اردو | हिन्दी | English
379 Views
Deen

اسرائیل ۔۔۔ بالفور اعلامیہ کی سو سالہ قیامتیں!

c07dbfe0-27d6-4188-a909-faa40067327f
Written by Taasir Newspaper
۔ 1917 ء میں نومبر کی دو تاریخ کو برطانیہ کی وزارت خارجہ سے وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے ایک خط کے ذریعے صہینیوں کو یہ اطلاع دی کہ برطانوی حکومت فلسطین میں یہودی نیشنل ہوم کے قیام کو قبولیت کی نظروں سے دیکھتی ہے ۔ برطانوی وزارت خارجہ سے یہ رسمی خط  صہینیوں کی عالمی تنظیم کو ارسال ہونے کے بجائے اُس خط پہ برطانوی یہودیوں کے لیڈر لارڑ والٹر راتھ چائلڈ کا ایڈرس تھا۔ لارڑ والٹر کا خاندان راتھ چائلڈ برطانیہ کے ساتھ ساتھ پورے یورپ پہ حاوی تھا۔ یورپ کی اقتصادی زندگی پہ اِس خاندان کی اتنی چھاپ تھی کہ یورپی اقوام کی حکومتوں کو اِس خاندان کے افراد کو خوش رکھنے میں ہی اپنی عافیت نظر آتی تھی بنابریں وزیر خارجہ آرتھر بالفور کا لارڑ والٹر راتھ چائلڈ کے نام مکتوب کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی۔اور تو اور آرتھر بالفور کے اِس مکتوب کو برطانوی کابینہ کی مکمل تائید حاصل ہو چکی تھی ۔اِس مکتوب کو تاریخ بالفور ڈیکلریشن کے نام سے جانتی ہے اور اِسی اعلانیہ سے فلسطینیوں کی بد بختی کا آغاز ہوا۔ برطانوی سامراج نے صہینیوں کو خوش کرنے کیلئے اہلیاں فلسطین کو تاریخ کی بھٹی میں جھونک دیااور آج گئے ایک صدی سے فلسطینی عوام پہ جبر و تشدد کا ایک قہر ٹوٹ پڑا ہے اور دور دور تک اُنکے سنبھلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔
برطانوی سامراج کے زائیدہ ء حرام اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بالفور ڈیکلریشن کی صد سالہ تقریبات کاجشن منانے کیلئے لنڈن جانے کا پروگرام بنایا۔ برطانیہ کی خاتون وزیر اعظم تھریسا مئی نے اُنہیں مدعو کیا تاکہ برطانیہ پہ صہینیوںکا دست شفقت بنا رہے ۔اِس موقعے کی مناسبت سے برطانوی وزیر اعظم کا ایک بیان بھی عالمی مطبوعات میں منظر عام پہ آیا۔موصوفہ کے بیاں میں یہ اقرار سامنے آیا کہ اسرائیل بالفور ڈیکلریشن کا شاخسانہ ہے اور اُسی کے ساتھ ساتھ اُن کا یہ بھی کہنا رہا کہ ’’ہمیں بالفور ڈیکلریشن کے بارے میں کچھ لوگوں کی حساسیت کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے اور ہمیں اِس امر کی پہچان ہے کہ اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔اسرائیل اور فلسطین کے ضمن میں ہم دو ریاستوں کی تشکیل کے وعدہ بند ہیں‘‘ تھریسا مئی کا یہ بیاںآرتھر بالفورکے اُس تحریر سے مختلف نہیں جو سر والٹر راتھ چائلڈ کے نام 1917 ء میں نومبر کی دو تاریخ کو ارسال ہوا تھا۔ اِس نامے میںآرتھر بالفور نے یہ بھی رقم کیا تھا کہ ’’یہ بات مشخص ہے کہ کہیں بھی یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ فلسطین کی موجودہ غیر یہودی آبادی کے شہری و دینی حقوق متاثر ہوں یا دوسرے ممالک میں یہودیوں کے حقوق اور اُن کی سیاسی حثیت‘‘ ایک صدی گذرنے کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ فلسطین کی غیر یہودی آبادی کے شہری و دینی حقوق کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے اور رہی دوسرے ممالک میں یہودیوں کے حقوق اور اُن کی سیاسی حثیت ،اِس بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ عالمی سیاست ہی یہودیوں کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ کسی ملک میں اتنا دم نہیں کہ یہودیوں کے حقوق اور اُن کی سیاسی حیثیت کو چلینج کرے۔عالمی اقتصاد سے لے کے عالمی مطبوعات تک یہودی چھائے ہوئے ہیں اور حکومتیں اُنکے منشا پہ بنتی بھی ہیں اور بگڑتی بھی ہیں اور یہ حقیقت سب سے زیادہ عالمی سپر پاور امریکہ پہ صادق آتی ہے۔
فلسطین کے ساتھ جو سانحہ آج گئے سو سال پہلے پیش آیا اُس کی گوناگوں وجوہات ہیں۔فلسطین سمیت عربی ممالک خلافت عثمانیہ میں شامل تھے ۔ترکوں اور اعراب کے درمیان دراڑ ڈالنے میں مغربی کی سراغ رساں ایجنسیاں 19ویں صدی میں ہی مشغول ہوئیں اور یہ سلسلہ  20ویں صدی کے وسطی سالوں تک بھی چلتا رہا ۔ مغرب کے کئی معروف جاسوس اِس دور کی سیاہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں حتّی کہ اُن میں سے کئی ایک پہ فلمیں بھی بن چکی ہیں ۔اِن میں سے سب سے نمایاں نام لارنس آف عربیہ کا ہے ۔لارنس آف عربیہ کے بعد سر جان گلب جو گلب پاشا کے نام سے جانے جاتے ہیں اور مصر میں برطانیہ کے سفیر رسل پاشا کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔ مغرب کے اِن اہلکاروں کے کئی رنگ تھے مثلاََ جہاں گلب پاشا عراق و اردن میں عربی افواج کی کماں میں مشغول تھے وہی رسل پاشا مصر میں سفارتی امور سنبھالے ہوئے تھے البتہ حدف ایک ہی تھا : عربی نیشنلزم کی نشو و نما ،وطن پرستی کے اِس تیر نے اسلامی اتحاد کو چھلنی کر کے رکھ دیا اور اعراب کیلئے ترکوں کی عثمانی خلافت نا قابل قبول بن گئی۔
خلافت عثمانیہ کی جڑوں کو کمزور کرنا مغربی طاقتوں مخصوصاََ برطانوی سامراج کے اہم ترین احداف میں شامل تھا ۔پہلی جنگ عظیم میں ترکوں نے جرمنی کا ساتھ دیا ۔ترک برطانیہ اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف صف آرا ہوئے لیکن داخلی کمزریوں نے خلافت عثمانیہ میں وہ دم نہیں رکھا تھا جس سے بلقان یعنی مشرقی یورپ کی ریاستیں اِس حد تک خوفزدہ تھیں کہ مائیں اپنے بچوں کو یہ کہہ کے سلاتی تھیں کہ ’’سو جاؤ غازی آ رہے ہیں‘‘!اعراب میں قوم پرستی کے جراثیم سرایت کرنے سے خلافت مفلوج ہو چکی تھی یہاں تک کہ ترکی کو یورپ کا مرد بیمار(Sick Man of Europe) کہا جانے لگا۔ ترکی کی اہمیت اُس کے جغرافیائی محل وقوع میں ہے ۔ترکی ایک یورشین ملک ہے یعنی یہ آشیائی بھی ہے اور یورپی بھی اور دونوں بر اعظموں کی سرحدآبنائے باسفورس ہے ۔ آبنائے باسفورس شہر قسطنطنیہ کے بیچوں بیچ بہتی ہے ۔اِس شہر کو آج کل استنبول کہا جاتا ہے۔خلافت عثمانیہ کے دوراں اِسے اسلامبول بھی کہا جاتا تھا۔یورپ کے مشرقی کنارے پر ایک اسلامی خلافت کا وجود یورپ کیلئے نا قابل برداشت تھا لہذا داخلی رخنہ اندازی سے اِس خلافت کی جڑوں کو کوکھلا کیا گیا ۔
جنگ عظیم اول کے دوران جنگ میں ترکی کو ہزیمت اٹھانی پڑی۔کہتے ہیں جب برطانوی افواج یروشلم (القدس) میں داخل ہوئیں تو برطانوی جنرل نے یہ کہا کہ آج صلیبی جنگ پایہ تکمیل کو پہنچی ہیں ۔اِس کے بعد کئی معاہدے ہوئے جن میں 1916ء کا اینگلو فرنچ سکیس پیکوٹ ایگریمنٹ (Anglo-French Sykes-Picot Agreement) 1919ء میں پیرس امن کانفرنس اور  28جون   1919ء میں معاہدہ ورسلیز(Treaty of Versailles)کو گنا جا سکتا ہے۔ برطانوی حکومت کو فلسطین کا منڈیٹ حاصل ہوا بہ معنی دیگر فلسطین پہ برطانوی حکومت کی اجارہ داری قائم ہوئی جس کے بعد بالفور ڈکلریشن یعنی اعلانیہ منظر عام پہ آیا جس کی رو سے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کی راہ ہموار کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔برطانیہ اور اُسکے اتحادیوں کو صہینیوں کی جنگ میں حمایت کا صلحہ چکانا تھا ۔یہ تو ایک جانی پہچانی حقیقت ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے بنکوں کے اکثریتی حصص یہودی امرا کے نام ثبت ہیں اور یہودیوں کی اقتصادی حمایت کے بغیر جنگی اخراجات کا متحمل ہونا نا ممکن تھا۔یورپی جنگوں میں یہودی سرمایہ کاری یورپ کی تاریخ میں ثبت ہو چکی ہے ۔یہ حقیقت صدیوں پہ محیط ہے۔اپنے سرمایے کو تحفظ دینے کیلئے یہودیوں نے بنک انڈسٹری شروع کی اور تب ہی سے بنک کاری کا اجرا ہوا۔
صیہونی اقتصاد عالم و عالمی مطبوعاتی اداروں پہ چھانے کے بعد بھی خالص یہودی ریاست نہ ہونے سے نالاں تھے ۔قوم یہود یہ بھی نہیں بھولے تھے کہ حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کے دور حیات میں اُنکی ایک اسرائیلی ریاست ہوا کرتی تھی۔یہ ریاست پہلے حضرت طالوت کی سربراہی میں قائم ہوئی اور اِسے شمالی اسرائیلی ریاست نامیدہ گیا۔ حضرت داؤد ؑ نے اِس میں فلسطین کی تمام تر اراضی کو شامل کر کے اُسے متحدہ اسرائیلی ریاست کا نام دیا۔ ازمنہ قدیم کی اِس ریاست کی تشکیل نو کیلئے یورپی یہودی جنہیں اشک نازی (Ashkenazis) کہا جاتاہے فلسطین میں آباد ہونے لگے اور یہ سلسلہ بالفور ڈیکلریشن کے بعد ہی شروع ہونے لگا۔نو آباد کاری کے اِس سلسلے نے فلسطین کی اُس قومی روش کو متاثر کرنا شروع کیا جہاں فلسطینی مسلمان،عیسائی و مشرق وسطی کے یہودی (سفارڈیک:Sephardics)  صدیوں سے امن و آشتی سے رہ رہے تھے۔یورپی یہودیوں کی نو آباد کاری سے صدیوں کی امنیت متاثر ہوئی حتّی کہ اِن مہاجرین نے دہشت گرد تنظیموں کی تشکیل سے جہاں بھی ممکن ہو سکا زور و زبردستی سے زیادہ سے زیادہ اراضی پر قابض ہونے کی کاروائی شروع کی۔ایک ایسی ہی دہشت گرد تنظیم کے لیڈر مناحم بیگن بنے جو دور بعدی میں اسرائیل کے وزیر اعظم بن گئے۔
1947/48ء میں یہودی ریاست کی تشکیل اُنہی علاقوں میں ہوئی جہاں ازمنہ قدیم میں شمالی اسرائیلی ریاست قائم ہوئی تھی ۔یہودیوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کیلئے اعراب کے ساتھ جنگ کا آغاز بھی ہوا لیکن پیشرفتہ آتشیں اسلحہ کے سامنے اعراب کے مقاومتی دستے مات کھا گئے اور اِس دور میں  750,000فلسطینی بیدخل ہو گئے اور قریبی عرب ممالک اردن،مصر و شام میں فلسطینی مہاجروں کی آمد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے اُن علاقوں کو اسرائیل میں شامل کیا جو حضرت داؤد ؑ کے دور حکومت میں متحدہ اسرائیلی ریاست کے حصے تھے اِن میں رود اردن کا مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غازہ کی پٹی شامل تھے ۔ 1967ء سے آج تک پے در پے عالمی کوششوں کے باوجود اسرائیل نے ایک فلسطینی ریاست کی تشکیل کو عملی ہونے نہیں دیا ہے۔ 1993ء میں اوسلو ایگریمنٹ کے تحت اسرائیل نے ایک فلسطینی ریاست کے وجود کو تسلیم کیا لیکن آج تک یہ ریاست بہ معنی کلمہ وجود میں نہیں آئی۔یہ صیح ہے کہ ایک فلسطینی اتھارٹی رود اردن کے مغربی کنارے پہ قائم ہوئی جس کے سربراہ اپنے دور حیات میں فلسطینی لیڈر یاسر عرفات رہے اور آج محمود عباس اُس کی رہنمائی کر رہے ہیں لیکن اِس فلسطینی اتھارٹی کے پاس ایک میونسپلٹی کے اختیارات سے زیادہ طاقت نہیں ہے ۔مغربی کنارے کی سیکورٹی پہ اسرائیل پوری طرح حاوی ہے ۔زمینی اور آبی راہروں کے علاوہ مغربی کنارے کی فضاؤں پر بھی اسرائیل حاوی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی بے بسی دیکھ کے غازہ کی پٹی پہ حماس نے ایک آزاد ریاست کے قیام کی کوششوں کا آغاز کیا لیکن شدید مقاومت کے باوجود آج تک اسرائیل نے غازہ پٹی کی ناکہ بندی قائم رکھی ہے۔جہاں فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی ریاست کے وجود کو تسلیم کیا ہے وہی حماس آج تک اسرائیل کے نا جائز وجود کو نکارنے پہ کمر بستہ ہے۔فلسطینی اتھارٹی اور حماس کے متضاد رویے نے فلسطینی اتحاد کی کوششوں کو عملی نہیں ہونے دیا ہے گر چہ آجکل پھر سے اتحاد کی کوششوں کا آغاز ہوا ہے ۔اِن کوششوں کا اسرائیل اِس وجہ سے مخالف ہے کہ حماس کیلئے اسرائیلی ریاست کا وجود قابل قبول نہیں۔
اسرائیل کی بے پناہ طاقت کے سامنے بے بسی کے باوجود فلسطینی عصر حاضر میں ایک ایسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جہاں حالات کی روش اُن کے حق میں ہو سکتی ہے۔ بالفور ڈیکلریشن کے سو سال پورے ہونے کے بعد اسرائیل ایک مخمصے میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے۔ اسرائیلی ریاست میں جہاں  6ملیون یہودی بستے ہیں وہی  2ملیون فلسطینی اعراب بھی بستے ہیں۔مغربی کنارے پر بھی 2ملیون فلسطینی اعراب بستے ہیں اور آبادی کی یہی شرح غازہ کی پٹی پر بھی آباد ہے یعنی  2ملیون اور مجموعاََ فلسطین کی مجموعی آبادی بھی   6ملیون ہے۔مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر دو ریاستوں کے عالمی فارمولے کے بجائے اسرائیل ایک ہی ریاست کے وجود پہ قائم رہا تو اسرائیلی ریاست کو فلسطینی اعراب کو وہی جمہوری حقوق دینے پڑیں گے جو یہودیوں کو حاصل ہیں جس کیلئے اسرائیل حاضر نہیں چونکہ اِس سے ایک خالص یہودی ریاست کی ساخت متاثر ہوتی ہے اور یہی سبب بنا کہ  2005ء میں اسرائیلی وزیر اعظم ارئیل شرون نے اپنی فوجوں کو غازہ کی پٹی کو چھوڑنے کا حکم دیا چونکہ ایک ہی ریاست میں وہ غازہ پٹی کے  2ملیون فلسطینی اعراب کو شامل نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔اِس حکمت عملی کے باوجود مغربی کنارے کے 2لیون فلسطینی اعراب جمہوری حقوق سے محروم اسرائیلی تسلط میں رہ رہے ہیں حالانکہ کم و بیش نصف ملیون یہودیوں کو جنہیں مغربی کنارے پہ بسایا گیا ہے جمہوری حقوق حاصل ہیں۔
اسرائیل اِس مخمصے میں گرفتار ہے کہ مغربی کنارے کے 2 ملیون فلسطینی اعراب کو جمہوری حقوق دینے کے بعد اُس کی یہودی شناخت متاثر ہو گی لیکن قابض رہنے کے باوجود جمہوری حقوق سے انکار سے اُس پہ نسلی امتیاز کا الزام لگ سکتا ہے ۔ یہودی قوم کبھی بھی نہ ہی خود آرام سے رہی ہے نہ ہی دوسروں کو آرام سے رہنے دیتی ہے۔ایک فلسفی کا یہ قول کہ دنیاکو ہمیشہ یہودی سوال کا سامنا رہے گا !بالفور ڈ یکلریشن کے سو سال پورے ہونے پہ یہ سچ ثابت ہو رہا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper