اتر پردیش

جماعت اسلامی ہندکا اے ایم یو ایریا میں اسلامی خطابات

Profile photo of Taasir Newspaper
Written by Taasir Newspaper

علی گڑھ ۷نومبر(پریس ریلیز)مسجد ادارہ تحقیق و تصنیفِ اسلامی علی گڑھ میں جماعتِ اسلامی ہند اے ایم یو ایریا کے ماہانہ دعوتی و تربیتی اجتماع میں مسلم یونیورسٹی کے جید اساتذہ کرام ، مختلف شعبوں کے ہونہار ریسرچ اسکالرس ، ادارہ تحقیق و تصنیفِ اسلامی کے محققین ، ادارہ علومِ القرآن کے باحثین، ایس آئی او کے فعال نوجوانان اور حلقہ¿ نسواں کی ایک کثیر تعداد نے پھرپور فائدہ اٹھایا۔دہلی سے تشریف لائے مولانا ولی اللہ سعیدی فلاحی ، مرکزی سکریٹری جماعتِ اسلامی نے بدلتے ہوئے حالات میں قرآن و سنت کی رہنمائی کے عنوان پر سیر حاصل خطاب فرمایا۔انہوں نے مثبت انداز میں حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے سامعین کو ان کی زندگی کا اصلی مقصد، وجود بتایا۔مرکزی سکریٹری نے شام، عراق، فلسطین اور برما کے حوالے سے یہودیت و نصراانیت کی بربریت اور بوکھلاہٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے ملکِ عزیز ہندوستان میں ہندوتوو کی شدید ہیجانی کیفیت کا خلاصہ کیا ۔انہوں نے واضح کیا کہ پوری دنیا مل کر آج اسلام کی شمع کو گل کرنے کے در پے ہے لیکن اللہ کا دین اسی تیز رفتاری سے انسانوں کے مطالعہ و تحقیق کا عنوان بنتا چلا جا رہا ہے۔ مولانا سعیدی نے کہا کہ زد و کوب ، ظلم و زیادتی اور عرصہ¿ حیات کو تنگ کرنے کی کوششیں صاف اشارہ کر رہی ہیں کہ آپ بیدار ہیں ایسے نازک دور میں آپ کی ذمہ داری دو چند ہوجاتی ہے کہ ایک طرف غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے اپنی پوری توانائیاں صرف کریں دوسری طرف مثالی سماج کی تعمیر کے لئے غربت کا خاتمہ کرنے اور تعلیم کو فروغ دینے میں وقت لگائیںاور سب سے اہم یہ کہ مایوسی اور تشدد سے خود بچیں نیز آج کے نوجوانوں کو اس جانب رخ کرنے سے بچائیں۔مہمان خطیب نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کو زوال سے نکلنے اور ابھرنے کے لئے فرمایا تھا کہ قرآن اور سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو اور دنیا کی محبت اور موت سے خوف کو اپنے دلوں میں ہرگز ہرگز جگہ نہ لینے دینا۔جماعتِ اسلامی کے ماہانہ اجتماع میں مسلم یونیورسٹی کے اساتذہ سے استفادہ کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔پندرہ سالوں سے بلا ناغہ جاری نومبر ۷۱۰۲ کے پہلے اتوار میں پروفیسر سعود عالم قاسمی، سابق ڈین دینیات فیکلٹی اے ایم یو نے سیرتِ نبوی اور انسانی اقدار کے عنوان سے پر مغز خطاب فرمایا۔وحدتِ الہ اور وحدتِ آدم کے تصور پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام کا آفاقی نظریہ ہی در اصل اس کی بقا اور ہر دل عزیزی کا ضامن ہے ۔پروفیسر نے الحمد للہ رب العالمینکوقرآن کا دیباچہ قرار دیتے ہوئے ربوبیت اور رسالت پر با معنی کلام پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ عالمین کے رب کا سب سے عظیم اور قیمتی تحفہ رسالت مآبﷺ کو رحمت للعالمین بنا کر مبعوث کرنا ہے۔ترمذی شریف کے حوالہ سے ان فطری قدروں کی طرف انہوں نے اشارہ کیا جو معاشرہ کی تعمیرو تشکیل میں حقیقی کردارادا کرتی ہیں۔ مثلاً سلام کو رواج دینے سے الفت ویگانگت اور تحفظ و سلامتی کا احساس مستحکم ہوتا ہے، غریبوں ، ناداروں اور یتیموں کو کھانا کھلانے سے غربت و افلاس اور تنگ دستی کو سمجھنے نیز اس سے ابھرنے کا سلیقہ ہاتھ آتا ہے۔پروفیسر قاسمی نے کہا کہ آخری نبی کا پورا مشن اور اس کی تبلیغ و اشاعت ہمارا مشن ہے ہمیں رحم کے رشتوں کو جوڑنا ہے، انسانی قدروں کو قائم کرنا ہے۔انہوں نے سامعین کو باخبر کیا کہ دیکھو انسانوں کو خدمتِ خلق کے کاموں میں دان دینے سے پہلے ان کا سمان ضروری ہے ۔سورہ والضحیٰ میں تکریمِ انسانیت کی جو بات کہی گئی ہے مولانا سعود قاسمی نے ابھی حالیہ دنوں میں اس قرآنی سیرت کو پروفیسر لارنس کی قبولیتِ اسلام کی بنیاد بتایا جس کا اظہار خودلارنس نے مسلم یونیورسٹی کے ایک علمی مذاکرے میں کیا جس میں موصوف خود موجود تھے۔جلسہ کا آغاز برادرِ عزیز محمد اللہ کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔کلمہ¿ تشکر دا کرتے ہوئے امیرمقامی مولانا اشہد جمال ندوی نے کہا کہ اس مسجد کو اسلام کی نمائندہ مسجدبنانے کا عمل ادھر چند برسوں سے جاری ہے یہاں جمعہ کے اردو زبان میں خطابات نماز کا حصہ ہیں۔
، پردہ نشین خواتین کی الگ صفیں ہر جمعہ و عیدین میں بچھائی جاتی ہیں نیز ناظرہ اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے مسجد کے مخیر خادمِ دین اور منتظم کے لئے دعا میں حاضرین کو شریک کیا۔امیرِ مقامی نے برادرانِ وطن سے دوستی بڑھانے، ان کے دکھ درد میں پیش قدمی کرنے اور اپنے اندر حرکت و عمل پیدا کرنے کا زادِ راہ پیش کیا۔

About the author

Profile photo of Taasir Newspaper

Taasir Newspaper

Skip to toolbar