2+2 3

کشمیر میں آنکھوں کی بینائی سے محروم اولادوں کی پرورش ضعیف ماں کے کاندھوں پر

سرینگر13جنوری(جاوید احمد )ستم بالا ئے ستم ۔ماں باپ کے سپنوں کو پورا کرنے کے لئے اولاد کی ذمہ داری پر کڑی نگاہیں رہتی ہیں لیکن جب اولاد کی پرورش تا عمر ماں باپ کے کاندھوں پر آتی ہے تو ایک رقت آمیز کہانی سا منے آجاتی ہے ضلع اننت ناگ کے سندھو گاو¿ں کی پچتھر سالہ موختی بیگم کو بھی مقدر نے زندگی کے ایک عجیب دوراہے پر کھڑا کردیا ہے کیونکہ اس کے سامنے اس کی دو بالغ اولاد آنکھوں کی بینائی سے محروم ہیں۔وہ اپنی چھیالیس سالہ بیٹی حاجرہ بانو اور چھتیس سال کے بیٹے محمد شعبان کو اپنے سامنے دیکھ رہی ہے مگر یہ اولاد اپنی ماں کو دیکھنے کی طاقت سے محروم ہیں۔یہ منظر گویا موختی بیگم کےلئے کسی قیامت سے کم نہیں۔اور آنکھوں کی رو شنی سے محروم ان بچوں کی پرورش و نگہداشت کرنا اس کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف تو ہے مگروہ ان کٹھن آزمائشوں سے بہادری کے سا تھ نبرد آزما ہے۔ موختی بیگم یوں تو ایک عام سی بز رگ عورت دکھائی دیتی ہے مگراس کے ساتھ با ت کرنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایک پ±ر فکر اور سنجیدہ عورت ہے۔وہ ا±س وقت کو آبدیدہ آ نکھوں سے یاد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ خوشی کا لمحہ میں کبھی فراموش نہیں کر سکتی جب پہلی بار میری گود میں ایک ننھی سی بچی آئی۔لیکن حاجرہ کو جنم دینے کی خوشی دیرپا ثابت نہیں ہوئی کیونکہ کچھ وقت کے بعد ہی مجھے محسوس ہوا کہ میری بیٹی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہے۔ میں اور میرا خا وند سخت دلبرداشتہ ہوئے۔ہماری اقتصادی حا لت خراب تھی جو ہمیں اس کا علاج کر نے میں ما نع آئی۔ ہم نے اسے اپنا مقدر جان کر حا جرہ کی پرورش و نگہداشت بہ احسن و خوبی انجام دی ۔ مو ختی بیگم کا کہنا ہے کہ جب میں دوسری بار حاملہ ر ہی تو ہم میاں بیوی خوشی سے پھولے نہ سمائے بیٹا پیدا ہوا تو ہم نے راحت کی سانس لی۔ یقین میں خوشی محسوس کر رہے تھے کہ اب ہمارے بڑھاپے کا سہارا آگیااور یہ اپنی اندھی بہن کا بھی خیال ر کھے گا۔لیکن ہماری ان خوشیوں کی عمر نہایت ہی کم نکلی کیونکہ کچھ ہی سال بعد ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ہمارا بیٹا نہ صرف آنکھوں کی روشنی سے محروم ہے بلکہ یہ اچھی طرح چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہے۔ہم پر تو گویا غموں کا پہاڑ ٹوٹ گیا۔میں رو نے بلکنے کے سوا کچھ اور نہ کرسکی۔لیکن شو قسمت نے میرے خاوند کے ساتھ وفا نہیں کی اور جب ہمارے بچوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو مو ت نے میرے خاوند کو اپنی آغوش میں لے لیا ۔ آمدنی کا کوئی سہارا نہیں تھا تو مدد کے لئے مقا می سرکاری انتظامیہ کے پاس چلی گئی مگر امدا دکے سا رے دروازے بند کردئے گئے۔کسی نے میر ی مدد نہیں کی۔بچوں کا پیٹ پالنے اور ان کو پروا ن چڑ ھانے کےلئے میں نے کافی محنت کی۔مجھے کافی دقتوں اور مشکلات کا سامنا کرناپڑا مگر میں نے ہمت نہیں ہاری۔موختی بیگم کا بیٹا اس دکان پر بیٹھتا تھا مگر آنکھوں کی روشنی نہ ہو نے اور ٹانگوں میں کمزوری ہونے کی وجہ سے وہ اس دکان کو چلا نے سے قاصر ہے کئی افراد نے یہ درخواست کی کہ اس کنبے کی مالی مدد کرنے کے لئے سرکاری انتظا میہ سے اپیل کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں