تقسیم کا سب سے بڑا خسارہ ہندوستان ،مسلمان اور اردو زبان کی تثلیث کو ہوا:ارتضی کریم

0
84

نئی دہلی۔24دسمبر(ےو اےن اےن )غالب انسٹی ٹیوٹ کے سہ روزہ سالانہ بین الاقوامی غالب سمینار کے اختتامی اجلاس میں صدارتی گفتگو کرتے ہوئے مولانا آزاد یونیورسٹی ،جودھ پور کے وائس چانسلر پروفیسر اخترالواسع نے کہاکہ تخلیق حقیقت تک پہنچنے کا ایک معتبر ذریعہ ہے ۔تقسیم ہند کا سب سے پہلا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ اور وہاں کے مہاجرین پاکستا ن کے خالق تو بن گئے مگر وہ پاکستان کی مخلوق نہیں بن سکے ۔تقسیم کے المیے اور در د کو سمجھنا چاہیے ۔تقسیم کے نتائج کو سب سے زیادہ کسی نے بھگتا ہے تو وہ مسلمان اور اردوزبان ہیں اور ہندوستان تو ان دونوں کے درمیان آتا ہے ۔پاکستان کے قیام کا احساس سود وزیاں خود پاکستانیوں کو بھی ہے۔جن لوگوں نے پاکستان بنایا انہوں نے تو بنادیا ،مگر اس کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا پڑرہاہے ۔تقسیم کے باوجود ہماری یہاں موجودگی صرف ولادت کی وجہ ے نہیں بلکہ ہندوستان ہمارا انتخاب بھی ہے اور اس طورپر ہندوستان پر ہمارا حق زیادہ ہے ۔پروفیسر ارتضی کریم ،ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کہاکہ تقسیم ہند کا سب سے پہلا نتیجہ تو یہ سامنے آیا کہ ایک نئے ملک کی ولادت ہوئی اور اس کے بعد کے حالات بھی اسی کانتیجہ ہیں ۔تقسیم ہند کے نتائج کے طور پر جو ادائیگی ہمیں کرنی پڑی ہے ۔اس کی تثلیث ہے ہندوستان ،مسلمان اور اردوزبان اور اس تثلیث کے خسارے ہم سب پر عیاں ہیں ۔۷۱۰۲ کے اخیر میں اس موضوع پر بات کرنا اور بھی اہم ہوجاتا ہے ۔تقسیم وطن کو سمجھنا ضروری ہے ۔ اس سیمینار کا مقصد ہی یہی ہے کہ متن کے حوالے سے تقسیم کے نتائج طے کیے جائیں ۔ تقسیم ہند کے نتائج ابھی تک پوری طرح سامنے نہیں آئے ہیں ۔امید ہے کہ تقسیم ہند کے اثرات ابھی اورسامنے آئیں گے ۔پروفیسر رضوان قیصرنے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ادب اپنی تاریخ خود پیداکرتی ہے ۔اس سیمینار میں کچھ چیزیں بالکل نئی نکل کرآئیں ۔غالب انسٹی ٹیوٹ ایسے مواقع فراہم کرتا ہے ،جو بہت سے لوگوں کو اور دیگر زبانوں کے لوگ بھی شریک ہوپاتے ہیں اورایسے سیمینار کے نظم میں بڑا کردار اداکرتاہے ۔اس سیمینار نے ادب ،تقسیم اور اس کے نتائج کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرنے کی کوشش کی۔سیمینار پر اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے ڈاکٹرسرورالہدی نے کہاکہ سیمینار کے اختتام پر ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیںکہ اس سے ہماری بصیرتوں میں کیا اضافہ ہوا ہے ۔اس سیمینار میں جسٹس آفتاب عالم اور پروفیسرہربنس مکھیا کے مقالے خاصے کی چیز تھے ۔اس سیمینار کاموضوع بہت دلچسپ اوراہم ہے۔پروفیسرابن کنول ،صدرشعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی نے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے اپنے موضوعات میں تبدیلی لاکر بہت اچھا کیا اور یہ فیصلہ اہمیت کے لائق ہے ۔کسی بھی عہد کی ثقافت ،تہذیب اور معاشرے کو ادب کے ذریعہ سے ہی دیکھا جاسکتا ہے ۔اگر تقسیم ہند کو بھی دیکھناہوگا تو ہمیں ادب کو ہی دیکھنا ہوگا۔اردو ادب میں جس قدر تقسیم پر لکھا گیا ہے ،کسی اور موضوع پر اتنا لکھا نہیں گیا ۔روایت سے ہٹے ہوئے مگر منفرد موضوع کے انتخاب پر غالب انسٹی ٹیوٹ کو مبارک باد۔ڈاکٹر نریندرکمار،سکریٹری اردوادب ،ہریانہ نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ غالب انسٹی ٹیوٹ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ مصروف ہے اور غالب کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی اپنی خدمات انجام دے رہا ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کا تعاون ہمیں یعنی ہریانہ اردو اکادمی کو پوری طرح حاصل ہو ۔اختتامی تقریر کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمان قدوائی نے کہاکہ اختتامی اجلاس بنیادی طور پر خوداحتسابی کی کوشش ہے ۔ماضی کی غارت گری گزر چکی ،دیکھنا یہ ہے کہ ہزار سال میں دنیا کا نقشہ کتنا بدل گیا ہے اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ابھی کہاں ہیں اور آئندہ کہاں جائیں گے ۔اس سیمینار میں بھی ماضی پر کافی بحث ہوئی ۔تاریخ اپنے فیصلے خود کرتی ہے ۔ایک حد تک ہم کوشش کرسکتے ہیں کہ وہ فیصلہ نہ ہو مگر اگر کوئی فیصلہ ہوچکا اس پر ہم کوئی اثر نہیں ڈال سکتے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ماضی کی شکایتیں بے جاہیں ۔ماضی کی غلطیوں سے ہم سبق تو لے سکتے ہیں ۔مگر ہم ماضی سے چمٹ کر نہیں رہ سکتے ۔ہمیں کوشش یہ کرنی ہے کہ آج اور آئندہ کوئی غلط فیصلہ ہوسکے اس کی کوشش کرنی چاہیے ۔غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سیدرضاحیدرنے اختتامی اجلاس کی نظامت کے دوران کہاکہ ہم نے جن اسکالروں کو دعوت دی تھی ،ان سب نے اپنے اپنے مقالوں پر محنت کی ہم ان سب کے شکرگزار ہیں ۔انہوں نے مزید کہاکہ روایت سے ذرا ہٹے ہوئے موضوعات کے انتخاب کے باوجود ہمیں اسکالروں کا بھرپور تعاون مل رہا ہے ۔غالب انسٹی ٹیوٹ کا مقصدکسی بھی موضوع پر بحث کا قیام ہے ۔تاکہ موضوع پر بات ہوسکے اور کچھ نتائج ہم اخذ کرسکیں ۔سیمینار کے لیے اس موضوع کے انتخاب کامقصد تقسیم ہند نہیں بلکہ اردو ادب پر پڑنے والے اس کے اثرات تھے ۔خیال رہے کہ سیمینار کے آخری دن کے تینوں اجلاسوں کی صدارت پروفیسر عزیزالدین حسین ہمدانی ،پروفیسر اصغروجاہت اور پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے کی ،انہوں نے اپنی صدارتی گفتگو میں مقالات کو سراہا اور موضوع کے انتخاب پر غالب انسٹی ٹیوٹ کو مبارک باد دی ۔آخری دن کے تینوں اجلاسوں میں بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے استاذ عبدالسمیع ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاذ ڈاکٹر سرورالہدی،کولکاتہ یونیورسٹی کی صدرشعبہ اردو پروفیسر شہناز نبی ،عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین اے رحمان ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر رضوان قیصر ،ڈاکٹر خالد علوی ،مصری اسکالرڈاکٹر بسنت شکری،راجستھان یونیورسٹی ،جے پور کے صدرشعبہ اردو ڈاکٹر حسین رضا،نے مقالے پیش کیے ۔سیمینار کے بعد غالب انسٹی ٹیوٹ کے غالب آڈیٹوریم میں پروفیسر ابن کنول کا لکھا ہوا ڈرامہ ”بزمِ داغ“ پیش کیا گیا۔اس ڈرامے میں داغ کی زندگی پر بھرپور گفتگو کی گئی ۔اس ڈرامے کو سعیدعالم نے ڈائرکٹ کیا ہے ۔