آج کا شماره | اردو | हिन्दी | English
Sports

افریقہ میں کامیاب آغاز کے لئے اتریں گے ہندوستانی شیر

india
Written by Taasir Newspaper

کیپ ٹان، 04 جنوری (یو این آئی) مسلسل نو سیریز جیتنے کے عالمی ریکارڈ کی برابری کر چکے وراٹ کوہلی کے ہندستانی شیر جنوبی افریقہ سفاری کے جمعہ سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں جیت کی دہاڑ لگانے کے ارادے سے اتریں گے ۔ دنیا کی نمبر ایک ٹیم ہندستان اور نمبر دو ٹیم جنوبی افریقہ کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ سے تین ٹسٹ میچوں کی سیریز کے نتائج کی سمت طے ہوگی۔ہندستان نے گزشتہ ماہ سری لنکا کو تین میچوں کی سیریز میں 1۔0 سے شکست دے کر اپنی لگاتار نویں ٹیسٹ سیریز جیت حاصل کی تھی اور آسٹریلیا کے عالمی ریکارڈ کی برابری کی تھی۔ ہندستان اگر یہ سیریز جیت جاتا ہے تو وہ نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دے گا۔اگرچہ یہ کام بہت مشکل ہے کیونکہ ہندستان جنوبی افریقہ کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد گزشتہ 25 سال میں جنوبی افریقہ میں کبھی کوئی سیریز نہیں جیت پایا، لیکن وراٹ سینا میں وہ عزم ظاہر ہوتا ہے جو تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے ۔ جنوبی افریقہ اپنے گھر میں انتہائی مضبوط ٹیم ہے اور اپنے بلے بازوں اور تیز گیند بازوں کے دم پر وہ غیر ملکی ٹیم کی ناک میں دم کر دیتی ہے ۔ جنوبی افریقہ نے حال ہی میں زمبابوے کو چار روزہ دن رات ٹیسٹ میچ میں ڈیڑھ دن میں ہی اننگز سے نمٹا دیا تھا۔جنوبی افریقہ کی ٹیم کا سامنا اب ہندستانی شیروں سے ہونے جا رہا ہے جس کے پاس وراٹ جیسا جوشیلا کپتان اور آخری وقت تک لڑنے والے کھلاڑیوں کی ایک ایسی ٹیم ہے جو جنوبی افریقہ کو اسی کی زبان میں جواب دے سکتی ہے ۔ کپتان وراٹ اور کوچ روی شاستری کے تعلقات نے ایک بار پھر سے جوڑی بننے کے بعد سے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ نئے سال کی شاندار شروعات کرنے کے ارادے سے اتریں گے ۔وراٹ کے سامنے چیلنج رہے گا کہ وہ ان ناقدین کو غلط ثابت کریں جو کہتے ہیں کہ ہندوستانی بلے باز غیر ملکی پچوں پر تیز گیند بازوں کے سامنے لڑکھڑا جاتے ہیں۔ ٹیم انڈیا کے لئے پہلا ٹیسٹ شروع ہونے سے پہلے اچھی خبر یہ ہے کہ بائیں ہاتھ کے اوپنر شکھر دھون اپنے ٹخنے کی چوٹ سے نکل چکے ہیں اور انہیں پہلے ٹیسٹ کے لئے فٹ قرار دے دیا گیا ہے ۔ابھی اوپننگ میں ہندستان کے پاس مرلی وجے ، شکھر اور لوکیش راہل کے طور پر تین متبادل ہیں۔تیسرے نمبر پر سدا بہار چتیشور پجارا اور چوتھے نمبر پر خود کپتان وراٹ موجود رہیں گے ۔ اس کے بعد نائب کپتان اجنکیا رہانے اور وکٹ کیپر ردھمان ساہا کا نمبر رہے گا۔آل را¶نڈر ہردک پانڈیا اپنی بلے بازی طاقت سے ٹیم کو توازن دیں گے اور ساتھ ہی چوتھے فاسٹ بولر کا کردار بھی ادا کریں گے ۔ واحد اسپنر کے طور پر آف اسپنر روی چندرن اشون رہیں گے ۔لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ گزشتہ دو دنوں سے وائرل مبتلا ہیں اور ان کی فٹ نیس اور میچ کھیلنے کے بارے میں جمعہ کو ٹیسٹ کی صبح ہی پتہ چلے گا۔اگرچہ جڈیجہ کے کھیلنے کا امکان کم ہی لگتا ہے ۔ ہندستانی ٹیم مینجمنٹ کے سامنے سب سے زیادہ تشویش کا موضوع تین تیز گیند بازوں کا انتخاب ہے ۔ہندوستان کے پاس اس ٹیم میں ایشانت شرما، بھونیشور کمار، محمد سمیع، امیش یادو اور جسپریت بمراہ کے طور پر پانچ فاسٹ بولر ہیں اور فارم کے لحاظ سے سب اس وقت ایک برابر ہیں۔ایشانت کے پاس سب سے زیادہ تجربہ ہے جبکہ بھونیشور رفتار کے ساتھ گیند کو سوئنگ کرنے میں استاد ہیں۔سمیع اور یادو دونوں کے پاس رفتار ہے جبکہ یارکرمین بمراہ کو ٹیسٹ ڈیبو کرنا ہے ۔ ہندوستان کے پاس جنوبی افریقہ کے تیز حملے کا مقابلہ کرنے لئے تمام ہتھیار موجود ہیں۔یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بمراہ کو ڈیبو کا موقع مل پاتا ہے یا نہیں۔ جنوبی افریقہ چاہے جو بھی دعوی کرے لیکن اسے معلوم ہے کہ اس کے سامنے جو ٹیم ہے وہ زمبابوے نہیں ہے بلکہ دنیا کی نمبر ایک ٹیم ہے ۔ٹیم کی بلے بازی سب سے تجربہ کار ہاشم آملہ، اوپنروں ڈین ایلگر ر ایڈن مارکرم، وراٹ کی ٹکر کے کرشمائی بلے باز اے بی ڈی ولیرس اور کپتان فاف ڈو پلیسس پر انحصار کرے گی۔ٹیم کے واحد اسپنر لیفٹ آرم اسپنر کیشو مہاراج ہیں جن کی حالیہ کارکردگی کافی اچھی رہی ہے ۔ میزبان ٹیم کی سب سے زیادہ امیدیں اس کے تیز گیند بازوں پر ٹکی ہیں۔مورن مورکل، کیگسو ربادا، ورنون فلینڈر اور واپسی کرنے والے ڈیل اسٹین کے ساتھ ساتھ تھیونس ڈی بریون اور فھلکوایو میں مورکل، ربادا اور فلینڈر کا آخری الیون میں جگہ پکی ہیں اور چوتھے فاسٹ بولر کے لئے اسٹین کو دیگر دو تیز گیند بازوں کے ساتھ مقابلہ ہے ۔فلینڈر ویسے بھی ہندوستانی چیلنج کو مسترد کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ہندستانی ٹیم زیادہ تر اپنے گھر میں کھیلی ہے اور اب اس کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے اس کی زمین پر ہے جہاں اسے آٹے دال کا حساب پتہ چل جائے گا۔ نیو لینڈس کے اس میدان پر جنوبی افریقہ ہندستان کو وہی پچ دینا پسند کرے گا جہاں اس نے 2011 میں آسٹریلوی ٹیم کو آٹھ وکٹ سے ہرایا تھا۔تیز گیند بازوں کی جنت مانے جانے والی اس پچ پر اس ٹیسٹ میں گرے تمام 31 وکٹ تیز گیند بازوں نے جھٹکے تھے ۔آسٹریلوی بلے بازی دوسری اننگز میں صرف 47 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔فلینڈر نے پانچ اور مورکل نے تین وکٹ لئے تھے ۔ دونوں ہی ٹیموں کے پاس اچھے تیز گیند باز ہیں تاہم اس معاملے میں پلڑا جنوبی افریقہ کا بھاری ہے لیکن جیت سے شروعات اسی ٹیم کی ہوگی جس کے کھلاڑی جذبہ دکھائیں گے ۔

About the author

Taasir Newspaper