آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Uttar Pradesh

ایمانداری ، امانتداری ، عاجزی، صبر،ملنساری ، خلوص اور وحدانیت کا سرچشمہ ہے شریعت:سید احتشام علی

6+6
Written by Taasir Newspaper

سہارنپور 02جنوری( احمد رضا ) جس (دین ) شر یعت کیلئے اللہ کے رسول ﷺ دنیا میں بھیجے گئے اسی شریعت کو اللہ کے ولیوں نے پاک رسول کے گھرانہ اور سلسلہ سے سینہ بہ سینہ حاصل کیا اور اسی دین کو آج عام کرنے کی خاص ضرورت ہے آخری نبیﷺ کے بعداللہ کے ولیوں نے ہی اللہ کا سچا دین شریعت ہم سبھی تک پہنچایا یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کل عالم کا خالق ہے زمین سے آسمان تک جو کچھ بھی موجود ہے اس سبھی کا کنٹرول اللہ ہی کے ہاتھوں میں ہے ہم سب اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں جو کل عالم کیلئے رحمت بناکر بھیجے گئے اب ہمیں آ پکے دین کوہی گھر گھر پہنچاناہے اور یہی ہزار سال سے پو ر ے عالم میں صوفیائے کرام نے کرکے دکھایا ہے دین اسلام امانتداری ، ایمانداری، صبر، عاجزی، انکساری، ملنساری، خلوص اور وحدانیت کا بیش قیمتی جز ہے اسی کو صوفیانے اللہ کی مخلوق تک پہنچانیکاقابل فخر کام انجام دیا ہواہے نتیجہ کے طور پر خانقاہوں سے یہ فیض آج بھی لگاتار جاری ہے ! نازک سے نازک حالات میں بھی کل عالم میں صوفیائے کرام نے جس انداز اور اعتماد کے ساتھ پیغام خداوندی کو سہل انداز سے گھر گھر پہنچایا اسکی جس قدر تعریف اور تلقین کی جائے وہ کم ہے کل عالم کا خالق اللہ وہ کل عالم کی پیدائش سے قبل بھی ایک تھا اور آج بھی ایک ہی ہے اور تاقیامت اللہ ایک ہی رہیگا وہی کل عالم کا رب العزت اور خالق وقادر ہے بس اسی پیغام کو عام کیاجانا موجودہ ماحول میں بیحد ضروری ہوگیاہے خانقائے برہانیہ چشتیہ صابریہ اور نظامی کے سجادہ نشین سید احتشام علی نے آج شام ایک اہم گفتگو کے دوران مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہےکہ ہم سبوں کو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہوگاہماری زندگی کے تمام گوشے نبی کریم اور آپکے عاشقان ؒکے طریقہ پر آجائیں تو اسی جز اور عمل کا نام ہی ایمان ہے ۔ دنیا صوفی ازم کو فوقیت دیتی ہے غوث پاک ؒ سے لیکر داتا گنج البخش، خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیریؒ، بابا علاﺅالدین صابرکلیریؒ نے کل عالم کے انسانوں کو سرزمین ہند سے جو پیغام حق پہنچایا آج یہ اسی کی برکت ہے کہ عالم کے شہنشاہ اور وزیر اعظم بھی ان خانقاہوں پر ہر سال اپنے عقد و احترام کا نظرانہ پیش کرتے ہیں اور فیض پاتے ہیں نبیﷺ آخری نبی تھے اللہ نے اپنا کام مکمل کردیاہے اللہ کے پاک رسولﷺ نے بھی اپنی زندگی کے آخری عشرے میں میدان عرفات میں کل انسانیت کو جو پیغا م ارسال کیا آج وہی پیغام خانقاہوں سے چودہ سو سال بعد بھی لفظ بہ لفظ اسی شان سے جاری ہے دنیاکو تشدد سے بچا نیکے لئے خانقاہوں کے معتبر پیغام کو عام کیا جاناہی اللہ اور اللہ کے پاک رسولﷺ تک رسائی ممکن ہے۔صوفی احتشا م چشتی نے کہا کہ ہمارے پاک حضور نے فرمایا کہ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، نرم گفتگو، صبر، تقویٰ، حسن سلوک ، پڑو سیوں کا خیال رکھنا اور حق بات کہنا، غیبت، جھوٹ، فریب ، مکاری، دغابا ز ی سے خد کو بچاتے ہوئے وحدانیت پر قائم رہناہی اصل ایمان کی پہچان ہے یہی کام حسنؑ اور حسین ؑ نے دین اسلام کو سرسبز رکھنے کیلئے جان کی شہادت دیکر کر دکھایا یہ مستند نظیر حق اور وحدانیت۔سید احتشام علی کہتے ہیں کہ ہم جب جب خوجہ اجمیری کے دربار میں نظرانہ عقیدت لیکر پہنچتے ہیں تب تب ہمارے سجادہ نشین حضرت غریب نوازؒ محترم فخرو میا ں کہتے ہیں کہ رسول ﷺ تک رسائی اسی خانقائی طریقہ سے ممکن ہی نہی سہل بھی ہے اسی مقصد سے اپنی خانقاءمیں چشتیہ سلسلہ کی مشہور خانقائے برہانیہ کے سجادہ نشیں سید احتشام علی چشتی، صابری، قادری اور برہانی نے فرمایاکہ اللہ کے باعظمت کلام قرآن کی تعلیم اور پیغام م صوفیائے کرام کو عام کیا جانا وقت کا بڑا تقاضہ ہے کیونکہ دنیا گمراہی کے دل دل میں دھنستی جارہی ہے اس دل سے نکل پانا مستقبل میں نا ممکن ہوجائیگا اگر وقت رہتے ہم نے ہوش نہی سنبھا لا تو تباہی یقینی ہے؟ خانقائے بر ہا نیہ پکا باغ سہارنپور کے سجادہ نشین سید احتشام علی چشتی کی زیر رہنمائی یہ روحانی تقریب تلا وت کلام پاک اور نبی پاک ﷺ کی شان میں نظرا نئہ عقید ت کے سا تھ شروع ہوئی اس اہم روحانی تقریب کے اہم ز مو قع پر اللہ کے پاک کلام کی تعریف کرتے ہوئے سجادہ نشین نے فرمایا کہ آج کا مسلمان اپنے مقصد سے گمراہ ہوکر یہود یوں اور عیسائیوں اور دیگر قوموںکا غلام بن کر رہگیا ہے ہند وستان کا مسلمان بھی کلام اللہ اور اللہ کے محبوب بندوں کی عملی زندگی کے شاندار اصولوں کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹک گیا ہے جس وجہ سے دنیا میں مسلکی تضاد، گمراہی، تشدد اور نفسا نفسی کا عالم ہے !ہمارے سجادہ نشین حضرت غریب نوازؒ محتر م فخرومیاں کہتے ہیں کہ اب قیا مت تک کوئی نبی نہیں آئے گا اب نبیوںوالا کام اس امت محمد ﷺ میں ہی اسکے صوفیوں، نیک بندوں اورمتقی کارندوں کو ہی فوقیت کے ساتھ کرنا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ چودہ سو سا ل بعد بھی ہماری خانقاہوں سے یہ روحانی فیض کا سلسلہ بغیر امتیاز مذہب اور ملت آج بھی لگاتار جاری ہے۔اسکی تجلیاں آجبھی ہر جگہ ونماہے عالم اسلام میں اللہ کی پاک کتا ب، رسول ﷺ کی سیرت کے بعد زریعت اور پھر صوفی ازم کے سہیاور اصل راستہ سے بھٹک گئے ہیں جبکہ ہم جانتے ہیںکہ یہ سبھی فضول باتیں ہیں اور گمراہی کے سوائے کچھ بھی نہیںہے پیارے نبیﷺ کو اللہ نے ہی پیدافرمایا اگر اللہ تعالیٰ پیارے نبیﷺ کودنیا میں پیدانہ فرماتا تو یہ کائناتبھی نہیں ہوتی یہ بات حق ہےکہ یہ دنیاءصدقہ ہے حضورﷺ کاجب تک دنیا میں ایک بھی اللہ کہنے والاباقی رہے گا قیامت نہیں آئےگی۔

About the author

Taasir Newspaper