مدرسہ بورڈ بھی تعلےمی مےدان مےں اہم کر دار ادا کررہا ہے: محمد اکبر ظفر

0
11

لکھنو¿: 14 جنوری ( پرےس ریلیز )آج مورخہ 14 جنوری کو ےو پی پرےس کلب لکھنو¿ مےں اتر پردےش مدرسہ اےسوسی اےشن کی جانب سے اےک پرےس کانفرنس کا انعقاد ۔ بعنوان ’نرےندر مو دی اور مسلم دشمنی ہوا ۔ جبکہ صدارت بھاگیداری آندولن کے صدر پی سی کر ےل نے کی ۔ نظامت کے فرائض قاری محمد شاہ فےصل ن ے اداکئے ۔ مہمان خصوصی انڈےن نےشنل لےگ کے قومی صدر پروفےسر محمد سلمان و جماعت اسلامی کے لےڈر کے اے انصاری نے شرکت کی ۔ کانفرنس مےں آج کے حالات حاضرہ پر اےک جامع محاسبہ کےاگےا ۔ جناب پی سی کر ےل نے اپنے صدارتی خطاب مےں وزےراعلیٰ کو انتباہ دےتے ہو ئے کہا کہ اےسے پاگل انسان کو شےعہ وقف بورڈ کی سرکاری کر سی سے فوراً ہٹا دےں ۔ ےہ خواس الخبط انسان پر امن ملک کی فضا کو اپنے بےہو دہ اور بے تکے لفظوں سے مکد ر کر دےا ہے ۔ ےہ خوشنودی مےں اپنا اےمان اپنا مذہب سب کچھ بھول گےا ہے ۔ پروفےسر محمد سلےمان نے اپنی تقرےر مےں بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لےتے ہو ئے کہا کہ جب سے بی بے پی کی حکومت آئی ہے ۔ عربی مدرسوں کے مدرسےن کا جےنا حرام کر دےا ہے ۔ مدرسےن کی تنخواہوں کو روک کر مدرسوں کی جانچ کے نام پر ، قومی ترانہ کے نام پر ، اور اب مدرسہ پورٹل کو ان لاک کر کے طرح طرح سے اذےت مےں مبتلا کےاجارہا ہے ۔ محمد اکبر ظفر نے کہا کہ مسلمانوں اپنی ذہنےت کو بدل ڈالو ، احساس کمتری کے جذبہ کو سرجو ندی مےں پھےنک دو ، تم عظےم ہندوستان کے حاکم تھے ۔ تم نے ساڑھے آٹھ سو سال تک حکومت کی ۔ جو بنگلا دےش ، پاکستان ، افغانستان ، بر ما ، تک وسےع تھا ۔ حکومت کی ۔ مگر اسلام کے ازلی دشمنوں عےسائی و ےہو دےوں کی شاطرانہ سازشوں سے حکومت ہم سے چھےن کر ہمار ے ہندو بھا ئےوں کو دے دی ۔ اور بابری مسجد کی شکل مےں نفرت کا اےسا بےج بو دےا جس کے باعث ہزاروں ہندو اور مسلمانوں کو اپنی زندگےوں سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ لال قلعہ ہمارا تاج محل ہمارا ، ہندوستان کے لاتعداد شہر ہم نے بسائے ۔ اور اب بےوقوف پاگل انسان ہم کو غدار وطن کا لقب دےتے ہےں ۔ جو ہم کو غدار کہتا ہے وہ خود غدار کی اولاد ہے ۔ہندو ہمارے سچے اور اصل ہمدرد ہےں ۔ جب آئےن ہند کی تحرےر رقم ہو رہی تھی تو ےہ ہمار ے ہندو بھائی ہی تھے ۔جنہوںنے ماضی کے ہمارے حکمرانوں کی تذلےل نہےں ہونے دی ۔ اور ہم کو بھی دستو ر ہند مےں برابر کا حق دےا ۔ محمد اکبر ظفر نے مزےد کہا کہ ہندوستان مےں مدرسہ بورڈ بھی تعلےمی مےدان مےں اےک اہم کر دار ادا کررہا ہے ۔ اس کو مزاق نہ بنا ئےں۔ جس دن مسلمانوں کے دل ودماغ مےں ےہ بات ذہن نشےن ہوجائے گی ۔ کہ ےہ ملک مےرا تھا مےرا ہے ۔ اس دن گﺅ رکشا کے نام پر قتل کرنے والوں کے حوصلے پست ہو جائےں گے ۔ پھر کسی نکمے کے ہاتھوں کسی بے قصور مسلمان کی جان نہےں جائے گی ۔ حاجی فہےم نے اپنے خطاب مےں کہا کہ وزےراعلیٰ عقل سلےم کا استعمال کرےں ۔ عداوت چھوڑ دےں اور مسلمانوں کو تعلےمی مےدان مےں تر قی کی شاہراہ پر گامژن کرےں ۔ سب سے پہلے وہ اتر پردےش مدرسہ بورڈ مےں کسی عربی فارسی اور اردو جاننے والے رجسٹرار کی تعےناتی کرےں ۔ تاکہ ہونے والے امتحان قائدے سے ہو سکےں ۔ اگر کسی سنسکرت اسکول مےں کسی مولانا کو ٹےچر ےا پرنسپل بنا دےا جائے تو کےا وہ اسکول چلا پائے گا ۔ قمر سےتا پور ی نے حالےہ دنوں مےں ےسےن گنج مےں واقع مدرسہ خدےجة الکبریٰ للبنات مےں ہو ئے پو لےس اور مدرسہ کی زمےن کے مالک کی سازشوں سے عربی مدارس کو بدنام کرنے کا جو سا جھا کھےل کھےلا ۔ وہ قابل مذمت ہے ۔ اور اس سانحہ کو فرقہ پرست ذہنےت کے ٹی وی چےنلوں نے دو دن تک برےکنگ نےوز بنا کر پو ری دنےا کوع دکھا ےا ۔ جلسہ کے اختتام پر جلسے کے ناظم قاری محمد شاہ فےصل ، نے سب کا شکرےہ ادا کےا ۔ انہوںنے اپنے مختصر خطاب مےں کہا کہ اگر مودی جی کو مسلم خواتےن کی اتنی ہی فکر ہے ان کے لئے آئےن ہند مےں 18 فےصدی رےز روےشن کو کےوں نہےں نافذ کر تے ۔ اس موقع پر خصوصی طور سے، محمد آفاق ، مولانا انعام اللہ ، امن سرےواستو ، محمد شعےب ،سلمان صدےقی ، سمےت مدرسہ کے طلباءو طالبات اور معززےن شہر موجود تھے ۔