طلاق پر جیل توبچوں کی پرورش کا خیال کون رکھے گا :اے ایچ ہاشمی

0
21

مین پوری02جنوری(حافظ محمد ذاکر ) حکمراں جماعت کا مقصد شریعت کے اصولو ںمیں ردو بدل کر کے یکساں سول کوڈ کے لئے راہ ہموار کر رناہے ،برسر اقتداربی ، جے، پی ، حکو مت کو مسلم خواتینوں کے ساتھ ہمدردی نہیں ،بلکہ وہ صرف اکثریتی طبقہ کو خوش کرنا چاہتی ہے ،حکمر ا ں جماعت ملک میں مسلمان مردوں کے ساتھ زیادتی ،اور زوجین میں فساد چاہتی ہے،حکمراں جماعت (بی،جے،پی،)نے اپنے چار سالہ اقتد ار میں ملک یا ملک کے باشندون کے لئے ایسا کونسا کام کیا ہے جو تاریخ کے سنہرے لفظوں میں لکھا جائے ،دیش میں بڑھتی مہنگائی،بد عنوانی، بے روزگاری،سرحدپر جوانوں کی بڑھتی لاشیں ،ان سب پر پرڈالنے کے لئے یہ سب شوشہ باز ی ہو رہی ہے ،ہمارے ملک کے وہ اکثریتی طبقہ جو صرف اس بات سے خوش ہے کہ مسلمانوں کی ایک شریعتی جز کو ناکام بنا دیاگیا ،وہ لوگ یہ کیوں نہیں دیکھتے حکمراں جماعت نے ملک کی گنگا جمنا تہذیب کو کس قدر کمزور کر دیا ،ملک کی معیشت کس حد تک گر چکی ہے ،غربت ،افلاس ملک میں پیر پسارے ہوئے ،ملک میں تعلیمی سطح کمزور ہے ،اقلیتی طبقہ پر اکثریتی طبقہ،مذہب کے نام پرظلم کر رہا ہے ،اقلیتی طبقہ کا سر عام خون بہایا جا رہا ہے ،کیا یہ سب چیزیں ملک کی ترقی کی ضامن ہیں ؟ان حرکات سے عالمی برادی میں اس ملک ہندوستان کا نام کتنا بدنام ہو رہا ہے ،اخباری نما ئندوں کے سامنے طلاقِ ثلاثہ پر اپنا موقف ر کھتے ہوئے آل انڈیا اقلیتی وکلاءایسوسی شین کے ریاستی صدر ای،ایچ ،ہاشمی ایڈ ووکیٹ نے کہا کہ ،عدالت عظمیٰ نے طلاقہ ثلاثہ کو ختم کر دیا عدالت نے مانا کہ غصہ کی حالت میں ،اس کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا ہے بلکہ یہ ایک قسم کی مسلم خواتین پر زیادتی ہے ،حکومت بھی عجیب ہے کہ جب عدا لت نے طلاقِ ثلاثہ کو طلاق واردہونامانا ہی نہیں ،تو پھر سزا کے کیا معنی ،اگر ایک ساتھ تین طلاق تسلیم کی جائیں تب تو مرد کو سزا دینے کا جواز صحیح بھی ہے ،عدالت کہتی ہے کہ تین طلاق ایک سا تھ دینے سے واقع نہیں ہو گی ،اور حکومت ایسے مرد کو سزا دے رہی ہے ،تو پھر تین سال تک بال بچوں کے قیام طعام(پرورش) کا خیال کون رکھے گا ،کس طرح وہ عورت اپنے بچوں کا گزر بسر کریگی ،مرد کو جیل بھیج نے کے بعد حکومت نے ایسے گھروں کے لئے کیا انتظام کیا ہے؟اس صور ت حال میں اب اگر عورت اپنے مرد کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو وہ تو پولس میں فوراً یہ شکایت کر دیگی کہ میرے مرد نے مجھے ایک ساتھ تین طلاق دے دیں،ایسے حالات میں مردوںکےلئے بڑی مصیبت کھڑی ہو جائے گی ،حکمراں جماعت کو چا ہیے تھا طلاقِ ثلاثہ کو برقرار رکھتی ،اور پھر مرد کو سزا کا مستحق قرار دیتی ،اب یہ کیا بات ہوئی کہ سپریم کورٹ کے مطابق طلاق بھی نہیں ہو ئی ،اور بے چارے مرد کو سزا بھی ہو گئی ،اب اگر کسی وجہ سے عورت مرد کے ساتھ زندگی گزارنا نہیں چاہتی ، اور مرد طلاق دینا نہیں چاہتا تو اس صورت میں عورت اپنے مرد کو مقدمہ کا خوف دکھا کر طلاق لے لےگی ،دوسری بات یہ ہے کہ مرد تین سال کی سزا کاٹ نے کے بعد پھر وہ اپنی عورت کو کس بنیا د پر رکھے گا ؟بیوی بنا کر یا پھر کچھ اوربنا کر ؟اس سے جنسی تعلقات کو کیا نام دیا جائے گا، اس سے قبل بھی حکومتوں نے کئی دفعات (ایکٹ ) بنائے ،جیسے،بچوں کا جنسی استحصال ایکٹ ، جہیز ایکٹ ،مادرشکم میں بچوں کا قتل ایکٹ ،آج اگر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں مردوں کے مقابلہ عورتوں کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے ، اس معاملہ میں حکومت کتنی سنجیدہ ہے؟ کہیں نہ کہیں تو اس ایکٹ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں ،مادر شکم میں قتل کے معا ملہ صفر کے برابر شاید تھانوں میں درج ہو تے ہیں ،آخر ایسا کیوں ،خواتینوں کی تعداد گھٹ رہی ہے ،اور حکومتیں خاموش تماشہ بنی ہوئی ہیں ،کیا صرف حکمراں جماعت کو مسلم خواتینوں سے ہی ہمدردی ہے ؟ اور دھرموں کی خواتینوں سے کیوں نہیں ؟آج ملک کی عدالتوں میںسب سے زیا دہ اکثریتی طبقہ کی عورتوں کے طلاق کے مسائل زیر بحث ہیں ،مذہب اسلام تو مکمل ایک نظام حیا ت ہے ،زندگی کے ہر شعبہ کا حل اس میں مو جود ہے ،مگر اور مذاہب میں زندگی کے کسی بھی شعبہ کا تو کوئی طریقہ ہی نہیں ،جن کے یہاں کوئی طلاق کا طریقہ ہی نہیں اس قوم کی عورتوں کی فکر پہلے ضروری ہے؟