آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Deen

!لہو کی پکار

images (1)
Written by Taasir Newspaper
ڈاکٹر عبدالمجیدبھدرواہی
پورے شہرمیں رام ناتھ کے قتل کی خبرسے تہلکہ مچ گیا ۔ہرایک حیران پریشان تھاکیونکہ یہاں ایساپہلی بار ہوا تھا ورنہ یہ شہر توہمیشہ امن کاگہوارہ رہا ہے۔ عجیب بات یہ تھی کہ لاکھ کوششوں کے باوجود قاتل کاکچھ پتہ نہ چل رہاتھا۔نہ توکوئی عینی شاہد تھا اورنہ ہی آلۂ قتل ۔یہاں تک کہ پولیس بھی بے بس نظر آرہی تھی ۔معاملے کی تحقیقات کے لئے سپیشل ٹیم تعینات کی گئی نتیجہ پھربھی کچھ نہ نکلا۔مقتول کے اہل وعیال ، رشتہ دارچونکہ اثرورسوخ والے نہ تھے اورنہ ہی روپے پیسے والے اس لئے کیس کی صحیح پیروی نہ ہوسکی۔بالآخر کیس کوٹھنڈے بستے میں ڈال کرداخل دفترکردیا۔
رام ناتھ کاساتھی رحمت اللہ اسی فیکٹری میں کام کرتاتھا۔وہ سیٹھ ایشورلال کاذاتی ڈرائیورتھا۔بڑاہی وفادار اورایماندار۔سیٹھ ایشورلال بڑے دبدے والااورمغرورشخص تھا۔اس کے ہاں روپے پیسوں کی ریل پیل تھی ۔نوکرچاکر۔گاڑیاں۔بلڈنگیں بے شمار تھیں۔ وہ بڑا متکبر تھااورکسی کوخاطر میں نہیں لاتا تھا۔ رحم نام کی کوئی چیز اُس میں تھی نہیں ۔اپنے ماتحت ملازموں کوتوگھاس پھوس سمجھتاتھا۔وہ جب فیکٹری میں آتاتوسبھی ملازم سہم جاتے تھے اور جس طرف بھی جاتا وہاں کامتعین ملازم تھرتھرکانپنے لگتا۔ذراسی غلطی نوکری سے برطرفی کاباعث بنتی تھی، اس بات کی پرواہ کئے بغیرکہ اس کے عیال کاکیاہوگا۔سیٹھ ایشورلال نے ایک دن رحمت اللہ کوبھی نوکری سے نکال دیا۔اس کی اتنے سالوں کی وفاداری اور خدمت کاکچھ بھی خیال نہ کیا۔قصورصرف اتناتھاکہ پچھلے چندماہ سے بیماررہنے کی وجہ سے وہ بار بار چھٹیاں مانگ رہاتھا۔ علاج کرواناتودورکی بات برخواستگی سے قبل نوٹس بھی نہ دیاگیا۔یہاں تک کہ واجب الادا تنخواہ بھی نہ دی گئی ۔کوئی جرات کرسکتاتھاکہ سیٹھ کوکہے کہ اسکی تنخواہ اُسے دی جائے۔
برطرفی کے دوسرے دن سے ہی یوں لگنے لگاجیسے رحمت اللہ کبھی اس فیکٹری کاملازم تھاہی نہیں۔ اب چونکہ نوکری چھوٹ گئی تھی اس لئے غربت نے اُس کادروازہ زورزورسے کھٹکھٹاناشروع کیا۔نوبت فاقہ کشی کی حدتک پہنچنے لگی۔ گھر کا چولہا اب اکثرٹھنڈاہی رہتاتھا۔اس بات کاپتہ جب ڈاکٹرمنیب کوچلاتووہ رحمت اللہ کے گھرگیا،جہاں اداسی اورمایوسی کے سواکچھ بھی نہ تھا۔اسکی اکلوتی جوان بیٹی تھی۔بیوی پہلے ہی فوت ہوچکی تھی۔
ڈاکٹرمنیب بڑے سالوں سے سعودی عربیہ میں نوکری کرتاتھا۔وہ ہرسال ایک دوماہ کی چھٹی پرگھر آیاکرتاتھا۔یہاں آکرمحلہ داروں،رشتہ داروں اورسبھی جاننے والوں سے ملتاتھا۔یہ اس کاہرسال کامعمول تھا۔بڑاہی خوش اخلاق اورملنسارتھا۔اکثرہرایک کاحال دریافت کرتاتھااورکسی نہ کسی طرح مددبھی کرتاتھا۔اس بارجب اُس نے رحمت اللہ سے نوکری سے سبکدوشی کی وجہ پوچھی توسُن کربہت پریشان ہوا۔پوری بات سن کراُس نے رحمت کوصبرکی تلقین کی اورہرقسم کی مددکی یقین دہانی کرائی۔کچھ روپے بھی دیئے ۔اسکوعلاج کرنے کی غرض سے ہسپتال میں داخل کروایا۔یہ ہمدردی اوراپنائیت کے الفاظ سن کرخوشی کے مارے رحمت اللہ اوراسکی بیٹی کے آنسونکل آئے۔رحمت اللہ نے ڈاکٹرمنیب کولاکھ لاکھ دعائیں دیں۔ڈاکٹرمنیب نے یہ دیکھ کر صرف اتناکہاکہ ’’آپ تو میرے والدکے برابرہیں میں نے کون سابڑااحسان کیاہے ۔یہ تومیرافرض ہے ۔‘‘
ڈاکٹر منیب کی دیکھ بھال اوربہترین علاج کے باوجودرحمت اللہ کی حالت دن بدن خراب ہوتی گئی۔پھرایک دن اسکی حالت بہت ہی نازک ہوگئی ۔اُس نے ڈاکٹرمنیب کوبلاوا بھیجااوراس کورام ناتھ کے پراسرار قتل کی پوری کہانی سنائی کہ کس طرح سیٹھ ایشورلال نے اسکے سرپرلوہے کی سلاخ ماری اورکس طرح وہ وہیں ڈھیرہوگیا ۔کسی کوبھی سیٹھ پرشک نہ ہواکیونکہ اس وقت فیکٹری میں چھٹی ہوچکی تھی ۔رحمت اللہ اس واقعہ کاواحدچشم دیدگواہ تھا۔اب چونکہ وہ مررہاتھااس لئے وہ یہ بوجھ یہاں ہی اُتارکے جاناچاہتاتھا۔اس نے ڈاکٹرمنیب کوکہا کہ وہ قتل بالکل اُسکے سامنے سیٹھ ایشورلال نے نہ جانے کس وجہ سے کیاتھا۔یہ بھی کہاکہ سیٹھ کووہاں اُسکی موجودگی کابالکل پتہ نہ تھا۔رحمت اللہ دراصل اسی المناک حادثے کے صدمے کی وجہ سے بیماررہنے لگاتھا۔
رحمت اللہ نے کہانی کچھ یوں بیان کی:
’’رام ناتھ ہماراپراناساتھی تھا اورمیری طرح مفلس آدمی تھا۔اُس کے قتل کی وجہ سے میں اندرہی اندرگھُٹتارہااوربیماررہنے لگاجب تک کہ اس حالت کوپہنچا۔ انسانیت کے تقاضے سیٹھ کومیراباقاعدہ علاج کرواناچاہیئے تھامگراُس نے تومجھے نوکری سے ہی نکال دیا۔اتنابڑا ظلم اورناانصافی کی میرے ساتھ۔پھرایک دن میں نے اس قتل کی پوری آنکھوں دیکھی کہانی لکھ کررکھی ۔تب سے میں کسی موزوں شخص کی تلاش اورانتظارمیں تھاجواس کہانی کومیرابیانِ نزع سمجھ کرعدالت تک پہچائے تاکہ قصوروارکوسزامل سکے اورمقتول کواوراس کے گھروالوں کوانصاف۔اب چونکہ میراآخری وقت قریب آرہاہے اس لیے میں یہ نوشتہ آپ کودے رہاہوں تاکہ آپ میرابیانِ نزع سمجھ کرعدالت میں پیش کریں۔آپ سے زیادہ کون موزوں شخص ہوسکتاہے کیونکہ آپ اُس پاک مقدس سرزمین میں نوکری کرتے ہیں اورایک مقدس پیشے سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔
رحمت اللہ نے یہ نوشتہ دیتے وقت ڈاکٹرمنیب سے وعدہ لیا کہ وہ اُس کی لڑکی کااپنی بیٹی کی طرح خیال رکھے گا۔یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ ڈاکٹر راجناتھ بھی وہاں آگیا۔اب دونوں ڈاکٹروں نے آپس میں صلاح، مشورہ کرکے یہ فیصلہ کیا کہ اگلے دن یہ نوشتہ عدالت میں پیش کریں گے۔تقریباً اسی وقت رحمت اللہ اس دُنیاسے چل بسا۔اب صرف اُس کی بے سہارابیٹی تھی، جس کا ڈاکٹرمنیب کے علاوہ کوئی سہارا نہ تھا۔
تقریباً دوسال قبل جب ڈاکٹر منیب رحمت اللہ کی خیریت پوچھنے کے لئے اُس کے گھرآیاتھا۔اُس وقت وہ بالکل صحت منداورخوش وخرم تھا۔ان لوگوں کی خیرخیریت معلوم کرناڈاکٹرصاحب کامعمول بن چکاتھا۔گفت وشنیدکے دوران رحمت اللہ نے ڈاکٹرمنیب سے ایک واقعہ کاذکرکرتے ہوئے کہا تھاکہ ایک روزایک صاحبِ کشف وکرامات درویش سیٹھ ایشورلال کی فیکٹری میں آیا۔اُس دن رحمت اللہ اپنی بیٹی کوبھی اپنے ساتھ فیکٹری لایاتھا۔اُس نے درویش کی فرمائش پراُسے چائے پلائی ۔لڑکی کے بارے میں پوچھنے پرکہ یہ کون ہے رحمت اللہ نے اس درویش سے کہاکہ جناب یہ میری بیٹی ہے۔آج ادھرمیرے ساتھ آنے کی ضدکی اس لئے اسکواپنے ساتھ لایا۔یہ درویش صفت شخص ابھی جانے ہی والاتھاکہ سیٹھ فیکٹری میں داخل ہوئے۔درویش کوفیکٹری کے اندردیکھ کرپوچھاکہ یہ کون غلیظ آدمی ہے اوریہاں کیوں آیاہے۔وہ بہت ناراض ہوا۔تم تڑاخ سے حکم دیاکہ اسکویہاں سے باہرنکال دو۔میں ان درویشوں ،فقیروں کوگھاس نہیں ڈالتا۔یہ سب ڈھونگی اورپاکھنڈی لوگ ہوتے ہیں۔ درویش کے پوچھنے پرکہ یہ کون مغرورشخص ہے ۔میں نے کہاکہ یہ اس فیکٹری کامالک ہے۔اب درویش نے بولا’’تمہاراسیٹھ جب جیل کی روٹیاں کھائے گاتب اس کاغرورٹوٹے گااورتیری بیٹی جونہایت سلیقہ مندہے اُسکی شادی سعودی عرب میں ہوگی اوروہ وہیں بسے گی‘‘۔
سیٹھ نے جب یہ سناتوغصے سے پھنکارتاہواوہاں سے باہر نکلا۔کہاکہ اس گدھے کودفع کرو۔اسکوکہوکہ میں کون ہوں اوریہ بکواس بندکرے۔ یہ کہتے ہوئے سیٹھ باہر نکلا۔سیٹھ کے جاتے ہی درویش نے کہاکہ ’’جیل کے علاوہ سیٹھ سربازارقتل ہوگا‘‘۔یہ کہہ کردرویش نکل پڑا۔
اب ڈاکٹرمنیب اس قصے کو،جورحمت اللہ نے قریباً دوسال قبل اُسے سُنایاتھا،سیٹھ کے قتل اوراُس کی یقینی قیدسے جوڑنے لگا بیٹی کے سعودی عرب جابسنے کی پیشین گوئی پربھی سوچنے لگا۔
اس کے بعد ڈاکٹرمنیب اورڈاکٹرراجناتھ اسی تھانہ میں، جہاں رام ناتھ کے قتل کی FIRدرج کی گئی تھی ، گئے اور متعلقہ افسر کو ساری کہانی سناکر رحمت اللہ کی تحریر پیش کی۔ دونوں ڈاکٹروں کاتصدیق شدہ بیان صحیح مان لیاگیا۔کاروائی شروع ہوگئی ۔بیانِ نزع اوراسکے شواہد کوپوری اہمیت دی گئی ۔سیٹھ کو گرفتار کیا گیا۔ ریمانڈ پر ریمانڈ۔پھرسیٹھ کودرویش کی بات یادآئی  مگراب کیاکرسکتاتھا۔۔۔۔درویش کی بات تیرکاکام کرگئی ۔کافی روپیہ پیسہ خرچ ہوا۔ نامی گرامی وکیلوں کی خدمات حاصل کی کیں۔ کافی بحث مباحثہ اورتگ ودوکے بعدمشکل سے 6ماہ بعد جیل سے ضمانت پر رہائی ملی۔اُدھررحمت اللہ کی لڑکی کی ڈاکٹرمنیب نے اپنے بیٹے کے ساتھ بڑی دھوم دھام سے شادی کی اوردونوں سعودی عرب میں جا بسے ۔
درویش کی ان دوباتوں کاسیٹھ کوپتہ تھا۔تیسری بات کااُس کوعلم نہ تھا کہ وہ سرِعام قتل ہوگا۔کیونکہ جب سیٹھ تیزتیزقدموں سے باہر نکلا تھا تب درویش نے ایساکہاتھاکہ’’جیل کے ساتھ ساتھ سرعام قتل ہوگا‘‘۔اب درویش کے بارے میں کس سے معلوم کرے۔رحمت اللہ توفوت ہوچکاتھا۔
اب ڈاکٹر منیب کوسعودی عرب فون کرکے منت سماجت کی کہ رحمت اللہ کی بیٹی سے بات کروائو۔ لڑکی نے بولاکہ تیسری بات درویش نے یوں کہی تھی کہ سربازارقتل ہوگا۔یہ سن کرسیٹھ کے ہوش اُڑگئے۔ رنگ پیلا پڑ گیا، ہونٹ خشک اورزبان تھتھلانے لگی۔اب اُس نے فیصلہ کیاکہ وہ بازار کی طرف نکلے گاہی نہیں اور وہ گھرکے اندررہنے لگا۔گھٹ گھٹ کرمرنے لگا۔باہرقد م نہ رکھا۔بیماریوں نے حملے کرنے شروع کئے۔کبھی یہ بیماری توکبھی وہ بیماری۔کبھی فشارخون،کبھی پیچش توکبھی الٹیاں،کھانسی، پیٹ درد،سرچکرانا،نظرکی کمزوری، جوڑوں میں درداورایسی ہی نئی بیماریاں دستک دینے لگیں۔نیندکاآنابھی بندہوگیا،جو سب سے زیادہ پریشانی کا باعث بننے لگا۔چہرے کارنگ پیلاپڑ گیا۔آہستہ اہستہ جسم بہت لاغرہوتا گیا اورصر ف ہڈیوں کاڈھانچہ رہ گیا۔مشکل سے ہی کوئی کہہ سکتاتھاکہ یہ سیٹھ ایشورلال ہے۔ہردن اسکواپناآخری دن نظرآنے لگا۔اس کواب زندگی کی کوئی اُمیدنہ رہی ۔بہت سوچ بچار کے بعداس نے اپنا جرم کاقبول کرنے کاارادہ کیا۔یہ ارادہ بھی کیاکہ مقتول کے لواحقین سے معافی مانگ کر انہیں منہ مانگا ہرجانہ بھی دوں گا۔جائیدادکابڑاحصہ مقتول کے وارثوں کودوں گا اور باقی مندر دھرم شالہ کو وقف کردونگا۔گھرکے اندرہی رہتے رہتے وہ بہت تنگ آچکاتھاوہ باہرکی روشنی کوآخری باردیکھناچاہتاتھا۔اس مقصد کیلئے وہ مطلوبہ ایماندار شخص کی تلاش بھی کررہاتھا۔یہ اوردوسری مختلف قسم کی سوچیں لیکروہ مندرمیں ماتھاٹیکنے جارہاتھا کہ ایک تیزرفتارگاڑی کی زدمیں آکر وہ وہیں آناً فاناً دم توڑبیٹھا۔ بعدمیں یہ پتہ چلاکہ گاڑی اُسی مقتول کے بیٹے کی تھی جسکوسیٹھ نے قتل کیاتھا ۔لڑکے کویہ پتہ تھایا نہ تھا،یاپھراس نے ایساجان بوجھ کرکیاکہ یہ وہی سیٹھ ہے جس نے اس کے با پ کو قتل کیاتھا ۔بہرحال وہ کارمیں لٹاکراُسے ہسپتال تولے گیامگر تب تک وہ دم توڑبیٹھاتھا۔چونکہ سیٹھ کی موت پچھلے ٹائیرکی زدمیں آنے سے ہوئی تھی ۔اس لئے کاروالے کوچھوڑدیاگیا۔

 

About the author

Taasir Newspaper