اردو | हिन्दी | English
355 Views
Deen

طلاق کی مختلف صورتیں اور انکی توضیح

579107-talaq4
Written by Taasir Newspaper
جواب:۔ طلاق رشتہ نکاح ختم کرنے کا نام ہے۔ اسلام کی نظر میں طلاق سخت ناپسندیدہ ہے۔ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی نظر میں تمام حلال کاموں میں سب سے زیادہ قابل نفرت طلا ق ہے۔ اسلئے کہ نکاح کا رشتہ کوئی وقتی یا عارضی رشتہ نہیں ہے۔ قرآن کریم نے اس کو مضبوط اور پائیدار بندھن قرار دیا ہے۔ نکاح کے نتیجے میں مردوعورت زندگی بھر کے رفیق و شفیق بن جاتے ہیں۔ اسی کے ذریعہ حلال اولاد کی نعمت ملتی ہے اسی کی وجہ سے دونوں کی جنسی ضرورت پوری ہوتی ہے ۔ اسی کی نتیجے میں خاندان وجود میں آتے ہیں۔ یہ بے شمار خوشیوں اور راحتوں کا ذریعہ ہے۔ اسی کا بہترین ثمرہ یہ نکلتا ہے ایک نیا گھرانہ وجود میں آتا ہے۔ اسی نکاح کے نتیجے میں مسلمان مردو عورت شریعت کےسینکڑوں احکام پر عمل کرنے کا موقعہ پاتے ہیں۔ ورنہ اُن احکام پر زندگی بھر عمل ہو ہی نہیںسکتا۔ اس لئے نکاح عبادت بھی ہے، نعمت بھی ہے، سامان راحت بھی ہے اور بہت ساری ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا امتحان بھی ہے۔ نکاح کے اثر ات پوری زندگی اور پورے خاندان پر پڑتے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبہ میں عظیم تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ اگر میاں بیوی کا رشتہ ٔنکاح کامیاب اور خوشگوار بن گیا تو پھر زندگی خوشیوں ، راحتوں، سکون ِدل اورآرامِ جان سے بھرجاتی ہے۔ لیکن اگر رشتہ نکاح میں تلخیاں ہوں، مزاجوں میں موافقت نہ ہو، ایک دوسرے کو خوشی دینے کے بجائے رنج مل رہا ہو تو میاں بیوی ایک دوسرے کےلئے نعمت اور راحت نہیں بلکہ زحمت اور مصیبت بن جائیں۔ جب وہ آپس میں رحمت کے بجائے نفرت اور زحمت پہونچانے لگیںاور اس طرح یہ رشتہ کامیاب ہونے کے بجائے ناکام اور خوشگوار ہونے کے بجائے ناگوار ہونے لگے تو اس کو ختم کرنے کےلئے طلاق کی اجازت دی گئی۔ جیسے نکاح کے اثرات پوری زندگی پر مرتب ہوتے ہیں اسی طرح طلاق کے اچھے یا بُرے اثرات پوری زندگی پر بہرحال پڑتے ہیں۔ لہٰذا حکم یہ ہے کہ جب رشتہ نکاح میں تلخی ،ناگواری اور ایک دوسرے کو اذیت پہونچانے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کو محبت اور شفقت سے سمجھانے کا کام کیا جائے۔ نیز ضروری ہے کہ ہر چھوٹی بڑی بات کو مسئلہ بنانے کے بجائے اعراض کرنے اور صبر و برداشت کرنے کا مزاج بنایا جائے۔ ہر وقت ذہن میں یہ رکھا جائے کہ ہم دو میں سے جس کی طرف سے بھی کوئی ناگواری کی بات پیش آئے تو اُس پر غصہ یا انتقام یا گلہ شکوہ کے بجائے خاموشی، برداشت اور مسئلہ کو اعراض کے خانے میں ڈالنے کا رویہ اپنانا ہمارا وطیرہ ہوگا۔ اگر معاملہ مزید آگے بڑھاتو پھر بسترہ الگ کر لیا جائے۔ اگر اس سے بھی اچھے نتائج نہ نکلے تو پھر دونوں خاندانوں کے معاملہ فہم اور صلح صفائی کرانے کا تجربہ رکھنے والے با اثر افراد کو حَکَم بنایا جائے۔ وہ دونوں کے احوال ِشکایات، وجۂ نزاع اور دونوں کی خامیوں وکو تاہیوں کو گہرائی سے سمجھ کر دونوں کو اصلاح کے مشورے دے کر تدابیر سمجھائیں۔ قرآن کریم میں یہ تدابیر بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا۔ اگر وہ دونوں سدھار کرنا چاہیں تو اللہ دونوں کو اسکی توفیق عطا فرمائیں گے۔ یعنی مزاجوں میں جوڑ پیدا ہوگا ۔ایک دوسرے کو راحت پہونچانے کا جذبہ اُبھر ےگا۔ دونوں اپنے فرائض ادا کرنے کی پوری فکر کریں گے۔ ایک دوسرے کی اذیت برداشت کرنے اور اپنی طرف سے اذیت نہ پہونچانے کا مزاج بنے گا۔ اس طرح زندگی آگے چلے گی۔ اگر اس کے بعد بھی سدھار نہ ہوا اور طلاق ہی آخر حل محسوس ہونے لگے تو پہلے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل و مشکلات پر اچھی طرح غور کرنا ضروری ہوگا۔ ساتھ ہی طلاق دینے نہ دینے کے متعلق اپنے متعلقین سےمشورے بھی کرنے کاسلسلہ شروع کیا جائے اور اس کے علاوہ استخارہ بھی کیا جائے کہ اللہ کی طرف وہی سبیل اختیار کرنے کی توفیق ملے جس میں دونوں کے لئے خیر ہو۔ اس کے بعد اگر طے ہوگیا کہ طلاق دینا ہی دینا ہے تو پھر ضروری اور بہت ضروری ہے کہ طلاق کے اصول و ضوابط کسی عالم سے پوچھے جائیں۔ وہ اصول مختصراً یہ ہیں۔ طلاق دینے کے دو طریقے ہیں۔ ایک سنت کے مطابق اور ایک سنت کے خلاف۔ جو طریقہ سنت کے خلاف ہے اُس سے مکمل طور پر پرہیز کرنا شریعت کا حکم ہے۔ یہ خلاف سنت طریقے سے طلاق دیناجرم بھی گناہ بھی اور اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کا قدم بھی ہے ۔ اسلئے اس سے ایسے ہی بچنا چاہئے جیسے انسان زہر یا آگ سے بچتے ہیں۔ خلاف سنت طریقے سے طلاق دینا جرم ہے مگر کسی نے اگر یہی طریقہ اپنایا تو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ کوئی شخص ہر گز اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ خلاف سنت طریقے سے اگر طلاق دی گئی تو واقع نہ ہوگی۔ قرآن حدیث اور اجماعِ امت سے یہ ثابت ہے اور پوری اسلامی تاریخ میں اسلامی عدالتیں، مسلمان قاضی اور مفتی ہمیشہ سے یہی فیصلہ کرتےآئے ہیں کہ سنت کے مقررہ طریقے کی خلاف ورزی کرکے جو شخص طلاق دے جائے وہ طلاق واقع ہو جاتی ہے اور طلاق دینے والا مجرم، گنہگار اور مستحقِ سزا ہوتا ہے۔سنت کے خلاف دی گئی طلاق کو فقہ اسلامی میں طلاق بدعی کہا جاتا ہے ۔اس کی چند اہم صورتیں یہ ہیں۔
(۱) حالت حیض میں عورت کوطلاق دی گئی، یہ طلاق بدعت ہے۔
(۲) پاکی کی حالت میں طلاق دی مگر اُسی پاکی کی حالت میں پہلے ہمبستری بھی پائی گئی ہے، یہ بھی طلاق بدعت ہے۔
(۳) بیک وقت تین طلاق دی گئی ،چاہئے کچھ بھی جملے ہوں مثلا جملہ یہ ہو’’ میں نے تین طلاق دی ۔ کشمیری عرف میں عموماً جملہ یوں ہوتا ہے۔ ’سہ طلاق چُھوئے‘۔ یا جملہ یوں بولا جائے طلاق ، طلاق ،طلاق یا یوں بول دیا کہ تجھے طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے۔ غرض کہ ایک ہی دفعہ ایک ہی مجلس میں تین طلاق دینا طلاق بدعت ہے۔یہ جرم بھی ہے گناہ بھی ہے اور یہ شخص مستحق تعزیز بھی ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاق دے دیں۔ جب حضرت رسول اکرم ﷺ  کے پاس یہ معاملہ پہونچا تو جوں ہی آپ نے یہ سنا کہ بیک وقت تین طلاق دی گئیں ہیں تو غضبناک ہوگئے۔ شدت ِناراضگی میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ اللہ کی کتاب کے ساتھ کھلواڑ ہو رہاہے حالانکہ میں ابھی اس دنیا میں موجود ہوں۔
یہ چند صورتیں طلاق بدعت کی ہیں اور ان سے بچنا ضروری ہے۔
اب اگر مسلمان کو طلاق دینے کے بغیر کوئی چارہ نہ رہے تو وہ یا تو طلاق حَسَنَ دے، یا طلاق اَحسن دے۔ طلاق احسن یہ ہے کہ عورت جوں ہی حیض سے پاک ہو جائے تو پہلے سے ذہناً تیاری کرکے اس عورت سے ہمبستر ہر گز ہر گز نہ ہوں اور پھر صرف ایک طلاق دے دیں۔
اس کے بعد عورت کو مزید کوئی طلاق ہر گز نہ دیں۔ یہاںتک کہ اس کی عدت تین حیض یا تین ماہ پورے ہو جائیں۔ اس کے بعد یہ عورت میکے رخصت ہو جائے یا دوسری جگہ نکاح کرے۔ یہ صرف ایک طلاق سے رشتہ ختم ہوگیا۔ اس کے بعد اگر ایک طلاق دینے والا شوہر پھر رشتہ جوڑنا چاہئے تو عدت میں رجوع کرے اور عدت کے بعد جوڑنا چاہیں تو تجدید نکاح کر لیں۔ رجوع کرنا یا تجدین نکاح کرنا دونوں کسی مستند عالم یا مفتی سے پوچھ کرسیکھ کر کریں۔ مگر یہ صرف ایک طلاق تھی، جو عدت کے بعد بائنہ ہوتی ہے۔
دوسری صورت طلاق احسن کی ہے۔
عورت حالت حمل میں ہو تو صرف ایک طلاق دے اور پھر وضع حمل تک نہ ہمبستری کی جائے نہ دوسری طلاق دی جائے، یہاں تک وضع حمل ہو جائے۔ اب اگر رشتہ واپس کھڑا کرنا ہو تو تجدید کریں اور بس ۔
طلاق سنت کی دوسری قسم طلاق حسن ہے۔اور وہ یہ کہ عورت ماہواری سے جوں ہی پاک ہو جائے تو اس سے ہمبستر نہ ہوں اور ایک طلاق دی جائے۔ پھر اس سے الگ رہیں۔ پھر جب وہ عورت اگلی ماہواری سے گذر کر پھر پاک ہو جائے تو دوسری طلاق دی جائے اور دونوں کے بعد دوسری ماہواری آگئی اور وہ بھی ختم ہو جائے تو تیسری پاکی کے وقت میں تیسری طلاق دی جائے۔ اس طرح یہ رشتہ اب ہمیشہ کےلئے ختم ہو گیا اور اب نہ تو رجعت ہوسکتی ہے اور نہ ہی تجدید نکاح کرکے یہ رشتہ جوڑا جاسکتا ہے۔
طلاق احسن اور طلاق حسن دونوں میں میاں بیوی کو سوچنے سمجھنے، سدھرنے اور سنبھلنے کا پورا موقعہ میسّر رہتا ہے۔پھر رجعت یا تجدید نکاح کرنے کا راستہ موجود ہوتا ہے ۔ مگر تین طلاق کے بعد یہ چانس ختم ہو جاتا ہے اب طلاق کے چند اورمسائل ملاحظہ ہوں۔
(۱)  طلاق غصہ میں دی جائے یا ٹھنڈ ے ماحول میں وہ بہر حال واقع ہو جاتی ہے۔
(۲) طلاق واقع ہونے کے لئے گواہ ہونا ضروری نہیں ہیں ۔بغیر گواہوں کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
(۳)  طلاق دینے کے وقت بیوی کا موجود ہونا یا بیوی کا سننا ضروری نہیں ہے۔ اس کے بعد بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
(۴) طلاق عورت کی رضامندی یا قبول کرنے پر موقوف نہیں رہتی۔ اگر شوہر طلاق دےگیا اور عورت نے وہ تسلیم نہ کیا تب بھی طلاق پڑ جاتی ہے۔ رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔
(۵)  طلاق زبانی دی جائے یا لکھ کر دی جائے یا فون پر دی جائے یا SMSکے ذریعے دی جائے ،ہر حال میں طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
(۶) طلاق لکھوانے یا لکھی ہوئی طلاق کی تحریر پر دستخط کرنے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ،چاہئے زبان سے کچھ نہ کہا ہو۔
(۷) ہنسی مذاق میں طلاق دی جائے تو وہ طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے۔
(۸) شوہر دل سے رضامند نہ تھا مگر کسی کے اصرار اور دبائو میں آکر طلاق دے گیا ،چاہئے زبانی یا تحریری تو طلاق واقع ہوگی۔
(۹) شوہر نے طلاق دی، زوجہ نے قبول نہ کی، معاملہ کورٹ میں پہونچا اور کورٹ نے بھی طلاق مسترد کر دی تو اس صورت میں بھی طلاق واقع ہوگئی۔ عورت کے تسلیم نہ کرنے اور کورٹ کے رد کرنے سےوہ طلاق ختم نہ ہوگی۔ بلکہ ان کا رشتہ نکاح طلاق کی بنا پر ٹوٹ گیا۔ اب اگر یہ صرف ایک بار طلاق تھی تو رجعت کرسکتے ہیں اور عدت کے بعد تجدید نکاح کرسکتے ہیں۔ اگر تین طلاق تھی اور کورٹ کےفیصلے کی وجہ سے آپس میں پھر جوڑ پیدا کر لیا گیا تو ان کے تعلقات زوجیت حرام اور غیر شرعی ہونگے کیونکہ وہ شرعاً زوجین ہر گز نہیں۔ اب ذیل میں چند صورتیں ہیں،وہ بھی ملاحظہ ہوں، جس میں طلاق نہیں ہوتی ہے۔
(۱)  صرف سوچنے ، عزم کرنے یا ارادہ کرنے سے یا دل ہی دل میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہ ہوگی۔ جب تک تلفظ نہ پایا جائے۔
(۲) نیند یا بے ہوشی میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہ ہوگی۔
(۳) دیوانہ پاگل مجنون اگر طلاق دے تو وہ واقع نہ ہوگی۔
(۴) دونوں میاں بیوی طویل عرصہ جدا رہے تو اس سے طلا ق واقع نہ ہوگی۔
(۵) غصہ میں گالی گلوچ، مار دھاڑ، ڈانٹ ڈپٹ ہو جائے تو اس سے طلاق نہ ہوگی۔ جب تک طلاق کا لفظ یا طلاق کی نیت سے کوئی اور نہ بولے۔
(۶)  شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کے نہ چاہتے ہوئے بلکہ کسی معقول وجہ کے کورٹ، یا برادری یا کوئی مفتی کسی عورت کو طلاق دے تو یہ طلاق واقع نہ ہوگی۔ جب تک شوہر زبان سے یا تحریر پر دستخط نہ کرے ۔

About the author

Taasir Newspaper