اردو | हिन्दी | English
54 Views
Around the World

دو افغان صوبوں میں طالبان کے حملے، 37 سکیورٹی اہلکار ہلاک

3
Written by Taasir Newspaper

کابل،۴۱نومبر(پی ایس آئی)افغانستان کے دو مختلف صوبوں میں طالبان عسکریت پسندو ں کے مختلف حملوں کے نتیجے میں کم از کم 37 افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملے افغانستان کے مشرقی اور جنوبی صوبوں میں کیے گئے۔ مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ طا لبان کی طرف سے یہ حملے سکیورٹی فورسز کی مختلف چیک پوسٹوں پر کیے گئے۔ صوبہ قندھار کی پولس کے ترجمان مطع اللہ ہلال کے مطابق طالبان کے ایک گروہ نے اس صوبے کے ڑری اور میوند نامی اضلاع میں پندرہ مختلف چیک پوائنٹس پر حملہ کیا۔ ہلال کے مطابق، ”22 پولیس اہلکار ہلاک اور 15 دیگر اہلکار ان حملوں میں زخمی ہوئے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ حملے پیر کی شب کیے گئے اور لڑائی کا سلسلہ منگل کی صبح تک جاری رہا۔قند ھار پولیس کے ترجمان مطیع اللہ ہلال نے مزید بتایا کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے ان حملوں میں خودکش بمبار اور بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا۔ افغان سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 45 عسکریت پسند ہلاک اور 35 دیگر زخمی ہوئے۔ اسی دوران افغانستان کے مغر بی صوبہ فراہ میں بھی طالبان عسکریت پسندوں نے آج منگل 14 نومبر کو علی الصبح افغان فوج کی دو چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے ضلع بالا بلوک میں کیے گئے۔ فراہ کی صوبائی کونسل کی ایک خاتون رکن جمیلہ امینی نے بتایا، ”بدقسمتی سے 15 فوجی ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔“ امینی نے مزید بتایا کہ ایک چیک پوسٹ کچھ وقت تک کے لیے طالبان کے قبضے میں بھی رہی تاہم افغان فورسز نے بعد ازاں فضائیہ کی مدد سے اس چیک پوسٹ کا قبضہ دوبارہ واپس حاصل کر لیا۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمد نے دونوں صوبوں میں کیے جا نے والے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے افغان فورسز کے بھاری جا نی نقصان کا دعویٰ کیا۔پیر 13 نومبر کے روز بھی طالبا ن عسکریت پسندوں کی جانب سے فراہ کے صوبائی دارالحکومت میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کے نتیجے میں آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔خبروںکے مطابق افغانستان بھر میں طالبا ن عسکریت پسندوں کی جانب سے رات کے اوقا ت میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹس اور بیسز پر حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper