کوئمپوسے متعلق اردو زبان مےں معلومات کافقدان، غالب پر خامہ فرسائی سعادت کی بات

0
74

بےدر۔30ڈسمبر (ےو اےن اےن) کوئمپو نے کنڑاادب اور تہذےب کو ملک اور عالمی سطح تک پہنچانے کے لئے جدوجہد کی تھی۔ ان کی معروف نظموں مےں ’جےا ھے کرناٹکا ماتے‘ ’نوےنا‘ ’بھارت تپسوےنی ‘نڈے مندے نڈے مند ے، Mettuva Nela Karnatakaاور کنڈم منا ہراکے وغےرہ شامل ہےں۔ےہ بات محمدےوسف رحےم بےدر ی نے کنڑا زبان کے قومی شاعر کوئمپو کے جنم دن کے موقع پر کل شب ےاران ادب بےدر کے زےراہتمام مسےح الدےن احمد قرےشےہ الماس مےمورےل ہال ، تعلےم صدےق شاہ بےدر مےں منعقدہ ”بےادِ غالب اور کوئمپو“ تقرےب کے پہلے سےشن مےں کوئمپوپر تحرےرکردہ اپنے مضمون مےں کہی۔ انھوں نے مزےد بتاےاکہ گےان پےٹھ اےوارڈ ےافتہ کوئمپو نے کرناٹک کارےاستی ترانہ ”جےابھارتا جنانےا تنوجاتے “ لکھا جس کو”ناڈ گےت“ کہاجاتاہے۔ ہرسال ان کے ےوم پےدائش 29ڈسمبر کو UniversalHumanismDay کے طورپر مناےا جاتا ہے۔ اردو مےں ان سے متعلق دو اےک کتابےں ہی منظر عام پر آئی ہےں۔ اس شاعر کی شاعری کو ارد ووالوں کے درمےان لانے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ماہر منصورجےسے لائق مترجم کو چاہئےے کہ وہ اس جانب مزےد توجہ دےں۔جناب سےد محمدغوث اشرفی قادری نے کوئمپو کی نظم ”بھارت بھومی ننا ماتے “ کااردو ترجمہ پےش کےا جس کو کافی سراہاگےا ۔ پہلے سےشن کی مہمان خصوصی رےحانہ بےگم رےحانہ تھےں۔جس کی صدارت سےد لطےف خلش نے کی اور اپنے صدارتی خطاب مےں کہاکہ ہم اردو والوں کافرےضہ ہے کہ ہم ہندوستان کی تمام اقوام اور ان کی زبانوں کوساتھ لے کر چلےں، جس کی بدولت اردو زبان مالا مال ہوگی۔ کوئمپو اےک بہترےن شاعر تھے۔ ان کی شاعری پر اہلےان کرناٹک بجا طور پر فخرکرسکتے ہیں۔ دوسراسےشن اردوکے معروف شاعر مرزا اسداللہ خان غالبسے متعلق تھا۔ جس کے مہمان خصوصی رےسرچ اسکالر عبدالمقتدرتاج تھے ۔ صدارت بزرگ شاعر محمد امےر الدےن امےر نے کی ۔ ا س سےشن مےں سےد محمد غوث اشرفی قادری نے غالب کے اشعار کی تشرےح پےش کی جسے کافی پسند کےا گےا۔جناب عبدالمقتدر تاج اور رےحانہ بےگم رےحانہ نے غالب کی زندگی کے مختلف پہلوان کی شاعری ، ان کے خطوط ، اور مزاج سے متعلق کافی اہم باتےں بتائےں۔ رےحانہ بےگم رےحانہ نے غالب کے معاصرےن کابھی ذکر کےا۔ان تمام پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب صدر امےرالدےن امےر نے جہاں اپنا مضمون سناےاو ہےں اس بات کو خوش آئندقراردےاکہ غالب جےسے بڑے شاعر پر سبھوں نے خامہ فرسائی کی ، جواےک سعادت ہے۔ غالب کے خطوط، مزاج اور شاعری پر تفصےل سے روشنی ڈالی گئی جوہماری اس نشست کے لئے سودمندرہا۔ بعدازاں سخاوت علی سخاوت، ملک محی الدےن ،حامد سلےم(مزاحےہ)، رےحا نہ بےگم رےحانہ ، سےد لطےف خلش اور امےرالدےن امےر نےغالب کی زمےن مےں لکھا ہوا اپنا اپناکلام پےش کےا ۔اور بے حد داد حاصل کی۔ خصوصےت کے ساتھ ملک محی الدےن کے اس شعر پر کافی داد دی گئی ۔وہ جو تہذےب اےسی دولت ہے کم نصےبوں کے گھر نہےں آتی ۔پروگرام کاآغاز قاری عبدالمقتدرتاج کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ عبدالجبار دانش نے نعتےہ کلام سناےا۔ محمدفراست علی اےڈوکےٹ اور دےگر نے شرکت کی ۔ محمدےوسف رحےم بےدری نے نظامت کا فر ےضہ انجام دےا۔محمداےوب علی ماسٹرنےڈس نے انتظامی امور کی دےکھ بھال کی۔ داعی¿ محفل جناب ملک محی الدےن کے شکرےہ پر نشست اپنے اختتام کوپہنچی۔