اکثر ممالک میں جمہوری اصول اور آزادی کی صورتحال ابتر رہی: فریڈم ہاو¿س

0
46

واشنگٹن 16جنوری ( آئی این ایس انڈیا ) امریکہ میں قائم ایک موقر غیر سرکاری تنظیم فریڈم ہاو¿س نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں انتخابات کی ساکھ اور آزادی صحافت جیسے جمہوری اصول گزشتہ برس بھی تنزلی کا شکا ر رہے اور یہ سلسلہ گزشتہ 12 سالوں سے مسلسل ایسا ہی چلا آ رہا ہے۔تنطیم سے وابستہ دانشور آرچ پوڈنگٹن نے بتایا کہ 2017 میں ایسے ممالک کی تعداد کہیں زیا دہ تھی جہاں آزادی کی صورتحال میں ابتری دیکھی گئی۔ فریڈم ہاو¿س کی طرف سے جاری کردہ تازہ رپورٹ 195 ممالک کا جائزہ لے کر مرتب کی گئی اور اس کے مطابق 88 ممالک کو ”آزاد“، 58 کو ”جزو ی آزاد“ اور 49 کو”پابند“ شمار کیا گیا۔رپورٹ میں امریکہ کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ملک بطور جمہوری چمپئن کمز ور رہا اور 2016ءکے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی جاری تفتیش بھی اس کی سا کھ پر اثر انداز ہوئی۔پوڈنگٹن کے بقول یہاں انتخابا ت کے معاملے میں مسائل ہیں جو آپ کو اکثر مضبوط جمہوریتو ں میں دیکھنے میں نہیں آتے۔ان کے نزدیک انتخابی مہم میں پیسے کا بکثرت استعمال اور ریاست کی طرف سے ووٹنگ کے طریقہ کار کو مزید مشکل بنانا ایسے عوامل ہیں جو جمہوری عمل کو متاثر کرسکتے ہیں۔فریڈم ہاو¿س نے موجودہ امریکی انتظامیہ کو درپیش بعض اخلاقی قضیو ں بشمول ٹرمپ خاندان کے کاروباری تعلقات اور ان کے مفادات کا ٹکراو¿ اور صدر کی طرف سے اپنے ٹیکس گوشوارے ظاہر نہ کرنے کی بابت بھی رپورٹ میں تذکرہ کیا۔تنظیم نے چینی صدر شی جنپنگ کی زیر قیا دت چین میں جبر میں اضافے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس ملک میں آزادی کی تنزلی کے عوامل میں شامل ہے۔پوڈنگٹن نے بتایا کہ چین کی حکومت کا صحا فیوں اور مختلف شعبوں میں اثرو رسوخ اور سنسرشپ کا نظام اسے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا اور یہاں تک کہ امریکہ سے بھی کم پوزیشن پر رکھے ہوئے ہے۔” جزوی آزاد“ ممالک جیسے کہ میانمار کے بارے میں فریڈم ہاو¿س کے مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی اقتدار سے جمہوریت کی طرف منتقلی کے تناظر میں یہاں کچھ بہتر ی تو دیکھی گئی لیکن یہاں خاص طور پر روہنگیا مسلما نو ں کی وسیع پیمانے پر بنگلہ دیش ہجرت سمیت انسانی حقو ق کی صورتحال خراب ہوئی۔افغانستان اور عراق میں جاری جنگوں کے باوجود فریڈم ہاو¿س کا کہنا ہے کہ ان ممالک پر 2018ءمیں نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ پو ڈنگٹن نے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضر و ری نہیں کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ یہ ملک صحیح یا غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ ہے کہ وہاں بہت کچھ ہو رہا ہے اور ہم یہ پیش گوئی کرتے ہیں۔ کہ وہا ں آئندہ سال تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ امریکی مما لک میں خاص طور زمبابوے میں طویل عرصے تک بر سراقتدار رہنے والے رابرٹ موگابے کی منصب صدارت سے علیحدگی کے تناظر میں فریڈم ہاو¿س کا کہنا تھا کہ یہ ملک بحیثیت مجموعی”جزوی آزادی“ کے زمر ے میں آتا ہے۔