آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Sports

خود کے مجسمہ کی نقاب کشائی کیریئر کا بہترین لمحہ:بولٹ

bolt
Written by Taasir Newspaper

کنگسٹن، 5 دسمبر (یو این آئی) اولمپک کی تاریخ میں کامیاب ایتھلیٹوں کے درمیان جمائیکا کے یوسین بولٹ نے کنگسٹن نیشنل اسٹیڈیم کے سامنے اپنے مجسمے کی نقاب کشائی کی اور اسے اپنے کیریئر کا سب سے بہترین لمحہ بتایا۔ جمائیکا حکومت اور وزیر اعظم اینڈریو ہولنیس نے ملک کے سب سے مشہور اور کامیاب کھلاڑی بولٹ کے اس مجسمے کو قائم کرنے میں مدد کی۔ اس مجسمے کو ٹھیک اسی جگہ قائم کیا گیا ہے جہاں 15 برس قبل انہوں نے اپنی جونیئر چیمپئن شپ جیت کر دنیا بھر میں نئی شناخت بنائی تھی۔ بیجنگ، لندن اور ریو میں مسلسل تین اولمپک کھیلوں میں تہرے گولڈ میڈلسٹ ایتھلیٹ نے کہا کہ ”یہ میرے لئے سب سے اعلی ہے ، میرے کیریئر میں اس سے بہتر لمحہ کبھی نہیں آیا جس اسٹیڈیم سے کیرئیر کی شروعات کی تھی اسی میں اپنا مجسمہ دیکھنا میرے لیے بہت بڑی بات ہے ،میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، میں بہت خوش اور حوصلہ افزاءبھی ہوں”۔ 31 سالہ بولٹ کے اس مجسمہ کو جمائیکا آرٹسٹ باسل واٹسن نے تیار کیا ہے ، اور اسے بولٹ کے مشہور معروف پوز ”لائٹننگ بولٹ” کی بنیاد پر تیار کیا گیاہے ۔ جمائیکا ایتھلیٹ کو 100 اور 200 میٹر اولمپک اور عالمی چیمپئن شپ میں ریس جیتنے کے بعد اسی انداز میں جشن مناتے دیکھا گیا ہے ۔ بولٹ اپنے کیریئر میں 11 عالمی اور آٹھ اولمپک تمغے جیت چکے ہیں۔ بولٹ کو اپنے نو اولمپک طلائی تمغوں میں سے ایک گنوانا پڑا تھا کیونکہ 2008 بیجنگ اولمپکس کی4×100 میٹر ریلے ٹیم کے رکن نیسٹا کارٹر کو ممنوعہ دوا¶ں کے استعمال کا مجرم پایا گیا تھا۔ بولٹ نے کہا ”میں نے جو کیا یہ اس کی بدولت ہے ، میری شکست، چوٹیں، جو بھی میں نے کیا ان سب کی بدولت ہی آج مجھے یہ اعزاز ملا ہے ”۔ دنیا کے سب سے تیز دوڑاک نے اس سال کے آغاز میں لندن عالمی چیمپئن شپ میں کانسہ کا تمغہ جیتنے کے ساتھ اپنے کیریئر پر روک لگا دی تھی۔ کافی خوش دکھائی دے رہے ایتھلیٹ نے کہا ”یہ بہت اچھا ہے کہ ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو پتہ لگتا ہے کہ آپ کے کیریئر نے کیا دیا ہے ۔ میں نے جو بھی کام کیا ہے اس کے لئے مجھے خود پر فخر ہے ۔یہ میرے لئے اچھا وقت ہے اور میں اچھی جگہ ہوں”۔ قبل ازیں جمائیکا کے وزیر اعظم ھولنیس نے کہا کہ بولٹ کی کارکردگی کی وجہ سے ہی جمائیکا کا کھیل اعلی سطح پر گیا ہے ۔ بولٹ نے کہا ”میں نے ہمیشہ سوچا کہ میں اپنے ملک کوعظیم بنا¶ں اور اگر ملک کے وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ میرے کام سے ملک کا احترام بڑھا ہے تو میں اس سے بہت خوش ہوں۔میں آگے بھی ایسا کرتا رہوں گا”۔

About the author

Taasir Newspaper