کھیل

پرفیکٹ-10کے لئے اترے گی ہندوستانی ٹیم

Written by Taasir Newspaper

کولکتہ، 15نومبر (یو این آئی) ہندستانی کرکٹ ٹیم، سری لنکا کی زمیں پر 0-9 کی کلین سویپ کی کامیابی حاصل کرنے کے بعد جمعرات سے یہاں ایڈن گارڈن میں شروع ہونے جارہی سیریز کے پہلے گھریلو ٹسٹ میں جیت حاصل کرنے کے ارادے سے اترے گی اسی کے ساتھ وہ سری لنکائی ٹیم کے خلاف اپنا پرفیکٹ 10 بھی پورا کرے گی۔ ہندستان نے سری لنکا کے خلاف اس کی زمین پر اسی سال ٹسٹ، ون ڈے ، ٹوئنٹی-20 میں اس کا صفایا کرتے ہوئے لگاتار نو میچ جیتے تھے اور جمعرات کو کولکتہ ٹسٹ میں جیت اس کی سری لنکا کے خلاف مسلسل 10 ویں جیت ثابت ہوگی۔ ہندستانی ٹیم کو پہلے ہی سری لنکا کے خلاف جیت کا دعویدار مانا جارہا ہے ۔ حالانکہ وہ کسی بھی الٹ پھیر سے بچنے کو کوشش کرے گی تاکہ اس کی ٹسٹ رینکنگ پر بھی کوئی اثر نہ ہو۔ سری لنکائی ٹیم گزشتہ وقت سے تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے اور اس کا اثر اس کی کارکردگی اور صورتحال پر صاف نظر آرہا ہے ۔ادھر ہندستان اور سری لنکا کے مابین جمعرات سے کلکتہ کے ایڈن گارڈن پر شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں بارش سے رخنہ پڑ سکتا ہے ۔ ہندستان اور سری لنکا کے مابین تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ جمعرات کو ایڈن گارڈن میں شروع ہونا ہے لیکن محکمہ موسمیا ت نے پیشن گوئی کی ہے کہ بے وقت کی بارش اس میچ میں رخنہ ڈال سکتی ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ اچانک ساحلی علاقوں سے بادلوں کے آجانے کی وجہ سے میچ کے دن بارش ہوسکتی ہے ۔ اس درمیان احتیاطاََ بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن نے بارش کی صورتحال سے بچنے کے لئے پورے گراونڈ کو کور کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے سری لنکائی ٹیم کے لئے میچ سے قبل پریکٹس کرنا ممکن نہیں ہوگا۔اس سے قبل سری لنکا نے سال 2009 میں آخری بار ہندستان کا دورہ کیا تھا اور اس وقت موجودہ کپتان وراٹ کوہلی نے اپنا پہلا ٹسٹ تک نہیں کھیلا تھا۔8سال بعد اس دورے میں ہندستانی ٹیم کی جانب سے ایشانت شرما، مرلی وجے اور سری لنکا میں رنگنا ہیرات اور اینجیلو میتھیوز کی موجودگی ٹیم کا حصہ ہے ۔ سال 2009 کی ٹسٹ سیریز کے بعد سے سری لنکا نے ہندستان میں 16 مقررہ میچ کھیلے ہیں جن میں 12 میں اسے شکست ہوئی ہے اور صرف تین میچوں میں اسے فتح حاصل ہوئی ہے۔ دوسری جانب ہندستان نے تینوں فارمیٹ میں 31میچ جیتے ہیں ۔ ان اعدادوشمار کی بنیاد پر ہندستان کا پلڑا بھاری مانا جاسکتا ہے ۔ ہندوستانی ٹیم کی تقریباً سبھی ٹیموں کے خلاف بہترین کارکردگی اور اس کی جیت نے بھی وراٹ اینڈ کمپنی کی خود اعتمادی میں کافی اضافہ کیا ہے ۔ دنیا کی نمبر ایک ٹسٹ ٹیم کے ٹسٹ کے ماہر کھلاڑیوں روی چندر اشون، مرلی ، رویندر جڈیجہ، ایشانت شرما پھر سے طویل فارمیٹ میں جلوا دکھانے کے لئے تیار ہیں۔ وہیں روہت شرما نے ایڈن گارڈن پر ہی نومبر 2014 میں 264 رن کی دوہری سنچری والی اننگز کھیلی تھی اور وہ ایک بار پھر اسی طرح کے کارنامے کو دہرانے کی کوشش کریں گے ۔ اس کے علاوہ مسٹر بھروسے مند اجنکیا رہانے ، کپتان وراٹ ، شیکھر دھون، مرلی وجے ، بلے بازی آرڈر کی مضبوط کڑی ہیں جبکہ گیند بازی میں اسپنروں میں دونوں ماہروں اشون اور جڈیجہ کی جوڑی پر پھر سے سبھی کی نگاہیں لگی ہیں۔ تیز گیند بازوں میں محمد شمی اور امیش یادو اہم ہیں جو اوپننگ کی تیاریوں میں سنجیدگی سے شامل ہیں اور نیٹ پر بھی انہوں نے اس کے لئے سخت پریکٹس کی ہے ۔ حالانکہ جہاں بلے بازی میں ٹیم کے پاس بہترین پول ہے وہیں کپتان وراٹ اور کوچ روی شاستری کے لئے یہ سردرد بھی بن سکتا ہے ۔ لوکیش راہل اور دھون کے علاوہ چتیشور پجارا اور مرلی بھی اپنے اپنے حساب سے پریکٹس میں مصروف ہیں۔ اوپننگ میں یقینی طور پر مرلی ٹیم کی پسند سمجھے جارہے ہیں جو جولائی۔ اگست میں ہوئے لنکا دورے پر ٹیم سے باہر رہے تھے ۔ مرلی کی چوٹ کے سبب ہی دھون کو ٹسٹ میں موقع ملا تھا جسے انہوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور دو سنچریوں سمیت 358 رن بناکر مین آف دی سیریز رہے تھے ۔ وہیں روہت، مرلی اور دھون کے ساتھ راہل بھی اوپننگ کے اچھے متبادل ہیں۔ ایسے میں ایک بار پھر ٹیم انتظامیہ کے لئے بلے بازی کے آرڈر کا طے کرنا سر درد بن سکتاہے ۔ اگر دیکھا جائے تو پچیس سالہ راہل کپتان کے پسندیدہ بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ حالانکہ انہیں مسلسل چوٹوں کے مسئلے کا سامنا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے گزشتہ ڈیڑھ برس میں 14 ٹسٹ کھیلے ہیں جن میں 57.15 کے اوسط سے 1086 رن بنائے ہیں اور ان میں سے 10 ٹسٹوں میں ہندوستانی ٹیم کی جیت میں ان کا اہم تعاون بھی رہا ہے ۔ ویسے راہل سری لنکا دورے میں پہلے ٹسٹ میں بھی بیماری کی وجہ سے کھیل نہیں پائے تھے لیکن انہوں نے باقی میچوں میں واپسی کی اور 142 رن بنائے ۔ سری لنکا کی سرزمین پر سیریز میں دھون اور راہل کی بہترین کارکردگی کے بعد ہندوستانی زمین پر سری لنکائی ٹیم کی واپسی میں پھر سے دونوں کھلاڑی ٹیم منیجمنٹ کے منصوبے میں فٹ بیٹھتے ہیں لیکن یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ آخری الیون میں کس حکمت عملی کے تحت اور کن کھلاڑیوں کو جگہ ملتی ہے ۔ سیریز سے پہلے ہندوستانی اسپنروں خاص کر اشون کو لیکر بھی کافی بحث چل رہی ہے جنہوں نے اگست سے ہی بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلی ہے ۔ اپنے 300 ٹسٹ وکٹ سے آٹھ قدم دور اشون کی کوشش اس کامیابی کو کولکاتا میں ہی حاصل کرنے کی ہوگی۔ سری لنکا کے خلاف انہیں اس لئے بھی سب سے اہم سمجھا جارہا ہے کیونکہ وہ مخالف ٹیم کے چھ میں سے تین بائیں ہاتھ کے بلے بازوں دیمتھ کرونا رتنے (چھ بار)، لاہیرو تریمانے (11 بار سبھی فارمیٹ) میں سب سے زیادہ بار آ¶ٹ کرچکے ہیں۔ دوسری جانب سری لنکائی ٹیم نے کبھی بھی ہندوستان میں ٹسٹ نہیں جیتا ہے اور وہ اس بڑی کامیابی کا خواب دیکھ رہی ہے ۔ اس نے ہندوستان کے ساتھ 17 میچوں میں 10 میں شکست کا سامنا کیا تھا اور سات ڈرا کھیلے تھے ۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ سری لنکا نے 10 میں سے آٹھ ٹسٹ اننگز سے اور دو میچ 180 یا اس سے زیادہ رن کے فرق سے ہارے ہیں۔ ہندوستانی سرزمین پر اپنی پہلی جیت کے لئے سری لنکائی ٹیم سب سے زیادہ کرونا رتنے اور دنیش چنڈیمل جیسے بلے بازوں پر بھروسہ کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ آل را¶نڈر میتھیو بھی آرام کے بعد واپسی کر رہے ہیں لیکن دو برسوں میں انہوں نے ایک بھی سنچری نہیں بنائی ہے ۔ گیند بازوں میں رنگا ہیرات سری لنکا کے اہم گیند باز سمجھے جارہے ہیں جن کا ہندوستان کے خلاف 45.96 کا اوسط رہا ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper