نیوزی لینڈ نے پاکستان کو0-5سے کیاوہائٹ واش

0
48

ویلنگٹن، 19 جنوری (یو این آئی) مارٹن گپٹل (100 رن) کی سنچری اور میٹ ہنری (53 رن پر چار وکٹ) کی گیند بازی سے نیوزی لینڈ نے پاکستان کو پانچویں اور آخری ون ڈے میچ میں جمعہ کو 15 رنز سے شکست کے ساتھ سیریز میں 5۔0 سے کلین سویپ کر لی۔ اس طرح بلے بازوں کی ناقص کارکردگی کے سبب پاکستانی ٹیم کو ایک مرتبہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ویلنگٹن میں کھیلے گئے سریز کے پانچویں اور آخری ون ڈے میچ میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جسے اوپنرز نے درست ثابت کر دکھایا۔نیوزی لینڈ نے مقررہ 50 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 271 رن کا اسکور کیا جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم 49 اوور میں 256 پر آل آ¶ٹ ہو گئی۔ اوپنرز مارٹن گپٹل اور کولن منرو نے اپنی ٹیم کو چھ اوورز میں 52 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا لیکن رومان رئیس نے 24 گیندوں پر 34 رنز بنانے والے منرو کو قابو کر لیا۔گپٹل کی عمدہ فارم کا سلسلہ جاری رہا اور انہوں نے کپتان کین ولیمسن کے ساتھ دوسری وکٹ کیلئے مزید 49 رنز جوڑ کر ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن ولیمسن کی اننگز 22 رنز پر عامر یامین کے ہاتھوں تمام ہوئی۔ اس موقع پر گپٹل کا ساتھ نبھانے تجربہ کار راس ٹیلر آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے 112 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کی بڑے اسکورتک رسائی کی بنیاد رکھی، گپٹل ایک چھکے اور 10 چوکوں سے مزین 100 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد رومان رئیس کی دوسری وکٹ بنے ۔ اس موقع پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم باآسانی 300 رنز سے زائد کا اسکور ترتیب دینے میں کامیاب رہے گی لیکن اختتامی اوورز میں پاکستانی بالرز کی نپی تلی بالنگ کے سبب نیوزی لینڈ کی ٹیم مقررہ اوورز میں سات وکٹ کے نقصان پر 271 رنز بنا سکی، ٹیلر نے 59 رنز بنائے ۔ پاکستان کی جانب سے رومان رئیس تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب بالر رہے جبکہ فہیم اشرف نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو ایک مرتبہ پھر بیٹنگ لائن ناکامی سے دوچار ہوئی اور سیریز میں پہلا میچ کھیلنے ولے عمر امین صرف دو رنز بنانے کے بعد میٹ ہنری کو وکٹ دے بیٹھے ۔میٹ ہنری نے ٹیم میں واپسی کے ساتھ ہی اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا اور فخر زمان کے بعد بابر اعظم کو بھی آ¶ٹ کر کے پاکستان کو تین وکٹوں سے محروم کر دیا۔ حارث سہیل اور محمد حفیظ نے شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا دینے کی کوشش کی لیکن 52 کے اسکور پر لوکی فرگیوسن نے ان اننگز کا خاتمہ کردیا۔کپتان سرفراز احمد بھی اس مرتبہ ٹیم کے کسی کام نہ آ سکے اور صرف تین رنز بنا کر ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر پویلین جا پہنچے ۔ 57 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد شاداب خان کی میدان میں آمد ہوئی جنہوں نے حارث سہیل کے ساتھ اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا، دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 105 رنز کی شراکت قائم کی اور اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب مچل سینٹنر کی گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں حارث سہیل کیچ دے بیٹھے ، انہوں نے 63 رنز بنائے ۔