اردو | हिन्दी | English
286 Views
Deen

نہ سننا جن کی عادت ہے انہی سے حالِ د ل کہئے

HADIL..
Written by Taasir Newspaper
ڈاکٹر جاوید اقبال
 کشمیر کے حوالے سے بھارت کے سر کاری مذاکرات کاروں کی ایک لمبی فہرست میں ایک نیا نام جڑ چکا ہے۔ یہ سابقہ آئی بی آفیسر دنیشور شرما ہیں جن کو مرکز نے رابطہ کار نامزد کر کے کشمیر پر مذاکرات کاری کا مشن سو نپ دیا ہے ۔ اس اقدام کو ایک نئی مصالحانہ کوشش کا آغاز بتایا جارہا ہے۔رابطہ کاری کی اِس نئی مہم میں اس سے پہلے کہ دنیشور شرماکشمیر کے گوناگوں مسائل کے بارے میں سوالات پوچھنا شروع کریں ،کئی سیاسی حلقوں میں اُن کی نامزدگی اور اُن کے مشن کے بارے میں سوالات پوچھے جا رہے ہیں ۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اُن کی نامزدگی اور اُن کا مشن ایک ایسا سوالیہ بنتا جا رہا ہے جس کا جواب دور تک نظر نہیں آتا ۔اِس کی بہت بڑی وجہ وہ متضاد بیانات ہیں جو دہلی سرکار کے زعماء اُن کے مشن کے بارے میں دے رہے ہیں ۔یہ بھی یقیں سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ رابطہ کار ہیں کیونکہ کہیں اُنہیں دہلی سرکار کا نمائندہ کہا جا رہا ہے اور کہیں ترجمان غرض یہ کہ اُن کے مشن کو کئی نام،کئی عنواں دئے گئے ہیں ۔ابھی تک یقیں سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ وہ رابطہ کار ہیں،نمائندے ہیں یا ترجمان ـ۔ اگر وہ رابطہ کار ہیں تو رابطہ کاری کس دائرے میں ہو رہی ہے،اگر نمائندے ہیں تو نمائندگی کے امور کیا ہیں اور اگر ترجمان ہیں تو ترجمانی کس امر کی ہو رہی ہے؟
کشمیر کے ضمن میں رابطہ کاری کی ایک لمبی تاریخ ہے لیکن اس کا جائزہ لینے سے پہلے ہمارے آج کے تجزیے میں رابطہ کاری کا تاریخی پس منظر  ہو گا۔رابطہ کاری کو بہ معنی کلمہ تاریخی پس منظر میں پرکھا جائے تو اِسے آخری فیصلے سے پہلے درمیانی امور کو طے کرنے کا قانونی حکمنامہ ماننا ہو گا جسے رومی لغت میں (Decree:ڈکری) کہا جاتا تھا۔قانون کی کتابوں میں رومی قانون (Roman Law) کا خصوصی ذکر ہے اور اہل مغرب اِسے قانونی ترتیب کی ابتدا مانتے ہیں جسے ازمنہ قدیم کے معروف قانون داں (Justinian: جسٹنین) نے ترتیب دیا تھا۔ شاہاں روم آخری فیصلے سے پہلے درمیانی امور کو طے کرنے کا قانونی حکمنامہ شائع کرتے تھے۔بھارت کی کشمیر کے ضمن میں رابطہ کاری کو 1947ء سے پرکھا جائے تو کہیں بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ درمیانی امور کو طے کر کے کہیں آخری فیصلے تک بات پہنچی ہو۔ ایسا ہوا ہوتا تو مسلہ کشمیر کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ مسلہ کب کا طے ہو چکا ہوتا۔تاریخی پس منظر میں بھارتی رابطہ کاری کو پرکھا جائے تو اِسے رابطہ کاری کا عنواں دینا ہی غلط ہو گا چو نکہ بہ معنی کلمہ رابطہ کاری آخری فیصلے تک پہنچنے تک کی درمیان داری ہے۔یہاں تو آخری فیصلہ ہی اٹکا ہوا ہے اُس کی کہیں نوبت ہی نظر نہیں آتی کیونکہ درمیانی منزلیں طے ہوتی ہوئیں نظر نہیں آتیں۔
 1947ء سے ہی جبکہ مسلہ کشمیر منظر عام پہ آیا دہلی اور سرینگر کے درمیاں رابطہ کاری کی کہیں مہموں کا اعلان ہوا کئی رابطہ کار مختلف امور کو طے کرنے کیلئے آئے لیکن مسلہ کشمیر جوں کا توں اٹکا رہا چونکہ مسلے کے حل کرنے کیلئے جو خلوص نیت چاہیے اُسکا فقداں رہا۔رابطہ کاری کے پس منظر کو پرکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ جب بھی بھارت کو کشمیر کی مزاحمتی تحریک کی شدت کا سامنا رہا یا جب بھی بدلتے ہوئے حالات نے خارجی قوتوں کو یہ شہہ دی کہ بھارت پہ مسلہ کشمیر کے حل کیلئے دباؤ ڈالا جائے تو بھارت کا رد عمل یا تو رابطہ کار مقرر کرنے میں نظر آتا ہے یا مسلے کے ایک اور فریق پاکستان سے بات چیت کا آغاز کیا جاتا ہے ۔کہیں بھی کسی بھی دور میں ہی نہ ہی رابطہ کاری کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے آیا نہ ہی مسلے کے ایک اور فریق پاکستان سے بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوئی لہذا رابطہ کاری کی موجودہ مہم کے بارے میں جو خدشات ہیں اُنہیں بیجا نہیں کہا جا سکتا بلکہ جیسے پہلے ہی تحریر میں آیا ہے کہ اِسے رابطہ کاری کا عنواں دینا ہی موضوع بحث بنا ہوا ہے؟
رابطہ کاری کی سابقہ مہموں کا جائزہ لیا جائے تو یہ عیاں ہے کہ اِس کا مدعا و مقصد کشمیر کی مزاحمتی تحریک کے مد مقابل متوازی تحریکوں کو منظر عام پہ لانا ہے۔ یہ ایک مانی ہوئی بات ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی مزاحمتی تحریک کو لوگوں کی اکثریت مطلق کی حمایت حاصل ہے اور اِسی عیاں حقیقت نے مسلہ کشمیر کو زندہ رکھا ہے غیر ازیں اِس مسلے میں جاں ہی نہیں رہتی۔ کشمیر کی واضح مزاحمتی تحریکوں کے مد مقابل متوازی تحریکوں میں جموں کے کچھ میدانی اضلاع کی مختلف روش کا ذکر ہوتا ہے اور کہیں لداخ کی مختلف روش کا ذکر ہوتا ہے ۔ریاست جموں و کشمیر کی مزاحمتی تحریک کے مد مقابل دوسری روشوں کا ذکر رابطہ کاروں کی رپورٹوں میں جلی حروف سے ہوتا ہے جس کا مدعا و مقصد یہی ہوتا ہے کہ اکثریت مطلق کی آواز کو جس حد تک ممکن ہوسکے دبا دیا جائے۔رابطہ کاری کی ایک کے بعد دوسری مہم کا اختتام پہ یہی کہا جاتا ہے کہ چونکہ روشیں مختلف ہیں لہذا مسلہ لائنحل ہے ۔اِس کے بعد یہ رپورٹیں داخل دفتر ہو جاتی ہیںاور رابطہ کاری کی دوسری مہم تک کہیں بھی کوئی بھی ذکر سنائی نہیں دیتا۔
رابطہ کاری کی موجودہ مہم کے بارے میں رابطہ کار دنیشور شرما کا یہ کہنا ہے کہ وہ جس سے چاہیں مل لیں گے جبکہ ایسے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ رابطہ کاری کے دائرے میں وہی اشخاص و جماعتیں آئیں گی جو بھارتی آئین کے دائرے میں رہ کر بات چیت کے لئے سامنے آئیں جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ بات چیت کے دائرے میں وہی سما سکتے ہیں جنہیں عرف عام میں مین اسٹریم پارٹیاں کہا جاتا ہے جو الحاق کو حتمی مانتی ہیں۔مین اسٹریم تنظیموں میں نیشنل کا نفرنس اٹونامی یعنی خود مختاری کی ترجمان ہے اور اِس ضمن میں نیشنل کانفرنس نے اپنے دور حکومت میں اسمبلی میں ایک قرارداد بھی پاس کروائی لیکن اِس قرارداد کو واجپائی سرکار نے رد کیا تھا اور وزیر اعظم نریندرا مودی کے حالیہ بیاں کے مطابق اٹونامی کو شرف قبولیت بخشنا خارج از امکان ہے چونکہ اُسے بھارتی سینا کی قربانیوں کی نفی ہو گی ۔پوچھا جا سکتا ہے جہاں کہ اٹونامی کا امکاں نہیں وہاں مسلہ حل کے وسیع حل کی گنجائش کہاں رہتی ہے جو کہ جموں و کشمیر کے عوام الناس کی اکثریت کا مطالبہ ہے؟ ایسے میں دہلی سرکار رابطہ کاری سے کیا نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے؟
ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو رابطہ کاری کے بارے میں جو خدشات ہیں وہ بجا ہیں۔رابطہ کاری کا موجودہ اعلانیہ 2016ء میں مزاحمتی تحریک میں شدت آنے کے بعد ہوا۔بھارت نے مزاحمتی تحریک میں شدت آنے کے بعد گولی سے لے کے پیلٹ تک ہر حربہ آزمایا۔ایک سو سے بیشتر مظاہریںنے جاں عزیز گنوا دیں ہزاروں کی تعداد میں افراد ذخمی ہوئے اور متعدد افراد نے اپنی قوت بصری گنوائی ۔2017ء میں طلبائے کشمیر نے مزاحمتی صفوں کی ترتیب دی اور پھر عام لوگ گیسو رتراشی کے متعدد واقعات کے بعد سڑکوں پہ آئے۔مزاحمتی صفوں میں رخنے ڈالنے کی کئی کوششوں میں نا کامی کے بعد رابطہ کاری کا اعلانیہ ہوا ۔اُس سے پہلے بھی مزاحمتی تحریک کو ریاستی تشدد کے بیجا استعمال سے دبانے میں نا کامی کے بعد آج گئے کم و بیش دو مہینے پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے بھارت کی یوم آزادی کے موقع پر  15آگست کے روز لال قلعے کے جلسہ عام میں گولی کے بجائے کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کی تھی ۔مودی کی تقریر اور بعدمیں رابطہ کاری کے اعلانیہ کو کیا پالیسی میں تغیر مانا جائے یا پینترا بدل کے ایک اور وار کی تیاری مانا جائے؟
کشمیر پالیسی کے ضمن میں دہلی کی بھاجپا سرکار کو پینترا بدلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سیکورٹی اداروں کے کئی سربراہوں نے سیاسی راہ تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے جن میں فوجی جنریلوں کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے ڈی جی پولیس شیش پال وید نے بھی یہی عندیہ دیا ہے حالانکہ سیکورٹی اداروں کے سربراہوں کا یہ دعوا ہے کہ اُنہوں نے جنگجوؤں پہ قابو پا لیا ہے جبکہ پروین ساہنی جیسے سیکورٹی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ملٹنسی کم ہونے کا نہیں بلکہ بڑھنے کا امکاں ہے ۔اپنے ایک حالیہ مقالے میں پروین ساہنی نے اِسی جانب اشارہ کیا ہے ۔ اُن کا ماننا ہے پاکستان کی یہی کوشش رہے گی کہ بھارتی افواج کو کشمیر میں مشغول رکھا جائے۔اِسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ رابطہ کاری کا حالیہ اعلانیہ اُسی دوراں کیا گیا جبکہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ٹیلرسن بھارت کا دورہ کرنے والے تھے ۔کہا جاتا ہے کہ اِسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا بلکہ بھارت باور کروانا چاہتا ہے کہ کشمیر کے مسلے کو حل کرنے کیلئے ایک سنجیدہ کوشش کا آغاز کیا گیا ہے۔یہ کوشش کس حد تک سنجیدہ ہے اِس بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کشمیر میں عوام الناس کو تو یقیں آنے سے رہا دیکھا جائے تو بھارت میں بھی مختلف سیاسی و مطبوعاتی حلقوں کو یقیں نہیں کہ یہ پالیسی میں کسی قسم کا تغیر ہے۔کانگریس کے بر گذیدہ لیڈر اور سابقہ وزیر داخلہ و اقتصاد پی چدامبرم کا ماننا ہے کہ یہ قدم پالیسی میں کسی تغیر کا نتیجہ نہیں ۔بھارت کے معروف تجزیہ نگار پروین ساہنی کا ماننا ہے کہ پاکستان سے بات کئے بغیر بات نہیں بنے گی۔پروین ساہنی اپنے کئی مقالات میں بھی یہی بات دہرا چکے ہیں۔ ایک اور معروف جرنلسٹ بھارت بھوشن کا بھی یہی ماننا ہے کہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر مسلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا ممکن نہیں  چناچہ بھارت کے کئی سیاسی و مطبوعاتی حلقوں کی بھی وہی سوچ ہے جو کشمیر میں مزاحمتی لیڈرشپ کے سوچ ہے جس کی تائید گونا گوں عوامی تنظیمیں کر رہی ہیں جن میں تجارتی انجمنیں،سول سوسائیٹی اور بار کونسل شامل ہیں ۔مسلہ کشمیر کے سب ہی فریقوں کو شامل کئے بغیر کوئی بھی رابطہ کاری کی کوشش نتیجہ خیز ہو بعید نظر آتا ہے۔
پاکستان کی کسی بھی معنی خیز بات چیت میں شرکت ایک تو اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان مسلہ کشمیر کا ایک جانا مانا فریق ہے ثانیاََ ریاست جموں و کشمیر کا ایک حصے پر پاکستانی انتظامیہ کا کنٹرول ہے اور جہاں تک مسلہ کشمیر کا تعلق ہے وہ صرف بھارتی انتظامیہ کشمیر سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اُس میں پاکستانی انتظامیہ کے کنٹرول میں کشمیر بھی شامل ہے جسے عرف عام میں آزاد کشمیر کہا جاتا ہے اور جموں و کشمیر کے شمالی علاقے گلگت و بلتستان بھی پاکستانی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہیں۔اگر بھارت کے اِس دعوے کو صیح بھی مان لیا جائے کہ یہ علاقے در اصل بھارت کے علاقے ہیں پھر بھی یہ دعوہ تب تک پایہ اثبات تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ پاکستان سے بات چیت نہ کی جائے ۔یہ بات بھی اب مانی جاتی ہے کہ جنگ مسلہ کشمیر کا حل نہیں کیونکہ ہند و پاک دونوں ہی ایٹمی قوتیں ہیں اور جنگی تصادم کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا بنابریں ڈائیلاگ ہی ایک ایسی صورت ہے جس سے مسلہ حل کیا جا سکتا ہے ۔کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے مسلہ کشمیر کا حتمی حل پاکستان کی شمولیت کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔
رابطہ کاری اگر مسلے کے دائمی حل کی راہ میں پہلا قدم ہے تو اُسے پذیرش حاصل ہونی چاہیے لیکن رابطہ کاری کے حالیہ اقدام کے بعد جو متضاد بیانات دہلی سرکار کے ذمہ وار زعما ء کی جانب سے منظر عام پہ آ رہے ہیں اُسے ایک اچھی شروعات نہیں مانا جا سکتا ۔ اور تو اور خود رابطہ کار دنیشور شرما نے اپنے مشن کو مشکوک بنایا ہے ۔موصوف کا ماننا ہے کہ وہ کشمیر میں انتہا پسندی پہ روک لگانے کے لئے یہاں آ رہے ہیں تاکہ کشمیر  میں کہیں شام جیسی صورت حال پیش نہ آئے۔ کشمیر کو شام سے نسبت دینا دور کی کوڑی لانے کے متراوف ہے۔ شامی صورت حال کشمیر سے بالکل مختلف ہے اور کشمیر کی مزاحمتی تحریک کو انتہا پسندی سے تعبیر نہیں دی جا سکتی ہے۔یہاں بنیادی سوال سیاسی ہے اور اِسی کسی بھی صورت میں مذہبی انتہا پسندی نہیں کہا جا سکتا۔ ایک سیاسی تحریک کو مذہبی رنگ میں رنگنے کی کوشش مسلہ کشمیر کے حل کی تلاش کرنے کے بجائے اُسے پیچیدگیاں میں اُلجھانے کی ایک ایسی سعی ہے جو شاید کوتاہ مدت میں بھارت کیلئے باور آور ہو لیکن دراز مدت میں اِس سے نہ ہی بھارت کو کچھ حاصل ہو گا نہ ہی جنوب ایشیائی خطے کو استحکام بخشنے میں ہی یہ سازگار ثابت ہو سکتا ہے۔رابطہ کاری سے مثبت نتائج حاصل کرنے کیلئے بھارت کو اُسے ایک صیح سمت دینی ہو گی جبکہ قرائن و شواہد میں ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی لہذا مثبت نتائج کو توقعہ رکھنا بے جا ہو گا۔

 

About the author

Taasir Newspaper