آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Bihar News

21 جنوری کو پرائیویٹ اسکولوں کے 25 لاکھ بچے انسانی زنجیر میں حصہ لیں گے: سید شموئل

1111
Written by Taasir Newspaper

کشن گنج 30 دسمبر ( آفتاب عالم صدیقی ) آج مقا می ہوٹل دفتری میں پراﺅیٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفئر ایسو سی ایشن کے قومی صدر مسٹر سید شمائیل احمد نے منعقد پریس کانفرنس میں بتایاکہ آئندہ 21 جنوری کو حکومت بہار کے زیراہتمام بننے والی انسانی زنجیر میں پراﺅیٹ اسکولوں کے 25لاکھ بچے حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ نئے سال سے پراﺅیٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفئر ایسو سی ایشن کے ذریعہ پورے ملک سے ایک ہزار بچوں کو بطور اسکالر ایک ہزار روپئے ماہانہ دیں گے جس کے لئے انٹر نیشنل ایمپائرڈ کے اشتراک سے ان بچوں کا ٹسٹ لیں گے اور جو بچے اس میں پاس کریں گے انہیں ہم وہ اسکالر شپ کی رقم دیں گے۔ مسٹر شمائل احمد نے کہاکہ ہماری کوشش ہیکہ تمام پراﺅیٹ اسکولوں کو سرکا ر کی جانب سے منظوری ملے انہوں نے کہا کہ ستر فیصد اسکولوں کو منظوری مل چکی ہے اگر سو فیصد کو مل جائے تو اس سے غریب بچوں کو فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ آر ٹی ای کے تحت بی پی ایل کے جن بچوں کو پراﺅیٹ اسکولوں میں جو مفت پڑھایا جا رہا ہے جس کے پیسے سرکار کو دینا ہے وہ پیچھلے چھ برسوں سے نہیں ملے ہیں جس سے مزید پراﺅیٹ اسکولوں کو دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑ رہا ہے۔ پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ آئندہ آنے والی نسلوں پر ہے ہماری کوشش ہیکہ پراﺅیٹ اسکولوں میں کوائلٹی ایجوکیشن کو جہاں ایک طرف فروغ دیا جائے ونہی دوسری طرف بچوں کو مہذب بنایا جائے۔ انہوں نے گارجین حضرات سے گذارش کی کہ بچوں کو وقت دیں ان کارکردگی کو دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب بندی بہار میں وزیر اعلی نتیش کمار کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ساتھ ہی سماج میں مزید اچھائیوں کو بڑھاوا دیتے ہوئے جس طرح جہیز اور اطفال شادی کے خلاف مہم چلایا گیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کشن گنج کے پروگرام کی کامیابی پر کشن گنج ضلع سبھی عہدیداران کو مبارکباد پیش کیا۔ یہاں اس موقع پر مذکورہ ایسو سی ایشن کے کشن گنج ضلع صدر ذکی انور ،محمد انور، ظفر پیامی اور مکتوب عالم وغیرہ موجود تھے۔ کشن گنج ضلع صدر ذکی انور نے پراﺅیٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفئر ایسو سی ایشن کے تنظیمی ڈھانچہ کو مزید مضبوط کرنے کی بات کہی اور باہر کے تمام مہمانوں کا اور کشن گنج کے پروگرام کی کامیابی پر اپنے تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔

About the author

Taasir Newspaper