آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Uttar Pradesh

بنیادی کاموں کو ترجیح بنیاد پر مکمل کرایا جائیگا: شہزاد خان

5+5
Written by Taasir Newspaper

سہارنپور29اکتوبر (احمد رضا) نگر نگم ستر سیکٹروں کیلئے چناﺅ لڑنیوالے امیدواروں کی سرگرمیاں روز برو بڑھتی سردی کیساتھ ساتھ اب عروج پر پہنچنے لگی ہیں ہر علاقہ میں چناﺅ کا ہی ذکر ہے آپکو بتادیں کہ ز نگر نگم کے یہاں ہونیوالے پہلے چناﺅ میں ب بہت کچھ بدلاﺅ دیکھنے کو مل رہاہے پچھلے ساٹھ سالوں سے میونسپل بورڈ ہی یہاںعمل میں رہا مگر چند سال قبل ہمکو نگر نگم کا درجہ دے دیاگیا مگر نگر نگم کے ضابطہ کے مطابق ہمکو کچھ بھی سہولیات جیسے، ترقیاتی کاموں کیلئے منا سب بجٹ، افسران کی بڑی ٹیم، نئی بلڈنگ اور بہتر فلاحی منصو بہ ! بد قسمتی ہمارے شہر کی کہ ہمکو نگر نگم تو ملا مگر سہولیات اور ترقی کے نام پر سب کچھ ندارد ؟ مگر گزشتہ دنوں نکائے چناﺅ کا اعلان ہو جانیکے بعد اب یہ امید جاگی ہے کہ امسال پہلے نگر نگم چناﺅ کے بعد ہمارے شہر کی بد حالی اور بد صورتی جو برسوں سے افسروں کی نااہلی کے سبب یہاں دکھا ئی دے رہی ہے وہ ضرور دفع ہوجا ئیگی ۔ہمارے شہر کے علاقہ محلہ آلی آہنگران کے رہنے والے تعلیم یافتہ نوجوان اور سوشل رہنما حا جی شہزاد خان سے کل دیر رات انکے مکان پر ایک میٹنگ کے دوران مندرجہ بالا نکات پر تفصیلی گفتگو ہوئی تو کو نسلر کا چناﺅ لڑ رہے سیکٹر ۸۶ کے امیدوار شہزاد خان نے کہاکہ ہماری فوقیت شہر کا سدھار اور رائج ٹیکسو ں میں کمی لانا ہوگی گندگی سے جوجھتے شہر کے پچھڑ ے علاقوں کو گندگی سے نجات دلاتے ہو ئے پینے کے صاف پانی کی مستقل سپلائی ، اسٹر یٹ لائٹ اور سڑکوں کی معقول مرمت پر خاصی توجہ دیجا ئیگی۔ ایک سوال کے جواب میں کونسلر کا چناﺅ لڑ ر ہے سیکٹر ۸۶ کے امیدوار شہزاد خان نے کہاکہ ہمار ی یہ ذمہ داری ہوگی کہ نگم میں پھیلی رشوت خوری پر لگام لگے اور عوام کے بنیادی کام سہل انداز میں نپٹائے جائیں کسی بھی شکایت کا نپٹارہ افسران یا متقلق محکمہ حد سے حد پانچ دنو ں میں کر ے تاکہ عام آدمی پریشانی سے بچ سکے ۔ شہزاد خا ن نے زور دیکر کہاکہ ہر صورت بنا کسی لالچ اور دباﺅ کے علاقہ کے عوام کی بہتری کیلئے بنیادی کاموں کو ترجیح کیساتھ مکمل کرایا جائیگا۔ شہزاد خان نے میٹنگ کے بیچ اعلان کیا کہ اگر ہماری جیت ہوتی ہوتی ہے تب بھی اور اگر ہمکو کام کا موقع نہی ملیگا تب بھی ہم ہمیشہ اپنے عوام کی ہر ممکن مدد کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں گے۔

About the author

Taasir Newspaper