اردو | हिन्दी | English
55 Views
Around the World

ایران کی لبنان میں عدم مداخلت خطے کے استحکام کی کلید : فرانسیسی وزارتِ خارجہ

French Foreign Minister Jean-Yves Le Drian attends a news conference following the talks with his Russian counterpart Sergei Lavrov in Moscow, Russia September 8, 2017. REUTERS/Maxim Shemetov - UP1ED980YCKDR
Written by Taasir Newspaper

پیرس،۴۱نومبر(پی ایس آئی)فرانس کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان کے داخلی امور میں ایران کی عدم مداخلت خطے کے استحکام کے لیے ایک بنیاد ی اور اہم شرط ہے۔فرانسیسی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ایجنس رومیتت ایسپاغنے نے سوموار کو اپنی روزانہ کی نیوز بریفنگ میں کہا ہے :” ہماری یہ خواہش ہے کہ جن کا بھی لبنان میں اثر ورسوخ ہے، وہ اس ملک کے سیاسی اداکاروں کو اپنی ذمے داریاں مکمل طور پر ادا کرنے کا موقع دیں“۔انھوں نے کہا:” مسٹر سعد الحریری نے گذشتہ روز ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان اور اس کے ہمسایوں کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرے۔ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ خطے کے استحکام کے لیے یہ ایک اہم شرط ہے“۔ ایران پر نئی پابندیاں:ترجمان نے ایران کے خلاف اس کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام پر ضرورت پڑ نے پر نئی پابندیا ں عاید کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے ۔ ایران نے اتوار کو فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام پر بات چیت کے مطا لبے کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ملک کے دفاع کے لیے ہے اور اس کا عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خاتون ترجمان ایجنس رومیتت ایسپاغنے نے صحافیو ں سے گفتگو میں کہا کہ ” جیسا کہ آپ جانتے ہیں،یورپی یو نین نے پہلے ہی ایران کے بیلسٹک پروگرام سے وابستہ اداروں پر پابند یاں عاید کررکھی ہیں“۔ان سے صدر ما کر وں کے گذشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات کےد ورے کے موقع پر اس بیان کی وضا حت کے لیے سوال پوچھا گیا تھا کہ ایران کے خلاف بیلسٹک میزائل پروگرام پر نئی پابند یا ں عاید کی جاسکتی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ” اگر ضرورت پڑی تو یہ نئی قدغنیں عاید کر دی جائیں گی“۔امریکا نے گذشتہ منگل کو ایران پر حوثی باغیوں کو سعودی عرب کی جانب فائر کیا جانے والا بیلسٹک میزائل مہیا کرنے کا الزام عاید کیا تھا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف سلا متی کونسل کی دو قرار دادوں کی خلاف ورزی پر کارروائی کر ے۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی مما لک بھی ایران کے خلاف اسی قسم کے الزاما ت عاید کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران یمن کے حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائلوں کے علاوہ دو سرا اسلحہ بھی مہیا کررہا ہے اور یہ اسلحہ یمن میں 2015ءمیں مسلح تنازعے کے آغاز سے قبل موجود نہیں تھا۔ تاہم ایران ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ ڑاں وائی ویس لی دریان اسی ہفتے سعودی عرب اور اس کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے ہیں ۔ خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ ” فرانس اور ایرا ن کے درمیان سیاسی مکالمے کا عمل جاری ہے اور اس میں تزویراتی اور علاقائی امور سمیت تمام موضوعات پر گفتگو کی جائے گی۔ مسٹر لی دریان جب ایران جائیں گے تو وہ وہاں پ±ر عزم انداز میں مکالمہ کریں گے“۔

 

About the author

Taasir Newspaper