آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Karnataka

خواتین کو ایکسر نظر انداز کیا گیا:ڈاکٹر نوہرہ شیخ

1+1
Written by Taasir Newspaper

کرناٹک03جنوری (ریلیز) نیشل سطح کی آل انڈیا مہیلا امپاور منٹ پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ اور ہماری پارٹی ایم ای پی کو چناﺅ نشان کے طور پر ڈائمنڈ یعنی کہ ہیرا منتخب کیا گیا ہے۔ پارٹی کو الیکشن سمبل کے طور پر ڈائمنڈ ملنے پر تمام بھارت سمیت ہماری پوری پارٹی اور ہیرا گروپ آف کمپنیز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈائمنڈ دنیا کا سب سے قیمتی اور خوبصورت شے ہے اور یہ کافی مضبو ط شے کے طور پر دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ ہیرے کو دنیا کا تمام فرد والہانہ طور پر پسند کرتا ہے لہذا ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہماری پارٹی کو ڈائمنڈ الیکشن نشان کے طور پر الاٹ کیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مہیلا امپاور منٹ پارٹی کی قومی صدر محترمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے ایک انٹر ویو میں کیا ہے۔ انٹر ویو میں مزید اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مہیلا امپاور منٹ پارٹی کی صدر محترمہ ڈاکٹر نوہرا شیخ نے کہا کہ ہماری پارٹی قوم وملک کی خدمت کرنے کیلئے میدان میں اتری ہے۔ پارٹی ایم ای پی کو لانچ کرنے کا اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ہندستان کی آزادی سے لے کر اب تک بہت ساری پارٹیاں بھارت کے اندر سیاست میں آئیںلیکن کسی بھی پارٹی نے خواتین کی تحفظ اور ان کے حقوق کے لئے کام نہیں کیا۔ کئی بار خوا تین کے حقوق کے طور پر کچھ اسکیمیں اعلان کی جاتی ہیں لیکن ہم تک ان اسکیموں اور فوائد کا پہنچنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہو جاتا ہے۔ لہذا اس طرح کے کئی اہم امور کو دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ بڑے بڑے بجٹ پیش کئے جانے کے باوجود کوئی بہبود کا کام خواتین کیلئے نہیں کیا جا رہا ہے۔ کروڑوں اور اربوں روپیوں میں اعلان کیا گیا بجٹ سالوں سال سے آج تک مستحقین ، خواتین اور غریب و مفلس افراد تک نہیں پہنچ پایا ہے۔کہیں درمیان ہی میں یہ تمام بجٹ کرپٹ ذہنیت مفاد پرست عناصر ہڑپ کر جاتے ہیں۔ آج ملک میں خوا تین تقریبا پچاس فیصد آبادی پر منحصر ہیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو نمائندگی کے طور پر دو تین سیٹیں بھی خواتین کو الاٹ نہیں کی گئیں۔ 64کروڑ آبادی خواتین کی ہونے کے باوجود خواتین کا میدان عمل میں چند خواتین کا ہونا اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ خواتین کو ہر میدان میں دبا یا کچلا گیا ہے۔ لہذا ضرورت پڑی کہ خواتین کی نمائندگی کرنے والی ایک پارٹی کو لانچ کیا جائے۔ جو خود بھی بہبود کے راستے پر گامزن ہونگی اور تمام ہندستان بھر کی مفلس ومحتاج عوام کو ان کے حقوق بہتر طریقے سے پہنچا سکیں گی۔ دنیا اس حقیقت کو جانتی ہے کہ خاتون ایک بہن اور ماں کی کی شکل میں اپنے بچے ، بھائی اور باپ کے درد کواور اپنی ماں بہن ودیگر کنبہ قبیلے کے درد کو محسوس کر سکتی ہے۔خواتین کیلئے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ ایک گھر ، اسکول اور تمام نظام حیات کی طرح معاشرے کو بھی بہتر طریقے سے چلا سکتی ہے۔

About the author

Taasir Newspaper