اگست میں شروع ہونے والی کارروائی میں تقریباً 7000 روہنگیاہلاک ہوئے

0
50

میانمار 15دسمبر (آئی این ایس انڈیا )’ڈاکٹرز وداو¿ٹ بارڈرز‘ کا کہنا ہے کہ روہنگا باغیوں کے خلاف ظالمانہ فوجی کارروائی کے پہلے ماہ کے دوران، کم از کم 6700 روہنگا مسلما ن ہلاک ہوئے۔جینوا میں قائم بین الاقوامی امدادی گروپ، جسے فرانسیسی مخفف میں ’ایم ایس ایف‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، جمعرات کے رو ز کہا ہے کہ ا±س نے یہ اندازہ بنگلہ دیش کے متعدد روہنگا مہاجر خیموں کا جائزہ لینے اور اعداد و شمار جمع کرنے کے بعد لگایا ہے۔ گروپ نے کہا ہے کہ اس کے اندازوں کے مطابق، ہلاکتوں کے اِن اعداد میں 730 بچے بھی شامل ہیں، جن کی عمر یں پانچ برس سے کم ہیں۔میانمار کی فوج پر الزام ہے کہ میانمار کی پولیس چوکیوں پر حملوں کے بعد، فوج نے اگست میں شمال مغربی ریاستِ رخائن میں واقع دیہات میں روہنگا کے خلاف سخت ہتھکنڈوں پر مبنی مہم جاری رکھی۔اس کارروائی کے نتیجے میں 600000 روہنگا لوگ ہمسایہ بنگلہ دیش کی جانب بھاگ نکلے، جنھوں نے سرکاری فوجوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کے گر وہوں کے خلاف سنگین مظالم برتے، جن میں اندھادھند گولیاں چلانا، عصمت دری اور گھروں کو جلانا اور گاو¿ں کے گاو¿ں کو نذر آتش کر نا شامل ہے۔’ایم ایس ایف‘ کے طبی سربراہ، سڈ نی وونگ نے بتایا ہے کہ گروپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ”لوگوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ زیادتیا ں بڑھتی رہی ہیں، جنھوں نے تشدد کی کارروا ئیو ں میں اپنے اہل خانہ کی ہلاکت کی خبر یں درج کرا ئی ہیں، اور اذیت ناک طریقو ں سے پردہ اٹھایا ہے، جس طرح سے، ا±نھوں نے بتایا، کہ ا±ن کے متعدد پیاروں کو ہلاک یا زخمی کیا گیا ۔“ اقوام متحدہ نے میانمار کی افواج کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو ”نسل کشی پر مبنی نصابی تشریح“ پر مبنی ہیں۔میانمار کے حکام کا کہنا ہے کہ فوجی کار روائی کے دوران پہلے ماہ 400 افراد ہلاک ہو ئے، جن میں سے زیادہ تر دہشت گرد شامل ہیں ۔روہنگا اقلیت کو میانمار کی بودھ مت والے اکثریتی ملک میں شہریت اور دیگر حقوق حاصل نہیں، جو ا±نھیں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے تار کین وطن سمجھتے ہیں، حالانکہ ا±ن کے اہل خانہ کئی نسلوں سے میانمار میں آباد ہیں۔