اتر پردیش

ریاستی سرکارکا نو ماہی کام کاج مایوسی بھرا عام آدمی نا امیدی کا شکار

Written by Taasir Newspaper

سہارنپور ( خاص خبراحمد رضا) ا پوزیشن اورسیاسی ذمہ دارانکو بار بار یہ شکایات ملتی رہتی ہیں کہ چند محکمہ کسی بھی صورت عوام کی شکایتوں کا ازالہ کرنیکو کسی بھی صورت راضی نہی ہر کوئی رشوت طلب کرتاہے بنا رشوت لئے کچھ بھی کرنیکیلئے سرکاری عملہ تیار نہیں ہوتا مگر افسوس کہ جب سے ریاست میں یوگی سرکار آئی ہے مانو تب سے اپوزیشن اور سیاسیرہبروں کو سانپ نظر آگیاہے سبھی خوف اور دہشت میں ہیں عوام کیلئے کچھ بھی بولنے اور افسران کو متنبہ کرنے کیلئے سامنے آنے سے گریز کر تے نظر آتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل تاہے کہپ آج گزشتہ نو ماہ سے عوام اپنی شکایات کو لیکر سخت تنگ اور پریشان بیٹھے اپنی قسمت کو کوس رہے ہیں آگن باڑی اور شکشا متروں کے گھروں میں روٹی کے لالے پڑے ہیں ہزاروں خواتین سڑکوں پر احتجاج کرنیکو مجبور ہیں کسی کی کچھ سنوائی نہی ہورہی ہے ہر کوئی اپنے حق کیلئے سڑک پر کھڑاہے۔ضلع انتظامیہ کے سینئرافسران کی میزوں پر بیسک شکشا وبھاگ ،پولیس، پاور کارپوریشن ، ضلع سپلائی افسر، اوقاف ڈپارٹمنٹ، نگر نگم اور آرٹی او محکمہ کے خلاف خصوصی طور سے ہر دن آنے والی شکائیتوں کا ازالہ نہی ہو پارہاہے افسران اگر اپنی سطح سے منصفانہ طور پر موصولہ سبھی شکایات کا ازالہ کریں اور کرائیں تو عام آدمی کو بہت جلد اور سستے طور پر انصاف حاصل ہو سکتا ہے مگر آج کل جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ عوام کی مرضی کے خلاف اور افسران و پولیس کی من مرضی کے مطابق ہی ہو رہا ہے محکمہ تحصیل کے ملازمین انکم اور کاسٹ کا سرٹیفیکٹ جاری کرنے کے لئے عام آدمی کو دس دن سے بیس دن تک لگاتار پریشان رکھتے ہیں اگر ہزار روپیہ فی سرٹیفیکٹ بطور رشوت ادا کر دیں تو یہ کام چارروز میں مکمل کر دیا جاتا ہے اگر آپ رشوت نہیں دینگے تو تحصیل کے ملازم آپکو ۰۳دن تک تنگ و پریشان کرتے رہینگے اسی طرح راشن کارڈ بنوانے کے لئے یا راشن کارڈ میں کسی بھی تبدیلی کے لئے جب آپ محکمہ سول سپلائی میں جائینگے تو محکمہ کے لوگ آپ کو قانون کا سبق پڑھائینگے اور ہفتہ تک تنگ و پریشان رہینگے اگر چہ آپ ۰۰۷ روپیہ کم از کم بطور رشوت محکمہ کے ملازم کو ادا کر دیں تو آ پ کا کام دو دن میں خد بہ خد ہی حل ہو جائیگا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی اس ماحول میں دو وقت کا کھانہ خود اور اپنے بیوی بچوں کو بمشکل کھلا پا رہا ہے ایسے حالات میں وہ رشوت کا پیسہ کہاں سے لائے! قابل ذکر ہے کہ پچھلے نو ماہ کے دوران صوبہ کے قابل قدر چیف سیکریٹری راجیو کمار بار بار سبھی افسران کو تحریری طور پر آگاہ کر چکے ہیں کہ عوامی شکایتوں کا ازالہ فوری طور پر کیا جائے مگرافسوس کہ عوام کے ساتھ جان بوجھ کر سخت ویہ اپنایاجارہاہے جس وجہ سے عوام میں بیچینی کا ماحول لگاتار بڑھتاہی جا رہا ہے! ضلع مجسٹریٹ سے ملنا آسان ہے مگر ایس ڈی ایم ، تھانیدار ،سپلائی افسراور تحصیل دار سے ملنے کے لئے بھی عام آدمی کو بڑی جدو جہد کرنا پڑتی ہے سبھی تانا شاہ بنے بیٹھے ہیں آج بھی عام آدمی اپنی شکایت لئے گھوم تا رہتا ہے یاد رہے کہ ضلع کے در جنوں محکوں کے ملازمین اور افسران بلخصوص پولیس، سپلائی آفس، پاور کارپور یشن کے انجینئراو ر تحصیل ملازم ہر روز رشوت کے نام پر عوام کے خون پسینہ سے کمائی ہوئی ایک بڑی ر قم رشوت کی شکل میں اینٹھ کر کاموں کا نپٹارہ کرتے ہیں اگر سرکار ایماندار ہے تو سبھی دفتروں میں خوفیہ کیمرے نصب کرائے اور اپنے سسٹم کی خد کاروئی بڑی رازداری سے جانچ لے تب کالے اور سفید کا فرق سامنے آہی جائیگا۔قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ہم اپنی تحریروں سے بار بار ریاستی وزراء، افسران اور مقامی ذمہ دار حکام کو باور کرایا جا چکا ہے کہ جتنی بھی شکا یات تحصیل دوس یا ذمہ دار ادفسران کےلئے شکایت کے فوری ازالہ کی غرض سے روزانہ سینئر افسران کی ٹیبل پر رکھی جاتی ہیں وہ تما م شکایات نہ جانے کیوں لمبے وقت تک افسران کی فائلو ں کے بیچ دبی رہتی ہی انکا نپٹارہ نہی ہو پاتا تحصیل دوس میں پیش کیجانے والی ہر ماہ سو شکایات میں صرف چار یا پانچ شکایات ہی تحصیل دوس میں موجود افسران حل کر پاتے ہیں باقی شکایات ردی کی ٹوکری میں گرادی جاتی ہیں یہ سلسلہ گز شتہ نو ماہ سے مسلسل اسی انداز میں جاری ہے ؟جس وجہ سے عوام م میں بیچینی پھیلی ہوئی ہے۔ ایک مثال کل ہی کی سا منے آئی ہے کہ تھانہ سرساوہ کے تحت شمیم احمد کی دو کروڑ کی قیمتی سات بیگھہ زمین پر چند لوگوں نے جبریہ قبضہ جمالیاہے اور پلاٹ کاٹنے شروع کردئے ہیں اس کی شکایت جب ایس پی سے کیگئی تو ایس پی نے پہلے تھانہ دار کو جانچ کرنیکے احکامات دئے پھر کچھ دیر بعد فون پر کہاکہ اس معاملہ میں شکا یت پر توجہ دیکر موقع پر جائیں اور منصفانہ حل نکالیں مزیدار بات یہ ہے کہ اس معاملہ پر سرساوہ پولیس سینئر افسر کی ہدایت کے باوجود ابھی تک زمین مافیاﺅں کے خلاف ایکشن لینے میں ناکام ہے جبکہ زمین مالک شمیم ولد شیر محمد اپنی دوکروڑ کی زمین بچانیکے لئے آج بھی در در کی ٹھوکریں کھانیکو مجبور ہے ایس ڈی ایم اور موجودہ ایس ڈی او عدالت کے اسٹے کے بعد بھی پولیس کے سامنے شمیم کی زمین پر ناجائز قبضہ ضلع بھر میں چرچہ کا موضوع بناہے لیکن سینئر افسران شمیم کی مدد نہی کر پارہے ہیں ضلع میں اسکے بعد بھی درجنوں اسی طرح کے معاملات زیر بحث ہیں مگر افسران سیاسی اثر ورثوخ کے سبب چپ ہیں ان تازہ معاملات کے علاوہ بھی دیگر سیکڑوں شکایتی معاملات پاور کارپوریشن ، ایس ڈی ایم صدر، نگر نگم، چک بندی،شوگر فیکٹریز،آرٹی او محکمہ، صدرتحصیل اور سپلائی آفس سے متعلق مقامی افسرانکے سامنے عام دنوں میں اور یوم تحصیل کے موقع پر پیش ہوتی رہتی ہیں ان شکایات پر کیا کار واہی ہورہی ہے اس غیر ذمہ دارانہ لاپر واہی پر متعلقہ افسران کی جانب سے کوئی بھی ٹھوس کاروائی مقررہ قت اور میعاد کے اندر سرکاری ملازمین کے خلاف نہی کی جاتی جس وجہ سے عوام کی شکایتیں جوں کی توں قائم رہتی ہے اور نتیجہ کے طورپر عوام تنگی ا ورپریشانی میں مبتلا رہتے ہیں، عام چرچہ ہے کہ ریاست کے زیادہ اہم محکمہ جات کے افسرانبھا جپائیبرادری ست تعلق رکھتے ہیں شاید اسیلئے یہ افسران عام آدمی کی بات سننا تو دور شکایتی درخواست ہاتھ میں لیناتک بھی پسند نہی کرتے ہیں اگر یقین نہی ہوتا تو آپ اپنی کھلی آنکھوں سے ریاست میںسرکاری افسران اور ملازمین سے خد کسی شکایت سے متعلق معلامات کرکے نتیجہ اخذ کرلیں کہ سچ کیاہے سماجوادی پارٹی، کانگریس اور بہوجن سماج کے لیڈران تو یہ سچائی اپنی لاکھوں کے مجمع میں کیجانے والی ہر ایک تقریر میں بیان کرتے رہتے ہیں مگر اسکے بعد بھی سنوائی نہی ہو پانا! محکمہ پاور کارپوریشن نے عام آدمی کا جس طرح سے استحصال کر رکھا ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی جب سے سرکار نے بجلی چوری کو جرم قرار دیا تھا اسی وقت سے غریبو ں پر پاور کارپوریشن محکمہ کی جانب سے مصیبتوں کی باڑھ سی آگئی ہے۔
محکمہ کا چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا افسر جس چاہے کو بجلی چوری کا ملزم قرار دیکر اسکے خلاف متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرا دیتا ہے نتیجہ کے طور پر جس کے خلاف رپورٹ ہوتی ہے وہ اپنی جان اور عزت بچانے کے لئے اندنوں بھاری رقم جرمانہ کے طور پر یا پھر محکمہ کے افسران یاملازم کو رشوت کے طور پر ادا کرکے اپنی جان بچاتا ہے اس طرح کے درجنوں کیس ہر روز اس شہر کے پسماندہ اور پچھڑے علاقوں میں رونما ہوتے ہیں جب انکی شکایت ضلع حکام سے کی جاتی ہے تو ضلع حکام بھی ان شکایتوں کو اسی محکمہ کے سینئیر افسر کے پاس جانچ کے لئے بھیج دیتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس شکایت کو ردّی کی ٹوکری میں پھیک دیا جاتا ہے اور شکایت کرنے والا محکمہ کی جانب سے اور زیادہ تنگ و پریشان کر دیا جاتا ہے حکام کو بار بار باور کرایا جا چکا ہے کہ اس طرح کی شکایت اپنی سطح سے کسی دوسرے محکمہ کے صاف ستھری ذہنیت والے افسر سے کرائی جائے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ سچائی اور سچا وا قعہ کیا ہے اور پھر پولیس بھی بجلی چوری کے معاملات میں ایمانداری کے ساتھ جانچ کر نے سے خد کو کیوں بچاتی ہے پچھلے چار ماہ کے دوران صوبہ کے دو قابل قدر چیف سیکریٹری افسران کو عوم کی شکایات سنکر دور کرنے کے بار بار احکامات جاری کرتے ہوئے خد عہدے سے چلے گئے مگر شکایات وہیں کی وہیںکھڑی ہیں!راجیو کمارنے چیف سیکریٹری کا چارج سنبھال لینے کے بعد پہلی فرصت میں تمام اضلاع کے سبھی افسران کو تحرہری طور پر آگاہکیاتھا کہ عوامی شکایتوں کا ازالہ فوری طور پر سب سے اہم مانتے ہوئے کیا جائے مگر افسوس کی بات ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی افسران نے اپنارویہ ابھی تک بھی نہی بدلاہے پولیس ، تحصیل ، چکبندی ، اوقاف ، بیسک ایجوکیشن ، نگر نگم اورمحکمہ پاور کارپوریشن کے زیادہ تر افسران اور ملازمین جو چا ہ تے ہیں وہ کر رہے ہیںکوئی سنوائی اور کوئی ہمدردی کسی کیساتھ نہی صرف پیسہ اور پیسہ ! مقامی عدالتیں بھی محکمہ بجلی کی شکایتوں کو اور پولیس کی ایف ۔آئی۔آر کو ہی درست مانتے ہوئے بجلی چوری کے ملزم کو سیدھے طور پر ضمانت دینے سے انکار کر دےتی ہیںجس وجہ سے غریب آدمی جھوٹے الزام کا ملزم ہونے کے باوجود موٹی رقم خر چ کر کے اپنی جان اور عزت بمشکل بچا پانے میں کامیابی حاصل کرتا ہے ۔

About the author

Taasir Newspaper