اردو | हिन्दी | English
567 Views
Health

چقندر۔ ایک مفید سبزی

beets-beet-juice-1280 copy
Written by Taasir Newspaper

سعدیہ قمر:
چقندر شلجم سے مشابہ ایک سبزی ہے ، جو گہرے سرخ رنگ کی ہوتی ہے ۔ اس کا رنگ اتنا تیز ہوتا ہے کہ جب اسے پکایا جائے تو پوری ہنڈیا سرخ ہوجاتی ہے۔ گہرے سرخ رنگ کی یہ سبزی نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے ، بلکہ کئی امراض دور کرنے میں بھی مفید ہے۔ایران میں اس کارس بہت شوق سے پیا جاتا ہے۔ آئر لینڈ کے ساحلی علاقوں کے لوگ اس کے پتے بہت شوق سے کھاتے ہیں وہاں ڈنٹھل سمیت پکا کرکھانے کا رواج ہے ۔ یہ صحت بخش سبزی کئی امراض سے چھٹکارا دلانے میں مدد کرتی ہے۔
قبض:چقندر کھانے سے آنتوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، جس کے باعث اجابت آسانی سے ہوجاتی ہے۔ اسے سلاد کی طرح یا روزانہ پکا کر کھایا جائے تو قبض سے نجات مل جاتی ہے۔ جن لوگوں کو دائمی قبض کی شکایت ہو، انھیں چاہیے کہ وہ روزانہ رات کو سوتے وقت آدھا گلاس چقندر کا سُوپ پییں۔ جو افراد خون کی کمی کا شکار ہوں، وہ روزانہ چقندر کا رس پییں، انھیں بہت فائدہ ہوگا۔
سر میں درد: کچھ لوگوں کے سر میں درد کی مسلسل شکایت رہتی ہے۔ سر بوجھل رہتا ہے۔ جکڑن سی محسوس ہوتی ہے۔ کام کاج میں دل نہیں لگتا۔ ایسی صورت حال میں ایک عدد چقندر پتوں سمیت کاٹ کر ایک درمیانی پتیلی میں ڈال کر دو گلاس پانی شامل کرکے جوش دیں، لیکن زیادہ نہ پکائیں۔ ذائقہ بہتر کرنے کے لیے اس میں تھوڑی سی چینی ملا دیں۔ سات سے آٹھ دن تک یہ پانی پینے اور چقندر کے ٹکڑے کھانے سے سرکادرد اور بوجھل پن دور ہوجاتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو ناشتے میں صرف یہی پانی پییں اور ٹکڑے کھائیں۔ اس کے بعد ایک گھنٹے تک چائے نہ پییں۔
ہاضمے کی خرابی:اگر یرقان کی وجہ سے متلی اور قے کی شکایت ہو یا اسہال یاپیچش ہوجائے تو اس میں بھی چقندر بہت کام آتا ہے۔ اس کے رس میں ایک چمچہ لیموں کا رس ملا کر پینے سے ہاضمے کی خرابی دور ہوجاتی ہے۔ نہار منھ چقندر کے رس میں شہد ملا کر پینے سے معدے کے زخم ٹھیک ہوجاتے ہیں اس کا رس صحت کے لیے مفید ہے۔
جوڑوں کا درد:تِلوں کے ڈیڑھ لیٹر تیل میں چقندر اور ارنڈ کا رس ملا کر درمیانی آنچ پر پکائیں۔ پتیلی بڑی ہونی چاہیے، تاکہ تیل نیچے نہ گرے۔ جب پانی خشک ہوکر تیل اور اس کی مقدار کم ہوجائے تو اسے اتار کر کپڑے سے چھان لیں، اس سے جوڑوں پر مالش کروائیں۔ اس سے ورم رفتہ رفتہ ختم ہوجاتا ہے۔ پسلی میں درد کی صورت میں بھی اس تیل کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔
داغ اور جھائیاں:چقندر کا رس چہرے کے داغ دھبے اور جھائیاں دُور کرتا ہے۔ ایک چقندر کاٹ کر پانی میں اُبال کر رکھ لیں۔ یہ پانی روئی کی مدد سے داغ دھبوں اور جھائیوں پر اچھی طرح لگائیں اور پانچ سے سات منٹ بعد منھ دھولیں۔ اس کے بعد چہرے پر گلاب کا عرق لگالیں۔ چند روز میں داغ دھبے اور جھائیاں کم ہوجائیں گی۔ اگر جلد پر خارش ہوتو آپ تین حصے چقندر کے رس میں ایک حصہ پھلوں کا سرکہ ملا کر اس پر لگاسکتے ہیں۔ جِلد زیادہ خراب ہوتو آپ انھیں پتوں سمیت اُبال لیں اور اس پانی سے جلد کو دن میں دوبار دھوئیں، فائدہ ہوگا۔ کیل مہاسوں اور پھنسیوں کے خاتمے کے لیے بھی چقندر مفید ہے۔
ہائی بلڈ پریشر:چقندر کا رس ہائی بلڈ پریشر ، شریانوں کی بندش اور دل کی تکالیف کو کم کرتا ہے۔ یہ پھُولی ہوئی رگوں کو درست کرتا ہے۔ جن افراد کو بلڈ پریشر کی شکایت ہو ، وہ اس کا رس پییں، چوبیس گھنٹوں میں ہی بہتری محسوس کریں گے۔
سر کی خشکی:اگر سر کے بالوں میں خشکی زیادہ ہوتو ایک چقندر کا رس نکال کر اس میں ایک بڑا چمچہ پھلوں کا سرکہ ملا لیں اور بالوں کی جڑوں میں لگا کر پندرہ بیس منٹ بعد سر دھو لیں۔ اگر بال خورے(ایک مرض جس میں جگہ جگہ سے بال اُڑ جاتے ہیں)کی شکایت ہوتو اس کر نرم پتوں کا رس دن میں تین سے چار بار لگانے سے افاقہ ہوتا ہے۔

About the author

Taasir Newspaper