اتر پردیش

علم کیلئے سخت جدوجہد بیحد ضروری: مولانا عبدالمالک مغیثی

Written by Taasir Newspaper

سہارنپور۔12دسمبر(ےو اےن اےن/ احمد رضا)جامعہ رحمت میں کل دیر شام ایک شاندار روحانی تقریب کے دوران جامعہ رحمت گھگرولی کے منتظم الحاج مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے اپنے پرمغز خطاب میں علم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت نے بھی اپنے پاک کلام میں عالم وغیر عالم کے درمیا ن فرق کو بیان کیا ہے ہمارے طلبہ اور علماءکو چا ہئے کہ اس فرق کو ملحوظ رکھیں اور اپنے علوم کو وسیع سے وسیع تر کریں ہر طرح کے علوم کی پہچان اور نا لج آج کے دور میں ہم سبھی کےلئے بیحد ضروری ہے علم کیلئے سخت سے سخت جدوجہد بیحد ضروری ہے ،جامعہ رحمت گھگرولی کے منتظم الحاج مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی نے یہ بھی فرمایاہےکہ آج قرآن کی تعلیم عام کی جائی قرآن کا علم سبھی علموں پر مقدم اور معظم ہے اس تعلیم کوعام کر نیپر بھی توجہ لازم ہے، جامعہ رحمت کے ناظم مولانا مغیثی نے مدارس کے نظام تعلیم و تر بیت پر اطمینان کا اظہار کیا خاص طور مدارس کے طلبہ کو نصیحت کرتے ہو ئے فرمایا (یک درگیرمحکم گیر)کہ ایک ہی درکو مضبوطی سے پکڑ لوباربار ادھرادھر جانے سے علم کی برکت ختم ہوجاتی ہے آ پنے عوام الناس کو گنا ہوں سے بچنے کی تاکید کی ، نیز طلبہ کو جدوجہد اور جہدِ مسلسل کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم اچھے مقرراور مبلغ بننا چاہتے ہو توتمہیں چاہئے کہ جتنی ہو سکے تقاریر زبانی یاد کریں اور دینی تعلیم کو عام کر یں۔ اس بابرکت مجلس کے اختتام پر جامعہ ہذا کے ناظم تعلیمان مولانا عبدالخالق مغیثی اور ان کے ہم عصرسماجی کارکن ماسٹر محمد یوسف کے علاوہ دیگر ذمہ داران نےجامعہ رحمت میں تشریف لائے ہوئے تماممہما نو ں کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ عوام الناس کو چاہئے کہ اپنے ان اکابرین سے تعلقا ت اور رابطہ لازمی طور سے رکھیں اور ان سے خو ب استفادہ کریںاور کہاکہ ہمکو یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کے ہم اپنے بچوں کو مدرسہ میں بھیج کر جنت میں چلے جائیںگے ایسانہی ہے بلکہ عمل کرنیپر ہی جنت اور جہنم کا ملنا مقرر ہے حالانکہ علم کا سیکھنا ہرمسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے مگر ہم نہ جا نے کیوں گمراہی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔

About the author

Taasir Newspaper