اسٹیج کے لیے سب سے بڑا مسئلہ فرقہ واریت،علاقائیت اور فن کا تجارت بن جانا ہے:بھارت بھوشن

0
17

میرٹھ11 جنوری(پرےس رےلیز)شعبہ¿ اردو،چو دھری چرن سنگھ ےو نےورسٹی، مےرٹھ اور ےو نائٹےڈ پروگرےسےو تھےٹر اےسو سی ایشن کے مشترکہ اہتمام مےں شعبہ کے پرےم چند سیمینار ہال مےں بعنوان ”رنگ منچ موجودہ صورت حال اور امکانات“ پر ایک مذاکرہ کا انعقاد کیا گےا۔جس کے مہمان خصوصی معروف فلم ادا کار،ہداےت کار اور رنگ کرمی اجے روہلا نے کہا کہ ہندی اسٹےج ابھی تک اپنے پےروں پر کھڑا نہےں ہو سکا ہے جب کہ دےگر زبانوںمثلاً مراٹھی، بنگالی،گجراتی وغےرہ مےںڈرامے روز بروز ارتقاکی جانب گامزن ہےں۔انہوں نے مزےد کہا کہ ہندی ڈرا مے ابھی اےسے نہےں لکھے جا رہے ہےں جو مو جودہ مسائل کو پورے طور پر پےش کر سکےں جس سے ناظرےن ان کی جانب راغب ہو سکےں۔بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج بھی ہندی رنگ منچ فنڈنگ پر منحصر ہے۔اداکار اپنے پےسوں سے ڈرامے کے پرو گرام منعقد کرتے ہےں۔ اسٹےج کی کامےابی اور اداکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ضروری ہے کہ ناظرےن ٹکٹ خرےد کر ڈرا مے دیکھےں۔ پرو گرام کی صدارت ےو نےورسٹی کے شےخ الجامعہ پروفےسر اےن کے تنےجا نے کی اور مہمان ذی وقار کے بطور اسکرپٹ رائٹر اور سےرےل پروڈےوسر را جن پراشر(دہلی) اور فلم اداکار و رنگ کرمی وجے سنگھ(دہلی)موجود رہے۔استقبالےہ کلمات صدر شعبہ اردو اور ےو نائٹےڈ پروگرےسےو تھےٹر اےسو سی ایشن کے سر پرست ڈاکٹر اسلم جمشےد پوری نے کہے جب کہ پروگرام کی نظا مت کے فرا ئض ،ےو نائٹےڈ پروگرےسےو تھےٹر اےسو سی ایشن کے صدر بھارت بھوشن نے انجام دیے۔انہوں نے مہمان خصوصی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اجے روہلّااسٹےج کے ساتھ ساتھ فلمی دنےا مےں بھی اداکاری کررہے ہےں۔ انہوں نے گنگا جل،بےنڈڈ کوئن، ستا، نےتا جی سبھاش چندر بوس، تکشک، سپاری، آگ، دم مارو دم وغےرہ فلموں اور حال ہی مےں جنوبی ہندوستان کے معروف سماجی کارکن ایکناتھ رانا ڈے کی زندگی پر منحصر فلم’ون مین ون مشن“ مےں بھی مرکزی کردار ادا کر چکے ہےں۔مہمانِ خصوصی محترم اجے روہیلانے اس مو قع پر کہا کہ رنگ منچ کو زندگی کی طرح وسےع ہو نا چاہئے ۔اس مےں زندگی کے سبھی رنگ ہوں تو اس کی مقبولیت مےں اضافہ ہو تا ہے۔آج کل رنگ منچ مےں ےکسانےت سی آتی جا رہی ہے۔بعض بہت سنجیدہ ہو تے ہےں ،تو بعض مےں پھوہڑ قسم کی کامےڈی ہو تی ہے۔ پرو گرام کا آغاز مہمانوں نے شمع رو شن کر کے کیا۔بعد ازاں مہمانان کا پھو لوں کے ذرےعے استقبال کیا گےا۔ اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے شےخ الجامعہ پروفےسر اےن کے تنیجا نے اس موقع پر شعبہ اردو کی کوششون کو سراہتے ہوئے کہا” ا جے روہےلا اےک منجھے ہوئے کلا کار ہےں ،اےک ناتھ رانا ڈے کی باےوپک مےں آپ نے چےلنجنگ کردار ادا کےا ہے۔ صدر شعبہ¿ اردو ڈا کٹر اسلم جمشےد پوری نے کہا کہ موجودہ وقت مےں اسٹیج کے لیے بہت سے چیلنجز ہےں۔ آج فلم کے علاوہ، ٹی وی سےرےل،فےس بک، وہاٹس اپ، ےو ٹےوب اور دےگر سو شل سائٹس کے آڈےو وےژول پرو گرام بھی رنگ منچ کے لیے چیلنج بنتے جارہے ہےں۔ اےسے مےں ڈرا مے کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھا نے کے لیے ہمےں کچھ اقدام کر نے ہوں جےسے کہانی، دلچسپ اور گتھی ہوئی ہو،اسٹےج پر لائٹ اورساﺅنڈ سسٹم نئی تکنیک سے مزےن ہوں۔ ساتھ ہی ڈرا مے کی تشہےر زےادہ سے زےادہ کی جائے جس سے نئی نسل بھی اس کی طرف راغب ہو سکے۔ ڈرامے کے ادا کاروں کو اسپا ﺅنسر کر نے والے سر کاری و غےر سر کاری ادارے ان کی بنےادی ضرورےات کو پورا کرنے کے لیے زےادہ سے زےادہ اسپاﺅنسر شپ اور انعامات کا معقول انتظام ہو تو ےقےناصورت بہتر ہو گی۔اُپٹا کے صدر بھارت بھوشن شرمانے کہا کہ اسٹیج کے لیے سب سے بڑا مسئلہ فرقہ وارےت، علاقائےت اور فن کا تجارت بن جاناہے جس سے اس کی مقبولےت مےں دن بدن کمی ہوتی جارہی ہے۔اس کے ذرےعے جو سماجی وتہذبی ورثوں کو فروغ ملنا چاہئے تھا وہ نہےں مل پا رہا ہے۔بڑے شہروں اور بڑے اداروں کے فن کار تو پھر بھی اس سلسلے مےںکچھ نہ کچھ پےش رفت کررہے ہےں لیکن چھو ٹے شہروں سے وابستہ فن کاروں کے لیے ےہ مواقع مےسر نہےں ہےں۔پرو گرام مےں ڈا کٹر شاداب علیم، ڈا کٹر الکا وششٹھ، انل شرما، سرےندر شرما، ہیمنت گو ئل، انرودھ گو ئل، ڈا کٹر ارشاد سےانوی، شوبی را نی ، حاجی عمران صدیقی، راشد ےو سف، عا بد سیفی، شاداب علی وغےرہ کے علاوہ کثےر تعداد مےںشہر کے معزز لوگوں نے شرکت کی۔