اردو | हिन्दी | English
52 Views
Uttar Pradesh

میئر چناﺅمیں شہری سیٹ پرکانگریس اور سماجوادیوں کی نظر صرف مسلم ووٹ پر

1+1
Written by Taasir Newspaper

سہارنپور۴۱نومبر( احمد رضا) شہر کی سب سے اہم میئر سیٹ پر سماجوادی پارٹی کے امیدوار ساجد چودھری اور کانگریس کے امید وار ششی والیا اپنے اپنے علاقہ اور میدان میں کافی سلجھے ہوئے ہیں مگر سبھی کے پاس اس ہندو ووٹ کی زبردست کمی دکھائی دے رہی ہے دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے قائدین آج صرف مسلم ووٹ کی امید پر چناﺅ میدان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے سیکڑوں کارکن صبح سے شام تک اپنے دفتروں میں رہتے ہیں اور شام کے بعد بہوجن سماج پارٹی کے جلسوں میں نظر آتے ہیں سیاسی کارکنان اور سیاسی رہبروں کے روز بروز بدلتے نظریہ سے یہ ظاہر ہونیلگاہے کہ انتیس نومبر کو ہونیوالے میئر چناﺅ میں سیدھا مقابلہ اب صرف اور صرف بھاجپاکے سنجیو والیاءاوربہوجن سماج پارٹی کے امیدوار کے درمیان ہی رہ جائیگا شہر میں ہر دن بہوجن سماج پارٹی درجن بھر ریلیاں کر نے میں مصروف ہے وہیں ہفتہ بھر سے کانگریس اور سماجوادی پارٹی صرف چار بڑی میٹنگ ہی کر پائی ہے ان پارٹیوں کے سبھی کارکنا ن کابہوجن سماج پارٹی کے جلسوں میں بھی نظر آنا بحث کا موضوع بنا ہواہے! شہری میئر سیٹ پر امسال سوا پانچ لاکھ کے قریب ووٹ ہیں اور یہاں سیدھا مقابلہ بھاجپاکے سنجیو والیا کے ساتھ ہونا طے مانا جارہاہے سیاسی داﺅں بینچ صرف مسل ووٹ کیلئے ہی کھیلے جارہے ہیں ہندو ووٹ اکثریت کے ساتھ بھاجپا امیدوار کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے اس ووٹ کو تقسیم کیا جانا کافی مشکل ہوگا یہاں الیکشن کا بخار روز بروز تیزی کی جانب بڑھتا جارہاہے۔قابل غور بات ہےکہ بھاجپائی اپنے تین لاکھ ووٹ کو یکجا کرنے کیلئے زبردست تشہیر چلائے ہوئے ہیں چالیس سے زائد بڑے سیکڑوں کے سیکڑوں علاقوں میں بھاجپائی آج بھی سبھی جماعتوں کو پچھاڑ کر سب سے آگے کھڑے ہیں جبکہ کانگریس اور سماجوادی صرف اور صرف مسلم ووٹ کیلئے آپس ہی میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں اصل مخالف بھاجپاکو کوئی برا نہی کہ رہاہے دونوں جماعتیں مسلم ووٹ کیلئے حاجی فضل الرحمان ہی کی مخالفت میں زیادہ سرگرم ہیں وہیں بسپاکے کارکن بڑی سنجیدگی سے کسی کی برائی کئے بغیر ہر سیکٹر میں بھاجپائی تشہیر کا زبر دست انداز میں مقابل کر تے نظر آرہے ہیں؟ ضلع کے سوشل رکن اور بہوجن سماج پارٹی کے قائد ارشد مکی نے کہاکہ نگر نگم کی میئر سیٹ کو فرقہ پرستی کے بوتے جیت کا خواب دیکھنے والی بھاجپاکو پست کرنا سب سے بڑی ذمہ داری ہماری ہے مقامی سرائے حسام اد ین علاقہ میں آج ایک میٹنگ کوخطاب کرتے ہوئے نوجو ان سوشل قائد اور صحافی ارشد مکی نے کہاکہ مفاد پرست سیا ستداں اب کھلے عام ملک کے مسلمانو ںکا قیمتی ووٹ ۴۱۰۲ اور ۷۱۰۲ چناﺅ کی طرح ہی پھر سے منتشر کر کے بھاجپا کو فائدہ پہنچانے پر بضد ہیں ہمیں ان ایمان فروشوں سے ہوشیار رہکر قوم کے حق میں فیصلہ لینا چاہئے تبھی قوم کا بھلا ممکن ہے ۔سوشل قائد اور صحافی ارشد مکی نے کہاکہ آﺅ عہد کر یں کہ ہر طبقہ کا ووٹ حاصل کرنے میںکامیاب بسپا امیدوار حاجی فضل الرحمان کو ہی ووٹ دیکر بڑی اکثریت سے جتا ئیں اور موقع پرستوں کو پچھا ڑ یں۔ عارف قریشی اور مون بھا ئی نے کہاکہ کچھ قائد بھاجپا سے پیسہ وصول کر مسلم ووٹ کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلم امیدوار کو یہا ں کا میئر بننے سے روکا جا سکے عارف قریشی اور مون بھائی نے بیبا ک لہجہ میں کہاکہ ہندو مخالف بیاندیکر ہندو ووٹ کو متحد کرنیکا کام چند مسلم سیاست داں کر رہےہیں ہمیں ان شاطروں سے بچکر اپنے ووٹ کا سہی استعمال کرناہے دونوں بسپا نمائندوں نے کہاکہ بسپاہی میئر سیٹ پر آپکے ووٹ کی سہی حقدار ہے! پرانی اناج منڈی کے مقیم بھائی بہار احمد قریشی نے کہاہےکہ بسپا قائد حاجی فضل الرحمان پچھلے چالیس سالوں سے ہر مہم اور تحریک کے موقع پر قومی خدمات انجام دیتے آئے ہیں ہمیں انہی کو ووٹ دیکر ضلع کا نام روشن کر نا ہے بہار قریشی نے کہاکہ ہندو مسلم ایکتا اور قوم کے بے لوث ہمدرد نے ہمیشہ اس ضلع کے عوام کو راحت پہنچانیکا عملی کام انجام دیا ہے ضلع کے ہزاروں لوگ اس سچائی کے گواہ ہیں۔ سیف رحما ن نے کمشنری کے چند مفاد پرستوں کی مذ مت کرتے ہو ئے کہاکہ یہا ں ووٹ لینے کے بعد بھاجپاکو فیض پہنچا نیو ا لے مسلم قائدین کی بہتات ہے آج موقع ہاتھ میں ہے ہمیں حق دلانیوا لے ہاتھوں کو ہی تقویت دینی ہے تاکہ قوم کا بھلا ہوسکے مسلم رہبر سیف رحمان نے کہاکہ حاجی فضل الرحما ن قو م کے سچے ہمدرد ہیں ہمیں ایسے ہے بیباک قا ئدین کی ضرورت ہے۔
ہمارا مکمل تعاون حاجی فضل الرحمان کیلئے ہی ہونا چاہئے تاکہ میئر چنے جانیکے بعد جہاں نگر نگم بھاجپاکے ہاتھوں بچا رہیگا وہیں مسلم بستیوں کا بھی سدھار ممکن ہوگا!کہ مسلمان کے ذریعہ اپنے وطن کی خاطرکافی قر بانیاں دینے کے بعد بھی اپنے اس ملک میں مٹھی بھر فرقہ پرست اور موقع پرست آج ہمیں اور ہماری نئی نسل کو شک کے دائرہ میں لاکر تنگ و پریشان کر نے پر بضد ہیں اور چند مفاد پرستوں نے ہما ووٹ لیکر اقتدار تو پالیا مگر ہمیں سازش کے تحت سرکاری مراعات سے محروم ہی کئے رکھاہے بڑی برادریوں نسے وابسطہ افراد ہمیشہ ہم پچاسی فیصد عوام کوآج بھی غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبورکر رہے ہیں ہمیں ان مفاد پرست طاقتوں سے ہوشیار رہکر اپنے ووٹ کا سہی استعمال کرناہے اور بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار ہی کو جتاناہے۔علاوہ ازیںشہرکے بہت علاقوں میں کل دیر رات تک بہوجن سماج پارٹی کی پبلک میٹنگ میں بسپا کے درجن بھر قائدین نے زور دیکر کہاکہ آج یہاں ہندو مسلم اور دلتوں کی بھاری بھیڑ بسپاکی بڑھتی طاقت کی ضامن ہے میئر سیٹ کے دعوے دار حاجی فضل الرحمانکے حق میں قائدین نے بھیڑ کو خطاب کرتے ہوئے بڑی بیباکی کے ساتھ کہ رہے ہیںکہ ہم سبھی لوگ ضلع میں مل جل کر رہتے ہیں مگر موقع پرست اور ووٹ کے سوداگر ہمیں آپس میں لڑاکر ووٹ لینا چاہتے ہیں جو اب نہی ہوگا ہم سبھی مل جل کر ایک جگہ قائم رہکر ضلع کی بہتری کیلئے ہی اپنے ووٹ کا سہی استعمال کریں گے ! علیگڑھ سے گریجوئیٹ سوشل رہبر اور نامور تاجر حاجی فضل الرحمان کا سیدھا کہناہےکہ یہاں ہمیشہ سے دنگے ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت ہی رونما ہوتے رہے ہیں دنگے اچانک نہی ہوتے دنگے کرائے جاتے ہیں عام رائے یہ بھی ہےکہ ہندو مسلم لڑتے نہی بلکہ سیاست داں انکو اپنے مفاد کےلئے لڑاتے ہیں!بہوجن سماج پارٹی قائدنے بیباک انداز میں کہاکہ بسپا کی سرکار آجانیکے بعد مسلم طبقہ کو آبادی کے لحاظ سے سرکاری اداروں میں حصہ داری دینے کا وعدہ ہر صورت پوراکیا جائیگا۔

About the author

Taasir Newspaper