نازک سے نازک حالات میں بھی کل عالم میں صوفیائے کرام نے جس انداز اور اعتماد کے ساتھ پیغام خداوندی کو سہل انداز سے گھر گھر پہنچایا اسکی جس قدر تعریف اور تلقین کی جائے وہ کم ہے کل عالم کا خالق اللہ وہ کل عالم کی پیدائش سے قبل بھی ایک تھا اور آج بھی ایک ہی ہے اور تاقیامت اللہ ایک ہی رہیگا وہی کل عالم کا رب العزت اور خالق وقادر ہے بس اسی پیغام کو عام کیاجانا مو جودہ ماحول میں بیحد ضروری ہوگیاہے خانقا ئے برہانیہ چشتیہ صابریہ اور نظامی کے سجادہ نشین سید احتشام علی نے آج شام ایک اہم گفتگو کے دورا ن مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہم سبو ں کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہوگاہماری زندگی کے تمام گوشے نبی کریم اور آپکے عاشقان ؒکے طریقہ پر آجائیں تو اسی جز اور عمل کا نام ہی ایمان ہے حضور نے فرمایا کہ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، نرم گفتگو، صبر، تقویٰ، حسن سلوک ، پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور حق بات کہنا، غیبت، جھوٹ، فریب اور دغابازی سے خد کو بچاناہی اصل ایمان کی پہچان ہے !سید احتشام علی کہتے ہیں کہ ہم جب جب خوجہ اجمیری کے دربار میں نظرانہ عقیدت لیکر پہنچتے ہیں تب تب ہمارے سجادہ نشین حضرت غریب نوازؒ محترم فخرومیاں کہتے ہیں کہ رسول ﷺ تک رسائی اسی خانقائی طریقہ سے ممکن ہی نہی سہل بھی ہے اسی مقصد سے اپنی خانقاءمیںچشتیہ سلسلہ کی مشہور خا نقائے برہانیہ کے سجادہ نشیں سید احتشام علی چشتی، صا بری، قادری اور برہانی نے فرمایاکہ اللہ کے باعظمت کلام قرآن کی تعلیم اور پیغام م صوفیائے کرام کو عام کیا جانا وقت کا بڑا تقاضہ ہے کیونکہ دنیا گمراہی کے دل دل میں دھنستی جارہی ہے اس دل دل سے نکل پانا مستقبل میں ناممکن ہوجائیگا اگر وقت رہتے ہم نے ہوش نہی سنبھالاتوتباہی یقینی ہے؟ خانقائے برہانیہ پکا باغ سہارنپور کے سجادہ نشین سید احتشام علی چشتی کی زیر رہنمائی یہ روحانی تقریب تلاوت کلام پاک اور نبی پاک ﷺ کی شان میں نظرا نئہ عقیدت کے ساتھ شروع ہوئی اس اہم روحانی تقریب کے اہم ز موقع پر اللہ کے پاک کلام کی تعریف کر تے ہوئے سجادہ نشین نے فرمایا کہ آج کا مسلما ن اپنے مقصد سے گمراہ ہوکر یہودیوں اور عیسا ئیوں اور دیگر قوموںکا غلام بن کر رہگیا ہے۔ ہندوستان کا مسلمان بھی کلام اللہ اور اللہ کے محبوب بندوں کی عملی زندگی کے شاندار اصولوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹک گیاہے۔
جس وجہ سے دنیا میں مسلکی تضاد، گمراہی، تشدد اور نفسانفسی کا عالم ہے !ہمارے سجادہ نشین حضرت غریب نوازؒ محترم فخرومیاں کہتے ہیں کہ اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا اب نبیوںوالا کام اس امت محمدﷺ میں ہی اسکے صوفیوں، نیک بندوں اورمتقی کارندوں کو ہی فوقیت کے ساتھ کرنا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ چودہ سو سال بعد بھی ہماری خانقاہوں سے یہ روحانی فیض کا سلسلہ بغیر امتیاز مذہب اور ملت آج بھی لگاتار جاری ہے ! اسکی تجلیاں آجبھی ہر جگہ ونماہے عالم اسلام میں اللہ کی پاک کتاب، رسول ﷺ کی سیرت کے بعد زریعت اور پھر صوفی ازم کے سہیاور اصل راستہ سے بھٹک گئے ہیں جبکہ ہم جانتے ہیںکہ یہ سبھی فضول باتیں ہیںاور گمراہی کے سوائے کچھ بھی نہی ہے پیارے نبیﷺ کو اللہ نے ہی پیدافرمایا اگر اللہ تعالیٰ پیارے نبیﷺ کودنیا میں پیدانہ فرماتا تو یہ کائناتبھی نہی ہوتی یہ بات حق ہےکہ یہ دنیاءصدقہ ہے حضورﷺ کاجب تک دنیا میں ایک بھی اللہ کہنے والاباقی رہے گا قیامت نہیں آئےگی ! دنیا صوفی ازم کو فوقیت دیتی ہے غوث پاک ؒ سے لیکر داتا گنج البخش، خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیریؒ، بابا علاﺅالدین صابرکلیریؒ نے کل عالم کے انسانوں کو سرزمین ہند سے جو پیغام حق پہنچایا آج یہ اسی کی برکت ہے کہ عالم کے شہنشاہ اور وزیر اعظم بھی ان خانقاہوں پر ہر سال اپنے عقد و احترام کا نظرانہ پیش کرتے ہیں اور فیض پاتے ہیں نبیﷺ آخری نبی تھے اللہ نے اپنا کام مکمل کردیاہے اللہ کے پاک رسولﷺ نے بھی اپنی زندگی کے آخری عشرے میں میدان عرفات میں کل انسانیت کو جو پیغام ارسال کیا آج وہی پیغام خانقاہوں سے چودہ سو سال بعد بھی لفظ بہ لفظ اسی شان سے جاری ہے دنیاکو تشدد سے بچانیکے لئے خانقاہوں کے معتبر پیغام کو عام کیا جاناہی اللہ اور اللہ کے پاک رسولﷺ تک رسائی ممکن ہے۔

About the author

Taasir Newspaper