اردو | हिन्दी | English
413 Views
Politics

مولانا آزاد کی خدمات ناقابل فراموش

04 copy
Written by Taasir Newspaper

پٹنہ 11 نومبر (تاثیر بیورو):وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کہا ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد ایک عظیم مجاہدآزادی کے ساتھ ساتھ ایک عظیم مصلح قوم بھی تھے۔ ملک کی آزادی کی لڑائی اور تعلیم کے شعبے میں ان کے کردار کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آزادی کے ساتھ ہی ملک کی تقسیم کی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول بن گیا تھا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اس کشیدگی کو پرامن طریقے سے ختم کرنے میں بہت اہم رول ادا کیا۔وہ اقلیتوں کو یہ بھروسہ دلانے میں کامیاب رہے کہ یہ ملک تمہارا ہے اور اسی ملک میں تم کو رہنا ہے۔ آزادی کے بعد آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابولکلام آزاد بنے ۔ تعلیم کے شعبے میں ان کی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔ ان کے ذریعہ تعلیم کے شعبے میں نئے اور موثر اقدامات کئے گئے۔ جن کے بہتر نتائج آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے آئی آئی ٹی کاآغاز کیا۔ یو جی سی کا قیام انہی کے ذریعہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یوم تعلیم کے انعقاد کا ہمارا مقصد یہی ہے کہ نئی نسل ان چیزوں کو جانے ۔ تاریخ کی جانکاری ہوگی تو آگے کا راستہ آسان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 10برسوں سے مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم پیدائش کی تاریخ کو ریاستی حکومت کے ذریعہ یوم تعلیم کے طور پر منایا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ سنیچر کے روز مقامی ایس کے میموریل ہال میں یوم تعلیم کے موقع پر منعقد پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔اس سے قبل وزیراعلیٰ نے شری کرشن میموریل ہال میں یوم تعلیم کے موقع پر شمع روشن کر کے تقریب یوم تعلیم کا افتتاح کیا۔ ساتھ ہی ان کی تصویر کی گلپوشی کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بہار کے لوگوں کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام شہریوں کو مبارکباد دی۔ یوم تعلیم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں مولانا ابوالکلام آزاد کے یوم ولادت کو یوم تعلیم کے طور پر منانے کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ اسی دوران ہم لوگوں نے فیصلہ لیا کہ اس کی شروعات کی جائے ، 5 ستمبر کو ملک کے دوسرے صدر جمہوریہ سروپلی رادھا کرشنن کے یوم پیدائش کے موقع پر یوم اساتذہ منایا جاتا تھا اور اب ہم لوگ 11 نومبر کو مولانا ابوالکام آزاد کی ولادت کے دن کو یوم تعلیم کے طور پرمناتے ہیں۔ اس کی شروعات 2007 سے کی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے کہا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں اور بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ بنیادی طور پر اس طرح کے بدلاﺅ لانے والے کام ہو جن سے آنے والی نسل کا مستقبل روشن ہوسکے۔ اس موقع پر انہوں نے آئی آئی ٹی کان پور اور کان پور کے سبکدوش پروفیسر ایچ سی ورما کو مولانا ابوالکلام آزاد ایجوکیشن ایوارڈ سے بھی نوازا۔ تعلیم کے مضمرات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کا مطلب صرف کلاس میں بیٹھ کر بچوںکو پڑھانا نہیں ہے۔ ہمیں قدرت کے راستے کی جانب چلنا چاہئے۔ اس سلسلے میں انہوں نے قدرتی وسائل کے ساتھ چھیڑچھاڑ کے منفی نتائج کا بھی ذکر کیا اور اسماگ کی صورتحال سے بھی واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں دو تین دنوں تک اسماگ کی صورتحال رہی۔ قدرت کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے کا ہی یہ نتیجہ ہے ۔ قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ خودکشی کے مترادف ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تعلیم کا مطلب ہے سب کی تعلیم۔ بہار میں لڑکیوں کے اسکول جانے سے سماجی تبدیلی ہوئی ہے۔ بہار کے نوجوانوں پر انہیں یقین ہے ، ملک میں چاہے کسی بھی طرح کا امتحان ہو اس میں سب سے زیادہ کامیاب ہونے والے بہاری نوجوان ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے آئی آئی ٹی ، کانپور میں فطرت کے اصول کے مطابق اسکولی بچوںکو پڑھانے کے ایک ماڈل پر سرگرمی کے ساتھ کام کررہے پروفیسر ایچ سی ورما سے گذارش کی کہ وہ بہار میں بھی ایک دو مراکز مذکورہ ماڈل پر قائم کریں۔ ریاستی حکومت اس میں بھرپور تعاون کرے گی۔

About the author

Taasir Newspaper