دوسری تہذیبوں سے علمی تعامل کے بغیر اسلام کاری کی مہم نامکمل

0
23

علی گڑھ06 جنوری(پریس ریلیز) مغرب کی علمی و فکری بالا دستی کا مقابلہ اسی وقت کیا جا سکتا ہے جبکہ مغرب کے علوم و فنون کا محاسبہ کیا جائے، ان کی علمی بنیادوں پر تنقید کی جائے اور اسلام کے آفاقی و کائناتی اصولوں کی روشنی میں علوم و فنون کی نئی عمارت تعمیر کی جائے۔ انیسویں ۔ بیسو یں صدی عیسوی میں مسلم علماءو دنشوروں نے مغر ب کے اس چیلنج کا مقابلہ کیا ۔مفتی محمد عبدہ ، سید ابوا لاعلیٰ مودودی اور ڈاکٹر علی شریعتی نے اس میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر عنبر حق ، شعبہ¿ نفسیا ت، العین یونیو ر سٹی ، متحدہ عرب امارات نے کانفرنس ہال شعبہ¿ اسلا مک اسٹڈیز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنے تو سیعی خطبے میں کیا ۔ پروفیسر عنبر حق نے اسلاما ئیز یشن آف نالج کی تحریک کا مفصل پروگرام پیش کر تے ہوئے شہید اسمٰعیل راجی الفاروقی کی خد مات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ امریکہ میں بیٹھ کر شہید فاروقی نے علوم و فنون کی اسلام کاری کا علمی منصوبہ بنایا ۔ اس کے لئے سرفروشانہ جد و جہد کی ۔ سید محمد نقیب العطاس اور پروفیسر سید حسین نصر نے فکرِ اسلا می کی تشکیلِ جدید کے میدان میں جو عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں ان پر فاضل مقرر نے روشنی ڈالی ۔ انہوں نے زور دیا کہ علوم و فنون کی تخلیق و توسیع، پیشِ نظر مقصد کے لئے درسی کتب کی تیاری اور نئے محققین کی فکری و فنی تربیت ناگزیر ہے ۔ ہمار ے علماءاور دانشوروں نے اسلامائیزیشن کے میدان میں جو بصیرت افروز تحقیقات پیش کی ہیں اس کی وجہ مقصد سے ان کے عشق اور گہری وابستگی کی کار فرمائی ہے ۔ انہوں نے علومِ اسلامیہ کے اساتذہ و طلبا سے درخواست کی کہ وہ اسلامی تحقیقا ت سے اپنی ذہنی و فکری وابستگی کو مضبوط بنا ئیں ۔ انہوں نے جدید و قدیم علوم کے درمیان امتزاج قا ئم کرنے پر زور دیا اور غیر اسلامی ثقافتوں سے علمی و فکری تعامل کو اسلام کاری کے لئے ناگزیر قرار دیا ۔پروفیسر اکبر حسین شعبہ نفسیات ، علی گڑھ مسلم یونیو رسٹی نے فاضل مہمان اور نفسِ موضوع کا تعارف کرایا۔ انہوں نے اسلامی نفسیات کے میدان میں ہندوستان میں ہونے والی تحقیقات سے سامعین کو متعارف کرایا۔ ناظمِ اجلاس ڈاکٹر عبد المجید خان نے علم کی اسلام کاری کے موضوع پر شعبہ¿ اسلا مک اسٹڈیز میں جمع کئے جانے والے تین ڈاکٹریٹ کے مقالوں کا ذکر کیا اور طلبا و طالبات کو نصیحت کی کہ وہ پوری محنت و جانفشانی سے” تحریکِ اسلام کاری “ کے مسائل کو پڑھیں۔ڈاکٹر مصعب گوہر اور محترمہ نشاط افروز نے خطبہ کے بعد سوالات کئے ۔ شعبہ¿ سیاسیات سے پروفیسر عرشی خان ، شعبہ¿ عربی سے پروفیسر ابو سفیان اصلاحی اور ڈاکٹر ابوذر متین، شعبہ¿ دراسات ایشیاءغربی سے پروفیسر غلام مرسلین اور شعبہ¿ فلسفہ سے ڈاکٹر حیات عامر حسینی کے علاوہ اساتذہ، طلبا و طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شر کت کی ۔ صدرِ شعبہ پروفیسر عبید اللہ فہد نے شعبہ میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ پروفیسر سید احسن، ڈاکٹر آدم ملک خان، ڈاکٹر بلال احمد کٹی ، ڈاکٹر ضیاءالدین فلاحی، ڈاکٹر عرشی شعیب اور ڈاکٹر عظمیٰ خاتون نے مہمان کے ساتھ تبادلہ¿ خیال کیا۔