اردو | हिन्दी | English
552 Views
Deen

مجھے میرے آدھار کارڈ سے بچاؤ

aadhar-card_0
Written by Taasir Newspaper
میر مشتاق ۔۔۔کنہ گنڈ بیروہ
   آج کل کی دنیا میںاگر چہ کسی بھی شہری کے پاس اپنا کوئی نہ کوئی پہچان پترہونابہتر ہے لیکن ہماری وادیٔ کشمیر میں وقت وقت پر ہر فرد بشر کے لئے شناختی کارڈ اپنے ساتھ کئی گھمبیرمسائل لایا، مثلاً جب 1990ء میں یہاں کے حالات نے اچانک پلٹا کھایا تو کئی سال تک شناختی کارڈکی اہمیت اس قدر بڑھ گئی کہ اگر جیب یا گھر میںکسی چیز کی حد سے زیادہ تلاش یا قدر کی جاتی تھی تو وہ صرف identity card ہی ہوا کرتا تھا۔ نامساعد حالات کے چلتے یہاں کے عوام کی بدقسمتی یہ تھی کہ جس کے پاس یہ کارڈ موجود ہوتا ، اس کی بھی فورسز کے ہاتھوں مار پٹائی ہوتی تھی اور جس کے پاس یہ نہیں ہوتا اُس کے جسم وجان سے کھلاواڑ ہونا بھی اس کا مقدر ہوتی تھی۔ اس کی وجہ کیا تھی، آج تک بدنصیب عوام یہ راز جاننے سے قاصر ہیں ۔کچھ سال بعد مرکزی سرکار نے تمام لوگوں کیلئے شناختی کارڈ کو ایک نیا نام’’ الیکشن کارڈ‘‘ دیا۔ لوگوں کو یہ کارڈ بنانے کیلئے شروع شروع میں کئی کئی دفاتر کا رُخ کرنا پڑتا ، لمبی قطاروں میں رہنا پڑتا، فوٹو گرافروں سے سلام دعا کرنا پڑتا ۔حد تو یہ ہے کہ عوام کے شناختی کارڈ کے بنانے کی چاہ میں ہمارے معزز اساتذہ کو سکول چھوڑ کر فیلڈ میں جاکر BLOبننا پڑتا رہا۔ پھروقت گزرنے کے ساتھ مرکزی سرکار نے اچانک آدھار کارڈ بنانا ہر شہری کے لئے لازم و ملزوم قرار دیا ۔ گزشتہ شناختی کاڑوں کی طرح یہ مسلٔہ عام لوگوں کیلئے باعث پریشانی بلکہ دردسربنا ہوا ہے ۔ سرکاری معاملات اور بنک کاری میںمذکورہ کارڈ کی اہمیت اس قدر بڑھا دی گئی ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں ایک شوہر کو گھر میں آنے جانے یا اس سے کھانا مانگنے کے لئے اپنی شریک حیات کے سامنے آدھار کارڈ پیش کرنا ہو گا تاکہ سند رہے۔حیرانگی کی بات یہ بھی ہے کہ اب مذکورہ شنا ختی کارڈ کو انسانی پیٹ کے ساتھ بھی جوڑدیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے جاری شدہ سرکاری حکم نامے کے مطابق مستقبل میں اُسی فرد کو سرکاری راشن نصیب ہوگی جس کے پاس یہ انمول چیز یعنی آدھار کارڈ ہوگا۔ موبائیل کمپنیاں اور بنک بھی عوام سے آدھار لاؤ آدھار لاؤ کی پٹی پڑھاتے رہتے ہیں ۔ ستم یہ کہ اپنا یاا پنوں کا آدھار کارڈ بنانے کے لئے متعلقہ سرکاری کرمچاری کو ڈھونڈیئے تو وہ کہیں نظر نہیں آئے گا اور اگر خدا خدا کر کے نظر آبھی جائے تو وہ آپ کو آدھار کے لئے اگلے جنم تک انتظار کر نے کی تاریخ دے گا ۔ آپ اگر بڑی نرمی سے یہ کہیں حضور مجبوری ہے ، مہربانی کر کے ذرا سی جنم میں یہ کارڈ بنائیں تو وہ ناک بھوئیںچڑھا کر کہے گا میں کیا کوئی مشین ہوں ، اپنی باری کا انتظار کیجئے اور چلتا بنئے ۔ آپ کو اس کے طر ز گفتار پر غصہ ضرور آئے گا مگر آپ کو غصہ پینا ہی پڑے گا کیونکہ قانو ن کا ڈنڈا اس کے پاس ہے نہ کہ آپ کے پاس ۔ اب آپ بے نیل ومرام واپس گھر لوٹیں گے تو کسی اپنے ہمراز دوست ہمسایہ کو اپنا دُکھڑا سنائیں گے ۔ وہ آپ کی عقل پہ ماتم کر تے ہوئے بولے گا یہ بھی کوئی بات ہوئی ، آپ نے سرکاری کرمچاری کی جیب گرم کی ہوتی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک  عددآدھار کیا پرودگار ِ عالم کی دنیا میں ہر شئے آپ کے سامنے پیش کرتا۔ جب آپ نے اُسے مودی کا کوئی نیا پانچ سو والاکراہ نوٹ نہ دکھایا وہ بچارہ مجبور ہو کر آپ کے منہ پہ وہ وہ کہہ گیا جو شاید خود مودی بھی کہنے کی جرأت نہ کرتا ۔ آپ ہمسایہ کے ا س مفت مشورے پر اگلے روز عمل کرکے پانچ سو کا نوٹ ’’صاحب بہادر ‘‘ کی جیب کے نذر کریں گے تو یہ تماشہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھیں گے کہ وہی مستقل یا عارضی ملازم جس نے ایک ہی روز قبل آپ کی ہتک عزت کر نے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، وہ آپ کو وی آئی پی کی طرح ٹریٹ کر ے گا اور سرگوشی کے انداز میں بولے گا آپ معزز شہری ہیں ، بڑے شریف لگتے ہیں ،میرا گھر فلاں جگہ ہے ، شام کو وہیں آیئے ، میں سرکاری مشین گھر لا کر آپ کا آدھار کارڈ چٹکیوں میں بناؤں گا مگر کسی سے کہنا نہیں ، یاد رکھئے ہم مجبور لوگوں کے خادم ہیں ۔ جب آپ وقت مقررہ پر اور مقررہ جگہ پر جاتے ہیںتو وہاں آدھار کارڈ بنانے والوں کا تانتا بندھادیکھ کر سمجھ جاتے ہیں ابھی اس دنیا میں ’’انسانیت‘‘ نام کی کوئی چیز ہے جو مقررہ فیس کی ادائیگی سے وقت پر ہرا یک کے کام آتی ہے ۔ یہ حال دیکھ کر آپ کو یہ غم نہیں کھائے گا کہ رشوت ادا کر کے آپ کا آدھار بنا بلکہ آپ اس راشی کرمچاری کو دعائیں دیں گے کہ جس نے اس جنجال سے آپ کو نجات دی ۔
  دنیا جانتی ہے کہ آج کل ہر سرکاری حکم عام آدمی کے لئے راحت نہیں بلکہ مصیبت ہی اپنے ساتھ لاتا ہے ۔اگر یہ بات نہیں تو کیا سرکار آدھار کو عوام کی شہ رگ بنانے سے قبل یہ حکم صادر نہیں کرسکتی تھی کہ متعلقہ عملہ مقررہ بستی میں مقررہ وقت پر حاضر ہو جائے اور وہاں لوگوں کا آدھار کارڈ بنانے کا ٹارگیٹ پوراکرے،ا گر اس کا م میں سرکاری کرمچاری ناکام ثابت ہوئے یا حکام کو کسی ہیرا پھیری کی شکایت موصول ہوئی تو متعلقہ ملازم کی تنخواہ کاٹ دی جائے گی اور اس کے علاوہ قرار قانون ایکشن بھی لیا جائے گا ؟ اس حکم نامے سے ایسا ماحول پیدا ہوتا کہ نہ آدھار کارڈ بنانے میں کسی کو بلیک میل کیا جاتا ، نہ رشوت کابازار گرم ہوتا ، نہ کسی کی تنخواہ کٹتی اور نہ ہی کسی غریب کی راشن کٹتی۔ کیا سرکار یہ عیاں حقیقت نہیں جانتی کہ یہاں کے سرکاری کارندے عام طور خوفِ خدا کے بجائے وٹامن آر ( یعنی رشوت وبدعنوانی ) سے ہی اپنای ڈیوٹی کرتے ہیں۔
ایک بات عام انسان کے دل و دماغ میں اُتر تی ہی نہیں کہ اگر آدھار کارڈ کی یکایک اہمیت اتنی بڑھا دی گئی کہ اس کے بغیر انسانی وجود نامکمل ٹھہرا تو اس کو بنانے میں سرعت سے کام کیوں نہیں لیا جاتا تاکہ ہر کوئی ا سے بآسانی حاصل کر سکے؟ اس بات سے ہر خاص وعام واقف ہے کہ ایک عام انسان کو آدھار کارڈ بنانے کے حوالے سے کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ پہلی بات یہ کہ بی ایل او صاحبان جب آدھار کارڈ کے لئے گھر کے ہر فرد کا اندراج کرتے ہیں تو عرصۂ دراز کے لمبے انتظار کے بعد جب لوگوں کو کارڈ بنانے کے لئے بلایا جاتا ہے ، وہاں لسٹ میںمرد کو عورت کے نام سے اور عورت کو مرد کے نام سے دیکھ کر عام لوگوں پر غشی طاری ہو جاتی ہے ۔اس کے بعد قیامت کا دوسرا دور شروع ہوجاتا ہے کہ نام کی دُرستی کے لئے لوگ سرکاری دفاتر کا رُخ کرکے آدمی کو دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، اوراگر خدا کے فضل و کرم سے کسی شخص کا اندراج دُرست بھی کیا جاتا ہے تو جب دوسری مرتبہ مقامی تحصیل آفس میں آدھار نامی آفت کی پڑیا کو حاصل کرنے کیلئے شخص مذکورہ لمبی قطار میں گھنٹوں کھڑا رہتا ہے ، اُسے یہ دُکھ بھری بات سننے کو ملتی ہے کہ سسٹم ہی بیٹھ گیا ہے۔ من ہی من نذرونیاز رکھ کر جب سسٹم کام کرنا شروع کرتا ہے تو ایک بارپھر منتظر کرم لوگوں کے کان سے سمع خراش اعلان ٹکراتا ہے کہ کارڈ بنانے والی ٹیم سری نگر میں اہم میٹنگ کے لئے گئی ہے ، اب اگلے دن دفتری اوقات میں آیئے بشرطیکہ  کوئی ہڑتال، کوئی بند ، کوئی احتجاج، کوئی سرچ آوپریشن، کوئی ٹریفک جام یا کوئی بری خبر نہ ہو۔ یہ سن کر آدھار کے منتظر امیدوار اپنا سا منہ لے کر رہتے ہیں۔ کیالوگ عوام کے ٹیکس کو موٹی موٹی تنخواہوں کی صورت میں ہڑپنے والے سرکاری ذمہ داروں سے یہ گزارش کر نے کی جرأت کر سکتے ہیں کہ یا تو اپنا فرض خوش اسلوبی اور دیانت داری سے نبھایئے یا سیدھے طور آدھار کارڈ بنانے کا ریٹ لسٹ مشتہر کیجئے کہ اسے بنانے کے لئے ایک عام آدمی کو کتنازر ِ تاوان آپ کو دینا ہوگا؟ دوسرا آپشن یہ ہے کہ سرکار آدھار کارڈ کی ضرورت کو سرکاری امورات سے موقوف کرے تاکہ لوگوں کا ٹینشن ختم ہو اور وہ بغیر آدھار جس طرح تک آج تک زندہ رہے، آگے بھی اسی طرح زندگی گزاریں ۔ تیسرا آپشن یہ ہے کہ خدا را ایک ایسی عوام دوستانہ حکمت عملی بنایئے کہ آدھار بنانا یا اسے دُرست کرنا لوگوں کے لئے آسان سے آسان تر ہو جائے ۔ سچ یہ ہے کہ ا س وقت آدھار کارڈ عام لوگوں کیلئے کسی آفت یا ڈائن سے کم نہیں۔

 

About the author

Taasir Newspaper