ایودھیا میںایس ڈی پی آئی کی جانب سے’ایودھیا سیاسی سازشوں کا مہرہ‘ نامی کتاب کا اجراء

0
55

ایودھیا25دسمبر ( پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے قومی نائب صدر والہ آباد ہائی کورٹ کے اڈوکیٹ شرف الدین احمد کی تصنیف کردہ کتاب ’ایودھیا سیاسی سازشوں کا مہرہ ‘کا اجراءایودھیا ، ہنومان گرہی میں واقع شری رام ہوٹل میں منعقد ایک تقریب میں عمل آیا۔ اس تقریب میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید ، ممبئی ہائی کورٹ سابق جج جسٹس بی جے کولسے پاٹل،رام جنم بھومی ایودھیا کے پجاری آچاریہ ستیندرا داس جی،ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع،ایس ڈی پی آئی اترپردیش ریاستی صدر محمد کامل ، ریاستی جنرل سکریٹری سرور عالم، سپریم کورٹ میں بابری مسجد مقدمہ کی پیروی کرنے والے اقبال انصاری،معروف سماجی کارکن خلیل احمد، شری ہری دیال شرما، ایودھیا مسلم ویلفیئر سوسائٹی سے صادق علی،نجم الحسن غنی،شری جگل کشور شاشتری، ہلال کمیٹی سے محمد خالق احمد اور دیگر مہمان و عمائدین شریک رہے۔ اس موقع پر ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک کی جمہوریت اور آئینی اقدار کو تباہ کرنے کے لیے کچھ شر پسند عناصر کمر بستہ ہیں۔ایودھیا کو سیاسی سازشوں کا ایک مہرہ بنا کر ملک کے سماجی آہنگی کو بگاڑا جارہا ہے ۔ لہذا ایودھیا کی اصلی تصویر اور سیاسی سازش کو بے نقاب کرنے اور ملک میں امن و امان قائم کرنے کے مقصد سے ایس ڈی پی آئی نے اس کتاب کو شائع کیا ہے۔ اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے کہا ان کی تصنیف کردہ اس کتاب کا پیش لفظ سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج جسٹس پی ۔ بی ۔ ساونت نے تحریر کیا ہے۔ اس کتاب میں بابری مسجد اور ایودھیا شہر دونوں پر تاریخی روشنی ڈالی گئی ہے۔ بابری مسجد اور ایودھیاسے منسلک بہت سارے حقائق جن کو یا تو چھپایا گیا ہے یاان کو توڑ مڑوڑ کر پیش کیا گیا ہے ان تمام حقائق کو اس کتابچہ میں سچائی کے تناظر میں انکشاف کیا گیا ہے ۔کتاب میں ایود ھیا میںمختلف مذاہب کے سنگم کے تعلق سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ایودھیا کے اندر ہندو ایودھیا ، مسلم ایودھیا،بدھسٹ ایود ھیا،سکھ ایودھیا اور جین ایودھیا بھی تھااور ان تمام مذاہب کے ماننے والوں کے متعلقہ عبادت کے مقامات موجودہ ایودھیا میں موجود تھے۔ ایودھیا میں کئی اسلامی مقامات کے باقیات کا ذکر کیا گیا ہے جن میںمساجد،مزارارت اور قبرستان شامل ہیں اور موجودہ ایودھیا میں اسلام کی موجودگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب میں ایودھیا اور بابری مسجد کو ہندوتواقوتوں نے اپنے سیاسی کھیل کے لیے کس طرح مہرے کے طور پر استعمال کیا ہے اس کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ فرقہ وارانہ طاقتیں اس ملک میں ایک اقلیت ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فرقہ وارانہ طاقتیں ہمارے ملک کے ہم آہنگی میں خلل ڈالنے اور ملک کے اتحاد کو تباہ کرنے کے لیے ان کے اختیار میںجتنے بھی ذرائع ہیں ان کا استعما ل کررہے ہیں۔ تاہم ، اگر ایک بار جب عوام سچائی کو جان جائیں گے اور اس طرح کے کتاب کے ذریعے حقیقت ان کو سمجھ آجائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ فرقہ وارانہ عناصر رائے عامہ کے وزن سے کچلے جائیں گے۔قلیل تعداد میں موجود فرقہ وارانہ عناصر کے ہاتھ آج اس لیے اوپر ہیں کیونکہ ان کے پاس وسیع پیمانے پر پروپگینڈہ کرنے کے وسائل ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہندو مذہب میں بھی کئی ذمہ دار شخصیات ہیں جنہوں نے ہندو مذہبی جنونیوں کی جانب سے شروع کئے گئے تحریکوں اور متنازعہ مقام پر قبضہ کرکے وہاں پر رام مندر تعمیرکرنے کی مخالفت کی ہے۔ لہذا مذہبی جنونیوں کے مذموم ارادوں کو ناکام کرنے کے لیے ایک ہی موثر طریقہ ہے کہ ہم بھی انہیں کی طرح زبانی،تحریری اور بصری تعلیمی طریقہ کار کو مضبوط بناکر ان کا مقابلہ کریں۔اس موقع پر جسٹس کولسے پاٹل نے اپنی تقریر میں کہا کہ 6دسمبر کے سانحہ کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو اتنے اختیارات حاصل ہیں جس سے سماج کو بدلا جاسکتا ہے لیکن پھر بھی بدقسمتی کی بات ہے کہ بابری مسجد مسما ر کرنے والے ملزموں کو اب تک سزا نہیں دی گئی ہے ۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایودھیا میںمندر، مسجد، گردوارہ اور بدھ وہار موجود ہیں ۔ صدیوں سے یہاں کے عوام اپنے اپنے مذہبی عقائد کو مانتے ہوئے پرامن زندگی گذارتے آرہے ہیں۔کچھ شر پسند عناصر نے اس شہر کے نام کو خراب کرنے کا کام کیا جس کی وجہ سے ایودھیا خوف کا دوسرا نام ہوگیا۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ 170سالوں سے ایک فرضی کہانی بنا کر ملک بھر میںنفرت پھیلانے کی کوشش کی جاری ہے لیکن سچائی کے سامنے جھوٹ ٹہر نہیں پارہا ہے۔ ملک سے محبت کرنے والے محب وطن شہریوں ، انسانی یکجہتی اورانسانی اقدار کی پاسداری کرنے والوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ ملک میں سماجی آہنگی کو بحال کرنے کے لیے آگے آئیں۔