کشمیر میں لوک تھیٹر کرنے اور دیکھنے کا اجاگر ہورہا شعور ،دم نکلتے فن کو دوبارہ دوام بخشنے کی کوشش

0
16

سرینگر02جنوری(جاوید احمد )ڈرامہ، ناٹک، یا تمثیل حقیقی زندگی کی نقل ہوتے ہیں۔ انسان ہر زمانے میں بہروپ بھر کراور ناٹک یا سوانگ رچا کر یا عام الفاظ میں ڈرامے سے لطف اندوز ہوتا آیا ہے۔ البتہ اس بارے میں تاریخ کچھ نہیں بتاتی کہ پہلا ڈرامہ کب سٹیج کیا گیا اور تھیٹر کا آغاز کب ہوا۔ غالباً پتھر کے زمانے کے کسی قدیم انسان نے کسی رات آگ کے گرد بیٹھے ہوئے اپنے ساتھیوں کو ہاتھوں کے اشاروں اور اعضا کی جنبش سے اپنی قدیم ابتدائی طرز کی زبان میں ا±س روز کے کسی شکار کی کہانی سنائی ہو گی۔ بہرحال تاریخ ہمیں یہ ضروربتاتی ہے کہ دنیا کی تمام ہی تہذیبوں میں، چاہے وہ رومی تہذیب ہو یا یونانی، چینی ، جاپانی یا افریقی، تھیٹر کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے۔ البتہ برصغیر پاک وہند میں تھیٹر کی ابتدائی شکل سنسکرت تھیٹر تھا۔ اس کا ظہور غالباً تیسری صدی قبل مسیح میں کسی وقت ہوا اور وہ غالباً چندرگپت موریہ کا زمانہ تھا۔ تب بادشاہوں کے زیر سرپرستی عموماً مذہبی داستانوں پر مبنی کھیل پیش کیے جاتے تھے جن کا مقصد تفریح اور تعلیم دونوں تھا۔۔ تمثیل کے لیے سکون اور توازن لازمی تھے۔ شدید المیے اور قتل و خون کے مناظر سے پرہیز کیا جاتا تھا تاکہ تماشائیوں کے ذہنی سکون میں خلل نہ آئے ۔ تھیٹر ڈراموں میں رقص اور موسیقی کا استعمال ہوتا تھا۔ اداکار اپنے سر، آنکھوں، بھنوں، بازوں، ہاتھوں کے اشاروں سے زندگی کی کہانی سناتے تھے۔ ان اشاروں، چال، جھکاو، حرکات کی اَن گنت اقسام تھیں جن کے ذریعے ساری کیفیات، احساسات اور خیالات بیان کیے جاتے تھے۔ڈرامے میں گفتار کی بجائے کردار زیادہ اہمیت رکھتا ہے لیکن محض کردار پر مضبوط گرفت ہی ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت نہیں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرامے کی ابتداء قدیم زمانے میں رقص و سرود کی محفلوں سے ہوئی جو کسی قبیلے کی فتح یا مذہبی تہوار کے موقع پر منعقد ہوتی تھیںایک فنکار جو سب کو ہنسانے کے لئے اسٹیج پر کھڑا ہے اس کے اپنے حالات کیا، اس کے گھر کے حالات کیا ہیں، وہ اندر سے کتنا پریشان ہے، ان سب چیزوں کے ساتھ کم معاوضے نے اسٹیج کا جغرافیہ ہی تبدیل کر دیا۔شائستگی کی جگہ ڈانس اور خراب زبان نے لے لی۔ اب سٹیج ڈرامے فیملی تفریح کے لائق نہیں رہے۔ دو دہائی تک اس پر جمود طاری رہا۔ البتہ سٹیج ڈراموں کے سنجیدہ افراد نے اچھا کھیل پیش کرنے کی کوشش ضرور کی۔ گذشتہ کچھ عرصے سے تھیٹر اور سٹیج پر دوبارہ سے محنت شروع ہوچکی ہے ان نئے تھیٹر گروپس کی کامیابی کی وجہ محنت، لگن اور قابل لوگوں کی دلچسپی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معیاری تھیٹر دیکھنے والوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ معیاری کام کر تے ہوئے نہ صرف شائقین تھیٹر کو مطمئن کیا جا ئے بلکہ ڈرامے کا اصل مقصد بھی لوگوں تک پہنچے ۔وادی کشمیر میں بھی لوک تھیٹر کی کافی پرانی تاریخ ہے باادب اور صحیح معنوں میں سماج کے کئی اموارت کو تمثیلی انداز میں پیش کیا جاتا تھا جنہیں مرد عورت ایک دیکھ کر لطف اندوز ہوجاتے تھے ۔ ڈرامہ اور لوک تھیٹر میں کردار نبھانے والے افراد نایاب ہوتے گئے شورش زدہ کشمیر میں لوک تھیٹر جیسے غائب ہی ہو گیا ایک عرصہ گزرنے کے بعد کشمیر کی نئی نسل نے اس میدان میں دوبارہ طبع آزمائی شروع کرکے اس فن کو زندہ کرنے کا عہد کر لیا اور اس سلسلے کے تحت کئی ڈرامے پیش کئے گئے جن سے شورش زدہ کشمیری ماحول کی بہتر ین عکاسی ہوتی ہے ڈراموں میں کام کر نے والے ادا کاروں اور فنکاروں کو زبردست مشکلا ت و مسائل کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے دم نکلتے اس فن کو زندہ رکھنے کے لئے ان فنکاروں کی کئی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی ۔جموں کشمیر کلچرل اکیڈمی بھی شاید خواب خرگوش میں مست ہیں ان پروگرا موں کے نہ ہی انعقاد کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی اختتام کا اگر یہ محکمہ لوک تھیٹر کو دوبارہ دوام بخشنے میں ان کلا کاروں حوصلہ دلانے میں تھوڑی سی دلچسپی دکھاتا تو شاید یہ پرانا اور بادن فن دوبارہ زندہ ہوتا ۔لوک تھیٹر کے کئی ڈراموں میں اہم کردار نبھانے والے ایک فن کار جنید راتھر کا کہنا ہے کہ ہم نے ملک کے کئی اہم ریاستوں میںمیں ڈرامے پیش کئے اور کشمیر کے حالات و حادثات کو تمثیلہی انداز میں پیش کیا ۔ناظرین کے اندر رقعت آمیز مناظر دیکھے اور کافی حوصلہ افزائی ملی ۔لوگوں نے ہمارے کا م کو کافی سراہا لیکن جب ہم اپنی وادی میں واپس آتے ہیں ہمیں دوبارہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ایک تھیٹر گرو پ کی سرکاری طور پر رجسٹریشن کرانے کے لئے ہمیں دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور کہیں سے کوئی صحیح جواب نہیں مل رہا ہے ۔وادی میں معیاری کام اور اعلی پائے کے فنکار موجود ہیں جنہیں سامنے لانے کے لئے سرکار کو دلچسپی د کھانے کی ضرورت ہے نئی نسل میں تھیٹر دیکھنے اور کرنے کا شعور بھی اجاگر ہو رہا ہے۔ سرکا ر کی دلچسپی سے ہی فنکاروں کے اس اقدام سے تھیٹر کی بہتری اور عروج جلد ممکن ہو سکے گا۔